امت نیوز ڈیسک //
سری نگر انتظامیہ نے ضلع میں قایم ایک یتیم خانے سے کم از کم اٹھارہ بچوں کے مبینہ طور پر لاپتہ ہونے کی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔ نیوز ایجنسی کشمیر اسکرول کے مطابق ضلعی انتظامیہ کے عہدیداروں نے کہا کہ سری نگر کے بیمینہ میں ایک یتیم خانے سے اٹھارہ کم سن بچوں کے لاپتہ ہونے کے بارے میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبریں غلط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "یتیم خانہ دراصل ہمدانیہ کالونی، بمنہ میں منتقل ہو گیا ہے۔
اس سے قبل چائلڈ ویلفیئر کمیٹی (سی ڈبلیو سی) نے دعوی کیا تھا کہ ہوئے کہا کہ سری نگر کے ایک یتیم خانے سے 18 بچے لاپتہ ہیں۔اسکے بعد ایس ڈی ایم سری نگر نے کارروائی کرتے ہوئے غیر رجسٹرڈ شدہ یتیم خانہ المسکین یتیم ٹرسٹ کو سیل کر دیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چائلد ویلفئر کمیٹی کی چیئرپرسن ڈاکٹر خیر النساء نے انکشاف کیا تھا کہ کمیٹی نے قبل ازیں نند ریشی کالونی بمنہ میں واقع المسکین یتیم ٹرسٹ کا دورہ کیا تھا اور ٹرسٹ کے سربراہ پر زور دیا تھا کہ وہ جووینائل جسٹس ایکٹ (جے جے اے) کے تحت رجسٹر ہوں۔ ٹرسٹ کو ایک ماہ کی توسیع دینے کے باوجود، ٹرسٹ کا سربراہ رجسٹریشن کی شرط کو پورا کرنے میں ناکام رہا۔ انہوں نے مزید دعوی کیا تھا کہ اس سے اٹھا رہ بچے لاپتہ ہیں۔
تاہم اسکے بعد ایک مقامی شخص نے اسکی تردید کرتے ہوئے کہا کہ بچے لاپتہ نہیں ہوئے بلکہ ہمدانیہ کالونی بمنہ منتقل کیے گئے ہیں۔










