امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: وادی کشمیر میں تین ماہ کی طویل سرمائی تعطیل کے بعد جمعرات کو سرکاری و نجی اسکولوں میں دوبارہ درس و تدریس کا آغاز ہوگیا۔ اسکولوں میں پہلے دن طلبہ کا جوش و خروش قابل دید رہا، جبکہ اساتذہ و اسکولی عملہ نے انہیں خوش آمدید کہا۔
کشمیر میں تعلیمی ادارے یکم مارچ کو کھلنے والے تھے، لیکن خراب موسم کی وجہ سے تعطیل میں چھ دن کی توسیع کر دی گئی تھی۔ اسکول کھلنے سے قبل محکمہ تعلیم کی جانب سے بڑے پیمانے پر تیاریاں کی گئیں، جس کے تحت اسکولوں کی صفائی اور دیگر ضروری انتظامات مکمل کیے گئے۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس ماہ دسمبر میں ہی مر حلہ وار طریقوں پر سرمائی تعطیل کا اعلان کیا گیا تھا۔
طلبہ نے اسکول واپسی پر مسرت کا اظہار کیا اور اپنے دوستوں اور اساتذہ سے ملاقات کو خوش آئند قرار دیا۔ والدین بھی خوش نظر آئے، کیونکہ بچوں کی تعلیمی سرگرمیاں بحال ہو رہی ہیں۔ سہیل احمد نامی ایک شہری، جس کا بیٹا پہلی بار اسکول گیا، کا کہنا ہے: ’’یہ دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے کہ میرا بچہ آخرکار کلاس میں بیٹھا ہے۔‘‘
تاہم، اسکول کھلنے کے باوجود کئی مسائل درپیش ہیں۔ وادی میں درسی کتب کی شدید قلت ہے، کیونکہ محکمہ تعلیم اب تک تمام اسکولوں میں کتابوں کی تقسیم مکمل نہیں کر پایا ہے۔ حکام کے مطابق، جلد ہی یہ مسئلہ حل کر لیا جائے گا تاکہ طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔







