• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
منگل, جنوری ۲۷, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
ترک معیشت کو سنبھالنے کے لیے طیب اردوان کا فیصلہ کتنا اچھا؟ کتنا بُرا؟

ترک معیشت کو سنبھالنے کے لیے طیب اردوان کا فیصلہ کتنا اچھا؟ کتنا بُرا؟

غلام اصغر ساجد

by امت ڈیسک
22/12/2021
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

ترکی کی معیشت اور اس معاملے میں صدر طیب اردوان کی شخصیت اور نظریہ اس وقت عالمی سطح پر موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ یہ وہی اردوان تھے جنہوں نے 2002ء کے بعد یورپ کے مرد بیمار کو دنیا کی 20 بڑی معاشی طاقتوں میں لاکھڑا کیا، لیکن اب یہ کہا جا رہا ہے کہ انہی کے نظریات کی وجہ سے آج ترکش کرنسی دنیا کی کمزور ترین کرنسی بن چکی ہے۔

ترک صدر دراصل مابعد کورونا معاشی صورتحال میں ایک بار پھر پُرعزم ہوگئے ہیں کہ وہ شرح سود کو کم سے کم درجے پر لائیں گے۔ نظریاتی طور پر یہ ان کا فارمولا ہے کہ سود وجہ ہے اور مہنگائی حاصل ہے۔ گزشتہ 2 ماہ میں انہوں نے اپنا یہ فارمولا بار بار دوہرایا ہے اور مارکیٹ نے ردِعمل دیتے ہوئے کرنسی کو دن رات گرایا ہے۔ حتیٰ کہ صرف ایک دن قبل ڈالر کے مقابلے میں لیرا کی قیمت ساڑھے 18 پر پہنچ گئی تھی۔ سیاسی پنڈت یہ دعویٰ کرتے نظر آرہے تھے کہ اب صدر اردوان کے خلاف صرف مارکیٹ ہی ردِعمل ظاہر نہیں کرے گی بلکہ اب عوامی ردِعمل بھی اٹھنے کو ہے جو قبل از وقت انتخابات کی وجہ نہ بھی بن سکا تو 2023ء میں صدر اردوان کا سورج ڈوبو دے گا۔

کرنسی ایکسچینج کے ترکی پر اثرات

ترکی میں کسی بھی غیر ملکی کرنسی میں بینک اکاؤنٹ کھولنا اس قدر آسان ہے کہ آپ موبائل اپیلیکشن کی مدد سے اسی وقت اپنی رقم اپنی من پسند کرنسی میں محفوظ کرسکتے ہیں۔ ترکش لیرا کو کمزور ہوتے دیکھ کر عام ترکوں نے بھی اپنی بچت ڈالر میں تبدیل کرلیں جبکہ کرنسی ایکسچینج سے منافع کمانے کی دوڑ میں بھی کئی ترک اور غیر ملکی شامل تھے۔ اس وجہ سے بھی ڈالر کی مانگ اور قیمت میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

دوسری طرف ڈالر کی قیمت کے مقامی مارکیٹ پر بھی منفی اثرات پڑ رہے تھے، ہر چیز کی قیمت ڈالر کی قیمت سے نتھی کرکے بڑھایا جا رہا تھا اور مہنگائی آسمانوں کو چُھونے لگی جبکہ عام زندگی شدید مشکلات کا شکار تھی۔ یہی نہیں بلکہ ترک فیکٹریوں کو بھی درآمدی قیمت تعین کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔ عالمی خریداریاں بھی کئی اداروں نے روک رکھی تھیں کیونکہ کرنسی میں صبح شام اتار چڑھاو دیکھنے کو مل رہا تھا۔

اردوان کا نیا معاشی ’ٹول‘

اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے ترک صدر اردوان نے پیر کے روز کابینہ میٹنگ میں ایک فیصلہ کیا اور وہ فیصلہ شام اپنی پریس کانفرنس میں عوام کو سنایا۔ اس ٹول کے مطابق اگر عام ترک اپنی بچت یا سرمایہ کار اپنے غیر ملکی زرِمبادلہ کو لیرا میں بدلوا کر انہیں طے شدہ عرصے کے لیے بچت اکاؤنٹ میں رکھتے ہیں تو حکومت ضمانت دیتی ہے کہ انہیں فوریکس مارکیٹ جتنا منافع ہی ملے گا۔ اگر فوریکس مارکیٹ سرکار کی طے شدہ شرح سود سے کم ہوجائے تب بھی سرمایہ کاروں کو حکومت کی جانب سے منافع دیا جائے گا۔

Turkiye's President Recep Tayyip Erdogan announces series of new economic measures, promising citizens who keep their savings in Turkish lira more support pic.twitter.com/YjS3V4ocrX

— TRT World Now (@TRTWorldNow) December 20, 2021

اس فیصلے کے سامنے آتے ہی لوگوں نے اپنے محفوظ کیے گئے ڈالر بیچنا شروع کردیے۔ اس میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو اس نئے ٹول سے فائدہ اٹھانا چاہتے تھے اور وہ بھی جو ڈالر کو گرتے دیکھ کر اپنا کرنسی ایکسچینج منافع گرتا دیکھ رہے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک ہی رات میں ایک ارب ڈالر، واپس ترکش لیرا میں بدل دیا گیا جس کی وجہ سے ترکش لیرا جو ساڑھے 18 پر تھا، وہ 12 پر آگیا۔

سوشل میڈیا پر اردوان کے اس نئے ٹول کو ’ترکوڈالر‘ کا نام دیا گیا۔ جس نے بظاہر صورتحال کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ 1987ء کے بعد ترکش لیرا اس قدر تیزی کے ساتھ پہلی بار مضبوط ہوا تھا۔ عوامی سطح پر ایک بار پھر اردوان کی حمایت پیدا ہوئی اور لوگ سڑکوں پر آکر رقص کرنے لگے۔ حکومت مخالف ٹیلی ویژن اینکرز اسکرین پر ہکا بکا رہ گئے، اپوزیشن نے اسے کسی سازش کا نام دیا۔ بہرحال اردوان نے اپنے نئی معاشی ٹول کو لاگو کردیا۔

It was party time in Turkey last night after the comeback of the Turkish #lira ₺ pic.twitter.com/F1FKvZirCH

— de Jonge Turken (@deJongeTurken) December 21, 2021

کیا یہ ’اردوانومکس‘ ہے؟

ترکی اور عالمی سطح پر کئی لوگ اس پر حیران تھے کہ آخر یہ ٹول ہے کیا؟ کیا یہ اردوان کی تخلیق ہے؟ سوشل میڈیا پر ایک معروف صحافی نے اسے اردوانومکس کی اصطلاح دی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ خود ترکی میں یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق یہ ٹول 1970ء کی دہائی میں غیر ملکی زرِمبادلہ کے بہاؤ کو حاصل کرنے کے لیے آزمایا گیا تھا، خاص طور پر بیرونِ ملک مقیم ترک شہریوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے۔ اس وقت اسے ’کنورٹیبل ترک لیرا ڈپازٹس‘ (CTLDs) کہا گیا تھا۔ لیکن بالآخر یہ اسکیم مقامی بینکوں کی جانب سے قرضوں میں زبردست اضافے کا باعث بنی اور افراطِ زر کی ایک نئی لہر پیدا ہوئی۔ اس سے خزانے پر غیر معمولی بوجھ پڑا اور بالآخر 1978ء میں اس اسکیم کا خاتمہ کردیا گیا لیکن تب تک یہ 2 ارب 50 کروڑ ڈالرز کا قرضہ چڑھا چکی تھی۔

Erdoganomics;

• Interest Rate Corridor
• Late night liquidity
• Turkish Dollar / FX denominated investment tool

— Ragıp Soylu (@ragipsoylu) December 20, 2021

ذرائع کے مطابق حال ہی میں استعفیٰ دینے والے ترک وزیرِ خزانہ لطفی ایلوان نے بھی لیرا کی قدر میں زبردست کمی کے باوجود رواں سال اس خیال کی مخالفت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ اسکیم قابو سے باہر ہوگئی تو ترک حکومت کے مالی معاملات کو زبردست ٹھیس پہنچے گی اور فوریکس بحران مزید بڑھ جائے گا۔ اس کے علاوہ ایلوان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس اسکیم سے دولت کی منتقلی معاشرے کے زیادہ آمدنی رکھنے والے طبقات میں ہوگی کیونکہ سرمایہ کاری کے قابل بھی زیادہ تر وہی ہیں اور انہی کو دوسروں کے مقابلے میں بہتر نفع حاصل ہوگا۔

تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ لوگوں کی بچت اور منافع خوروں کی وجہ سے ڈالر کی بڑھتی مانگ کو روک کر کرنسی ریٹ کے مصنوعی چڑھاؤ کا سدِباب کردیا گیا ہے کیونکہ یہ ٹول بنیادی طور پر غیر ملکی زرِ مبادلہ کی مد میں سرمایہ رکھنے سے متعلق عام ترکوں اور سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے اور لیرا خریدنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قومی خزانے پر اس کا دباؤ کم کرنے کے لیے یہ ٹول 3، 6، 9 اور 12 ماہ کے دورانیے کے لیے ہوگا اور ان مقررہ دورانیوں سے پہلے بچت اکاؤنٹ سے رقم نکلوانے والوں کو بطور سزا کم منافع ملے گا۔

پرانی شراب، نئی بوتل؟

کئی ترک معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نیا طریقہ دراصل شرح سود میں غیر اعلانیہ اضافہ ہے کیونکہ افراطِ زر کے ساتھ فرق کو خزانے سے ادا کیا جانا ہے۔ معروف ماہرِ معیشت رفعت گرقائنق کا کہنا ہے کہ ’دراصل حکومت نے بغیر کسی اعلان کے شرح سود میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے‘۔

کچھ یہی الفاظ دوسرے ماہرِ معیشت مخفی ایغلمز کے ہیں، جو کہتے ہیں کہ ’اگر شرح تبادلہ 40 فیصد بڑھتی ہے اور شرح سود 14 فیصد ہو تو باقی ماندہ 26 فیصد قومی خزانے کو ادا کرنا ہوگا اور یہ شرح سود بھی نہیں کہلائے گا۔ ہے نا حیرانی کی بات؟‘

علاوہ ازیں اس نئے ٹول کے حوالے سے چند خدشات یہ بھی ہیں کہ اس سے افراطِ زر بلند ترین سطح پر پہنچ جائے گی کیونکہ مارکیٹ میں لانے کے لیے مزید لیرا کی ضرورت ہوگی۔

اردوان کے اس نئے معاشی ٹول کا مختلف مثبت اور منفی پہلوؤں سے جائزہ تو لیا جاتا رہے گا اور بہت کچھ وقت بھی ثابت کردے گا تاہم ترکش کرنسی کو کسی حد تک محفوظ بنا لیا گیا ہے، ترک معیشت کو اس گرواٹ کے علاوہ کسی منفی اشاریے کا سامنا فی الحال نہیں تھا۔

ترکی اس وقت دنیا میں تیزی سے اقتصادی ترقی کرنے والے ممالک میں سرِفہرست ہے۔ آئی ایم ایف، اسٹینڈرڈ اینڈ پورز، موڈیز، آئی ایم ایف اور اقوامِ متحدہ کے مطابق ترکی 2022ء-2021ء میں دنیا میں سب سے زیادہ سرعت سے ترقی کرنے والا ملک ہے۔

ترکی کا اس وقت تجارتی حجم گزشتہ سال کے مقابلے میں 27.47 فیصد بڑھتے ہوئے 400 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے اور برآمدات میں نیا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے 250 ارب ڈالر کے لگ بھگ آمدنی حاصل کی جاچکی ہے جبکہ دفاعی صنعت میں ترکی نے پہلے 11 ماہ میں 2 ارب 8 کروڑ ڈالر اور سیاحت کے شعبے سے کورونا کی وجہ سے مختلف پابندیاں ہونے کے باوجود 20 ارب ڈالر کی آمدنی حاصل کی جبکہ آئندہ سال 5 کروڑ سیاحوں کی آمد سے 40 ارب ڈالر کی آمدنی کی توقع ہے۔

(ڈان نیوز)

 

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

بجبہاڑہ میں مشتبہ عسکریت پسندوں کے حملے میں پولیس اے ایس آئی ہلاک

Next Post

کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں برف باری, میدانی علاقوں میں بارش

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

جموں وکشمیر میں ایل جی سے 5 سال کے بعد محبوبہ مفتی نے کی ملاقات، کشمیری پنڈتوں کے لئے کیا یہ بڑا مطالبہ

’’تجربات کو جھٹلانے سے حقیقت نہیں بدلتی…‘‘، اے آر رحمان تنازع پر محبوبہ مفتی کا بیان

18/01/2026
جموں کی علیحدگی کا مطالبہ: جموں و کشمیر کی سیاست ایک نئے موڈ پر

جموں کی علیحدگی کا مطالبہ: جموں و کشمیر کی سیاست ایک نئے موڈ پر

16/01/2026
این ایم سی نے شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کی منظوری منسوخ کر دی، طلباء کو دوسرے اداروں میں شفٹ کیا جائے گا

شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل داخلہ معاملہ: "سانپ بھی مرا اور لاٹھی بھی ٹوٹی”

09/01/2026
گلفام بارجی!  اداکاری سے شاعری تک

گلفام بارجی! اداکاری سے شاعری تک

02/01/2026
قومی شاہراہ، جس نے میوہ صنعت کی کمر توڑ دی!

سال 2025: کشمیر کی میوہ صنعت کے لیے بدترین سال

02/01/2026
کتھ باتھ سے  گل بات تک: کیا نوجوانوں کے مسائل کے زریعے ساکھ بحال کرنے کی کوشش؟؟

کتھ باتھ سے گل بات تک: کیا نوجوانوں کے مسائل کے زریعے ساکھ بحال کرنے کی کوشش؟؟

26/12/2025
Next Post
23 سے 25 دسمبر تک بھاری برف باری کا امکان: محکمہ موسمیات

کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں برف باری, میدانی علاقوں میں بارش

پلوامہ میں 5 کلو وزنی آئی ای ڈی بر آمد: پولیس

پلوامہ میں 5 کلو وزنی آئی ای ڈی بر آمد: پولیس

امریکا میں بھی کرونا فنڈ میں اربوں ڈالر کا فراڈ

امریکا میں بھی کرونا فنڈ میں اربوں ڈالر کا فراڈ

ملائیشیا: سیلاب سے 27افراد ہلاک، 70ہزار بے گھر

ملائیشیا: سیلاب سے 27افراد ہلاک، 70ہزار بے گھر

حد بندی کمیشن کی رپورٹ کے خلاف 29 دسمبر کو خاموش احتجاج کریں گے: جموں وکشمیر اپنی پارٹی

حد بندی کمیشن کی رپورٹ کے خلاف 29 دسمبر کو خاموش احتجاج کریں گے: جموں وکشمیر اپنی پارٹی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »