امت نیوز ڈیسک //
جموں : جموں کشمیر کے سرحدی ضلع راجوری کے منجاکوٹ تحصیل میں کوٹلی پرن نامی گاؤں میں ایک پر اسرار بیماری نے خوف و ہراس پھیلا دیا ہے، جس کے نتیجے میں 35 شہری علیل ہو کر اسپتال میں داخل کرائے گئے ہیں۔ چند ماہ قبل راجوری کے ہی بڈہال علاقے میں پراسرار بیماری نے دہشت مچائی تھی جس کی بازگشت سے لوگ سہمے ہوئے ہیں۔
کوٹلی پرن گاؤں میں شہریوں کی علالت پر صحت عامہ کے عہدیداروں کا ابتدائی گمان آلودہ پانی ہے، جس کی بنیاد پر گاؤں کے تین کنوؤں سے پانی کے نمونے لے کر لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں۔ ادھر، ضلع انتظامیہ نے احتیاطی تدابیر کے تحت تمام مشکوک آبی ذرائع/ذخائر کو فوری طور پر سیل کر دیا ہے۔ ایک اعلیٰ طبی افسر نے بتایا کہ ’’متاثرہ افراد میں پیٹ درد، بخار، پانی کی کمی اور دست جیسی علامات پائی گئی ہیں، جو پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔‘‘
عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اسپتال میں داخل کیے گئے چار مریضوں کا ابتدائی علاج و معالجہ کیے جانے کے بعد انہیں مزید اور بہتر علاج کے لیے گورنمنٹ میڈیکل کالج راجوری منتقل کیا گیا ہے، حکام کا کہنا ہے کہ اسپتال داخل یے گئے باقی مریضوں کی حالت فی الحال مستحکم ہے۔
ادھر، حکام نے تین درجن کے قریب شہریوں کی علالت کی خبر موصول ہونے کے ساتھ ہی علاقے میں طبی ٹیم روانہ کی جنہوں نے گاؤں کا معائنہ کیا اور پانی کے نمونے حاصل کیے۔ محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ ’’مکمل تجزیے کے بعد ہی حتمی وجہ کا پتہ لگایا جا سکے گا، تاہم عوام کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔‘‘
یاد رہے کہ یہ واقعہ گزشتہ برس دسمبر 2024 سے جنوری 2025 کے درمیان راجوری کے ہی بڈحال نامی گاؤں میں پیش آئے سانحے کی یاد دلاتا ہے، جہاں 50 دنوں کے اندر ایک پراسرار بیماری کے باعث 17 افراد، جن میں 13 بچے شامل تھے، ہلاک ہو گئے تھے۔ اس وقت پورے گاؤں کو ’’کنٹرول زون‘‘ قرار دے کر رہائشیوں کو قرنطینہ مرکز منتقل کیا گیا تھا۔ ایمز سمیت دیگر کئی اسپتالوں نے علاقے کا معائنہ کرکے پانی کے نمونے حاصل کیے تھے تاہم ابھی تک اُس پراسرار بیماری کی وجہ ظاہر نہیں کی گئی۔








