امت نیوز ڈیسک //
سری نگر // نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے بدھ کے روز کہا کہ اگر جموں و کشمیر میں حالات معمول پر آنے کے دعوے درست ہیں تو مر کز کو جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کرانے چاہئے۔ عبداللہ ، جو سری نگر سے لوک سبھا کے رکن ہیں، نے بھی مرکزی حکومت پر جموں و کشمیر کے ریاستی درجہ کی بحالی کے معاملے پر لوگوں کے ساتھ ایک چال چلنے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے کہا، "وہ (مرکز) ریاست کا درجہ بحال نہیں کرنا چاہتے۔ یہ سب ہمیں اور دنیا کو گمراہ کرنے کی چال ہے۔ وہ نہیں دیں گے”۔ عبد اللہ نے سوالیہ انداز میں کہا، ”سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت ہند کہہ رہی ہے کہ جموں و کشمیر میں حالات معمول پر ہیں۔ حد بندی کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔ اگر ہر جگہ انتخابات ہوتے ہیں تو جموں و کشمیر میں کیوں نہیں ؟۔ انہوں نے کہا کہ مرکز نے لیفٹیننٹ گورنر کو ہر چیز کا ماسٹر ” بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں تعینات ایل جی ہر چیز کا مالک بن گیا ہے۔
انتظامیہ کی جانب سے پراپرٹی ٹیکس کے نفاذ جیسے نئے قوانین کو نافذ کرنے کے نئے احکامات جاری کرنے کے بارے میں پوچھے جانے پر عبد اللہ نے کہا کہ اب اس سے لوگوں کو کوئی پریشانی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا، وہ حکم کے بعد آرڈر جاری کر رہے ہیں۔ اس کا اب ہم پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ غلام قوم کیا کر سکتی ہے ؟ ہم خاموش تماشائی ہیں”۔ مسماری مہم کو روکنے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں، این سی صدر نے کہا، "یہ (مسمار کرنے کی مہم ایک بہت غلط اقدام تھا۔ انہوں نے مزید کہا، ” خدا جانے ان کی پالیسی کیا ہے! پہلے غریبوں کے گھر گرائے۔ جب یہ گھر بنائے گئے تو انہیں کیوں نہیں روکا؟ انہوں نے (لوگوں) نے بنکوں سے قرضے لیے اور سب کچھ ہو جانے کے بعد وہ ( مکانات ) گرائے گئے۔ یہ کیسے ممکن ہوا؟ کسی چیز کو گرانا آسان ہے لیکن کسی چیز کو بنانا مشکل ہے۔ وہ غلط تھے ۔ قومی سیاست پر ، عبد اللہ نے کہا کہ بھارت کو ہندوراشٹر “ کے طور پر قائم نہیں کیا گیا جیسا کہ کچھ دائیں بازو کے گروپوں نے مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا، "میں (ہندو) راشٹر وغیرہ کو نہیں جانتا۔ میں جانتا ہوں کہ یہ قوم تنوع میں اتحاد کے اصول پر بنی تھی۔ تمل ناڈو، ان کی ثقافت ، موسم وغیرہ کو دیکھیں اور پھر کشمیر سے موازنہ کریں۔ ہم بالکل مختلف ہیں۔ آسام اور مہاراشٹر کو دیکھ لیں۔ وہ کیا تھا جس نے ہمیں متحد کیا ؟ یہ خواہش تھی کہ قوم کو ساتھ لے کر آگے بڑھیں اور عوام کی مشکلات کو دور کریں۔ چین کے ساتھ تعلقات پر عبد اللہ نے کہا کہ بظاہر کوئی غلط بات نہیں ہے کیونکہ بیجنگ کے ساتھ تجارت جاری ہے۔ چین کے ساتھ ہندوستان کے اچھے تعلقات ہیں۔ میں نے کوئی ناگوار بات نہیں سنی۔ تجارت آج بھی آسانی سے جاری ہے ۔











