(سرینگر) پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس کے ایک ملزم کو پنجاب ہائی کورٹ کی طرف سے ضمانت منظور ہونے اس کی بقیہ سزا معطل کرنے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں انصاف کا نظام زمین بوس ہوگیا ہے۔ یاد رہے میڈیا رپورٹس کے مطابق پنجاب اور ہریانہ کے ہائی کورٹ نے کٹھوعہ عصمت دری اور قتل کیس کے ایک ملزم آنند دتا کی ضمانت منظور کی ہے اور اس کی بقیہ جیل کی سزا معطل کی ہے۔ آنند دتا جو اس وقت متعلقہ پولیس اسٹیشن میں ایس یچ او کی حیثیت سے تعینات تھا، پر شواہد کو تباہ کرنے کا الزام تھا۔ محبوبہ مفتی نے اس پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا: ’میں اس بات پر بہت ہی پریشان ہوں کہ کٹھوعہ عصمت دری اور قتل کیس میں ثبوتوں کو تباہ کرنے کے جرم میں سزا یافتہ ایک پولیس افسر کی ضمانت منظور کی گئی اور اس کی جیل کی سزا معطل کی گئی‘۔ انہوں نے ٹویٹ میں مزید کہا: ’جب ایک بچی کی عصمت دری و قتل کے بعد اس کو انصاف سے محروم رکھا جاتا ہے تو اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انصاف کا نظام زمین بوس ہوگیا ہے‘۔
Perturbed that the policeman convicted for destroying evidence in Kathua rape case was granted bail & his jail term suspended. When a child raped & bludgeoned to death is deprived of justice, it becomes obvious that the wheels of justice have completely collapsed. https://t.co/hlCPyDaeBu
— Mehbooba Mufti (@MehboobaMufti) December 25, 2021
خیال رہے ضلع کٹھوعہ کے رسانہ گاﺅں میں جنوری 2019 میں ایک آٹھ سالہ کمسن بچی کی وحشیانہ عصمت دری اور قتل کا ایک انتہائی انسانیت سز واقعہ سامنے آیا تھا۔ جون 2019 میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج پٹھان کوٹ ڈاکٹر تجویندر سنگھ نے اس واقعہ کے منصوبہ ساز و سابق سرکاری افسر سانجی رام، پرویش کمار اور ایس پی او دیپک کھجوریہ کو تاحیات قید کی سزا جبکہ دیگر تین بشمول ایس پی او سریندر کمار، سب انسپکٹر آنند دتا اور ہیڈ کانسٹیبل تلک راج کو پانچ پانچ سال قید کی سزا سنائی تھی۔ جج موصوف نے سانجی رام کے بیٹے وشال جنگوترا کو ٹھوس شواہد کی عدم موجودگی کی بناء پر بری کردیا تھا۔











