امت نیوز ڈیسک //
شوپیاں: چودھری گنڈ شوپیاں میں 15 اکتوبر کو ایک کشمیری پنڈت پورن کرشن بھٹ کو نامعلوم بندوق برداروں نے گولیاں چلا کر ہلاک کردیا تھا ۔ اس حوالے سے پولیس نے کیس درج کرکے تحقیقات تحقیقات شروع کردی وہیں آج پولیس کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں اس حملے میں ملوچ افراد کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔
کشمیری پنڈت کی ہلاکت میں ملوث شخص کی نشاندہی، پولیسپولیس نے اپنے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ 15 اکتوبر کو چودھری گنڈ شوپیاں میں ایک کشمیری پنڈت شری پورن کرشن بٹ کا عسکریت ہسندوں کے ہاتھوں قتل سے متعلق پولیس اسٹیشن شوپیاں میں ایف آئی آر نمبر 211/2022 کی تحقیقات کے دوران پولیس نے اس حملے میں ملوث افراد کی نشاندہی کی ہے ۔ پولیس کے مطابق اس حملے میں ملوث لطیف احمد لون ولد نثار احمد لون ساکن چک کچہ ڈورہ ملوث تھا۔پولیس کے مطابق مذکورہ افراد 12 اکتوبر 2022 سے ہی گھر سے لاپتہ ہے اور مذکورہ ملزم کے بارے میں پولیس کو جانکاری دینے والے شخص کو انعام سے نوازا جائے گا ۔
بتادیں کہ 43 سالہ کشمیری پنڈتپورن کرشن بٹ ولد تارک ناتھ بٹ ساکن چودھری گنڈ، کو 15 اکتوبر کو مشتبہ عسکریت پسندوں نے فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیاا۔ اگرچہ واقعہ کے فوراً بعد پورن کرشن کو ضلع ہسپتال شوپیاں پہنچایا گیا تاہم وہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر فوت ہو گیا۔
چودھری گنڈ، جو ضلع ہیڈکوارٹر شوپیاں سے قریب 8 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے میں 90 کی دہائی میں کئی کشمیری پنڈت مقیم تھے۔ جب وادی کشمیر میں حالات خراب ہوگئے تو 1990 کی دہائی کے اوائل میں کشمیری پنڈتوں نے وادی کشمیر سے ہجرت کرکے جموں، دہلی اور ملک کے کچھ دوسرے حصوں میں آباد ہوئے تاہم بعض کشمیری پنڈت کنبوں نے کشمیر میں ہی سکونت اختیار کرنے کو ترجیح دی۔ چودھری گنڈ میں بھی کئی کشمیری پنڈت مقیم تھے تاہم حالات ناسازگار ہونے کے بعد یہاں صرف 9 کشمیری پنڈت کنبے رہائش پذیر ہیں اور پورن کرشن کی ہلاکے کے بعد وہ بھی جموں چلے گئے۔








