شادی جس کا لغوی معنی خوشی تو ہے لیکن خوشی کا ہر حرف اس پر فیکٹ میچنگ میں اس طرح پس جاتا ہے کہ بس لوگوں کو دکھانے کے لیے خوشی کے کچھ بے سود ذرے رہ جاتے ہیں۔
لڑکی کے شرائط
عمر 25 سال سے کم، رنگ گورا،لمبا قد، خوبصورت جسم، تعلیمی قابلیت ایم بی بی ایس،پوسٹ گریجویٹ، خواہش شادی کے بعد نوکری نہیں کرے گی، مشغلہ صرف اور صرف کھانا بنانا اور کھلانا۔
لڑکے کے لئے شرائط
اپنا گھر، پرو فیشنل ڈگری، لاکھوں میں ایک نوکری، آزادنہ طرزِ زندگی۔
یہ ہیں وہ پرفیکٹ مصالحے جو ایک پرفیکٹ میچ میکنگ کو جنم دیتے ہیں اور ان میں سے ایک بھی مصالحہ کم ہوجائے تو پرفیکٹ میچ میکنگ کا ذائقہ خراب سمجھا جاتا ہے، ہاں اسے اور مزیدار بنانے کے لیے مصالحے زیادہ کیے جا سکتے ہیں لیکن کم ہونا میچ میکنگ کی توہین ہے۔
رشتے ناطے سے شادی تک اسلام میں ابتدا سے ہی عام تھا کہ لڑکے والے، لڑکی کے والدین کو شادی کی نیت سے پیغام بھجوا تے تھے۔ آپسی گفتگو اور مشورے سے رشتے ناطے طے ہو جاتے تھے۔آج کل شادی کا یہ پہلا مرحلہ ہی بڑا خطرناک ہو چکا ہے۔ایک تو لڑکی کا ہر طرح سے امتحان لیا جاتا ہے۔ دوسرے ماں باپ کی دولت کا بھی اندازہ لگایا جاتا ہے۔ رنگ، قد، خوبصورتی، تعلیم، عمر، نوکری جیسے پیمانوں پر لڑکی اور لڑکے کو پرکھا جاتا ہے۔ ایک ایک لڑکے والے، ایک انداز ے کے مطابق کم از کم دس بارہ لڑکیوں کو تو ضرور فیل کرتے ہیں۔ لڑکی والوں کا اس سے بھی زیادہ خراب ریکارڈ ہے۔ لڑکے اور لڑکی والوں کو دیکھنے دکھانے میں مہمان نوازی اور آو بھگت پر آنے والا صرفہ بھی خاصا ہوتا ہے۔
اسلام جس نے ذات، برادری، حسب و نسب،اعلیٰ و ادنیٰ کے فرق کو ختم کرکے دنیا کو ایک ایسا طرزِ حیات دیا تھا، جس نے معاشرے میں نابرابری کو ختم کر کے مساوات کو فروغ دیا تھا۔عجیب ہے ! ہمارے کشمیر اور اس میں بسنے والے ہمارے اسلام کے پیروکار، بڑے بڑے عالم فاضل جو یہ دیکھنے کے قائل ہی نہیں کہ شادی جیسے مقدس رشتے کی پیوندکاری کتنے کچے دھاگوں سے ہورہی ہے، یہ کوئی نہیں سمجھ پا رہا کہ سماجی دباو اور سوشل اسٹیٹس کی کٹھ پتلی بن کر ہم کوئی بھی دھاگہ استعمال کرنے سے گریز نہیں کر رہے ہیں۔ سمجھ تب آتی ہے جب کچے دھاگوں سے بنے اس نئے رشتے کی سلائی مختصر وقت کے بعد اکڑ جاتی ہے۔۔۔
ظاہر سی بات ہے جن رشتوں کے بنانے میں رنگ و نسب امیری، خوبصورتی، لالچ، جھوٹ، خود غرضی، دکھاوا، بناوٹ، فریب اور چاپلوسی شامل ہو جائے وہ کتنے کھوکھلے ہوں گے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
یہ ہر گھر کی کہانی ہے کہ لڑکا ہو یا لڑکی عمر کے مخصوص حصے میں آتے ہی انھیں شادی کے لیے یا یوں کہیے کہ پرفیکٹ میچ میکنگ میں کامیاب کرانے کے لئے اپنی زندگی اپنی مرضی سے جینے کا لالی پاپ دینے والی سوسائٹی اپنے بنائے ہوئے پل صراط سے گزارتی ہے۔اور یہ لازم ہے کہ اگر پار لگنا ہے تو اسی پل صراط سے گزرنا پڑے گا۔ بس فرق اتنا ہے کہ جنس کے امتیاز سے اس پل کے سوالات مختلف ہوتے ہیں۔اگر لڑکی ہے تو اس کا خوبصورت ، خوش اخلاق، کمپرومایزنگ،نوکری کے شوق سے بری الزمہ، گھریلو، باورچی (جو پرفیکٹ گول روٹی بنا سکے) ہونا واجب ہے۔اب بات کر لیتے ہیں اس معاشرے میں مرد حضرات کی جنہیں پرفیکٹ میچنگ کا حصہ بنانے کے لیے ان سب اوپر بیان کردہ خصوصیات سے تو مبرا کر دیا جاتا ہے لیکن ان کے لیے بھی نئے کاغذ پر نئے سوالات ترتیب دیے جاتے ہیں۔کتنا کما لیتے ہو؟ کیا تنخواہ لاکھوں میں ہے؟ نوکری سرکاری ہے یا پرائیویٹ؟ گھر کتنی اراضی کا ہے؟ سواری کونسی ہے؟ شادی کے بعد علیحدہ رہو گے نہ؟
اُف !!! کیسے کیسے لوگ رہتے ہیں اس صدی میں۔اور کمال کی بات یہ ہے کہ ان سب طے شدہ سوالات کے جوابات صرف اور صرف گردن ہلانے یعنی ہاں میں ہی قابل قبول ہے۔
جوڑے آسمان پر بنتے ہیں اگر ایسا ہے تو زمین پر ان جوڑوں کی تلاش میں اتنی پیچیدگیاں کیوں؟ کیا جوڑے بنانے والے خدا نے ان کو بھی پیدا کیا ہے یا پرفیکٹ میچنگ جیسے معاشرے نے اس الجھاو¿ کو جنم دیا ہے؟شادی جیسے پاک رشتے میں کوئی برائی نہیں، دو لوگوں کا ایک دوسرے سے پاکیزگی کے ساتھ عمر بھر کے لیے ناطہ جوڑنا اور نئی نسل کو پروان چڑھانا ایک خوبصورت اور حسبِ اطمینان سانچہ ہو سکتا ہے لیکن سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کیوں اس سانچے کو، اس خوبصورت رشتے کو بے مطلب رنگوں سے بدنما بنایا جارہا ہے اور جن ضروری رنگوں کا عکس (مطابقت،مفاہمت عزت، احترام، احساس ذمہ داری، برابری، پیار، محبت، رضا مندی، اپنائیت) چھلکنا چاہیے انہیں مٹایا جا رہا ہے۔
افسوس ہے کہ شادی جس کا لغوی معنی خوشی تو ہے لیکن خوشی کا ہر حرف اس پر فیکٹ میچنگ میں اس طرح پس جاتا ہے کہ بس لوگوں کو دکھانے کے لیے خوشی کے کچھ بے سود ذرے رہ جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اب ہمارا معاشرا صرف لو یا ارینج میرج کا بندوبست نہیں کرتا بلکہ یہاں ان دو طرح کی شادیوں کے علاوہ ہر طرح کی شادی پائی جاتی ہے۔جیسے!!!
٭عمر نکل جانے والی شادی
٭جیسے آپ کو ٹھیک لگتا ہے ویسے ہونے والی شادی
٭ہماری عزت کا سوال ہے والی شادی
٭ابھی نہیں کرو گے تو کب کرو گے والی شادی
٭ماں باپ کی ذمہ داری پوری کرنے والی شادی
٭معاشرے میں عزت برقرار رکھنے والی شادی
٭بس تیری شادی دیکھ کر پوتے کا منہ دیکھنے والی شادی
٭خاندانوں کے درمیان رشتہ بنانے والی شادی
٭ذات پات کو فروغ دینے والی شادی
٭صرف بچوں کے لئے ہونے والی شادی
یہ موضوع اتنا وسیع ہے کہ لکھنے کو تو ابھی بہت کچھ ہے لیکن بس اختتام اس سوال کے ساتھ کرنا چاہوں گا کہ نام پرفیکٹ میچنگ جیسی دقیانوسی کو ختم کیا جاسکتا ہے؟
ابھی بھی ہمارا معاشرہ شادی جیسے مضبوط بندھن کی اصل تعریف سمجھنے سے قاصر ہے ابھی بھی اس رشتے کو جوڑتے وقت یہ دیکھا جاتا ہے کہ کس کا پلڑا بھاری ہے اور بھاری پلڑے کے ساتھ کون سربراہی سنبھالے کا اثر و رسوخ رکھتا ہے۔قابل افسوس ہے کہ اس رشتے میں برابری کے قائل ہم نہ پہلے تھے اور نہ شاید ہونے کو تیار ہیں۔








