امت نیوز ڈیسک //
سرینگر : پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی سرینگر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اس وقت رو پڑی جب انہوں نے سرحد پر جاری کشیدگی کے بیچ شہری ہلاکتوں خاص کر بچوں کی اموات کا ذکر کیا۔ محبوبہ مفتی نے بھارت اور پاکستان کے بیچ بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے، تحمل کا مظاہرہ کرنے اور دونوں ممالک سے بات چیت کی اپیل کی۔ محبوبہ مفتی نے لائن آف کنٹرول پر ہو رہی شہری ہلاکتوں پر گہری تشویش ظاہر کی۔
پریس کانفرنس کے دوران محبوبہ مفتی نے پر نم آنکھوں کے ساتھ سوالیہ انداز میں کہا: ’’سرحدوں پر ہلاکتیں افسوسناک ہیں۔ ان معصوم بچوں کا کیا قصور ہے جو جان سے ہاتھ دھو بیٹھے؟ فوری تحمل اور بڑھتی کشیدگی کو کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے دانشمندی کا مظاہرہ کرنا از حد ضروری ہے۔‘‘
اس دوران محبوبہ مفتی جذباتی ہوئیں اور سوال کیا کہ ’’بے گناہوں کو کیوں مارا جا رہا ہے؟‘‘ انہوں نے خبردار کیا کہ تشدد کی موجودہ رفتار کے عالمی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’دونوں خطے بدحالی کے شکار ہیں۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو پوری دنیا افراتفری کی طرف گھسیٹ سکتی ہے۔‘‘ یاد رہے کہ بھارت اور پاکستان کے مابین کشیدگی اس وقت سنگین رک اختیار کر گئی جب بھارت نے ’’آپریشن سندور‘‘ کے تحت پاکستان اور پاکستانی زیر قبضہ کشمیر میں، دفاعی ترجمان کے مطابق، نو دہشت گرد ٹھکانوں پر حملہ کیا جس کے جواب میں پاکستان نے لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شدید گولہ باری شروع کی۔ بھارت کی جانب سے آپریشن سندور 22اپریل کو پہلگام میں ہوئے دہشت گرد حملے کے جواب میں کیا گیا جس میں ایک مقامی گھوڑے بان کے علاوہ 25سیاح مارے گئے۔
سرینگر میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران محبوبہ مفتی نے ماضی کے واقعات کو یاد کرتے ہوئے کہا: ’’پلوامہ کے بعد، ہم سب نے دیکھا کہ کیا ہوا، اب پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد دونوں ممالک جنگ کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔‘‘ اس صورتحال سے مقامی آبادی کے مصائب کو اجاگر کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ نے مزید کہا: ’’یہ جموں و کشمیر کے لوگ ہی ہیں جو درمیان میں پِس رہے ہیں، بھگت رہے ہیں، اگر ایٹمی تنازعہ چھڑ جاتا ہے تو جیت کا دعویٰ کرنے کے لیے کون زندہ بچ جائے گا؟‘‘
محبوبہ نے پریس کانفرنس کے اختتام پر دونوں ممالک سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا: ’’میں دونوں قوموں سے درخواست کرتی ہوں، براہ کرم اب رک جاؤ۔ جیو اور جینے دو جبکہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔‘‘








