اُمت نیوز ڈیسک
متحدہ مجلس علما جموںوکشمیر کے زیر اہتمام شیعہ سنی رابطہ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس میرواعظ منزل راجوری کدل میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وادی کی سرکردہ دینی تنظیموں سے وابستہ جید علمائے کرام، مشائخ عظام، دانشوروں اور سماجی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت معروف عالم دین آغا سید محمد ہادی الموسوی الصفوی نے فرمائی۔
اجلاس کے دوران دونوں مکاتب فکر کے علمائے کرام اور نمائندوں نے زور دے کر کہا کہ موجودہ دور میں جب مسلمان مقامی، ملکی اور عالمی سطح پر نازک ترین حالات سے گزر رہے ہیں، ایسے وقت میں تمام مسلمانوں کے لیے لازم ہے کہ وہ باہمی اختلافات سے بلند ہوکر وحدت اور یگانگت کا مظاہرہ کریں۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ماہِ محرم الحرام نہایت تقدس والا مہینہ ہے، جو پوری امت مسلمہ کے لیے باعثِ احترام ہے، اور اس ماہ کے دوران کسی بھی قسم کی فرقہ وارانہ یا مسلکی کشیدگی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اتحادِ اُمت کو ایک اجتماعی اور غیر متزلزل ذمہ داری قرار دیا گیا۔
اجلاس میں اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ گزشتہ برسوں میں سوشل میڈیا پر نشر کی جانے والی لائیو ویڈیوز، بیانات یا تصاویر کی وجہ سے غلط فہمیاں پیدا ہوئیں اور مذہبی جذبات مجروح ہوئے۔ اس تناظر میں تمام دینی تنظیموں اور افراد پر زور دیا گیا کہ وہ سوشل میڈیا پر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور ایسے کسی بھی مواد سے گریز کریں جو اشتعال یا غلط فہمی کا باعث بنے۔
علمائے کرام اور مقررین پر زور دیا گیا کہ وہ اپنے خطابات میں کسی بھی فرد یا فرقہ کے خلاف تنقید سے مکمل اجتناب کریں، خصوصاً اس لیے کہ موجودہ دور میں بیشتر مجالس اور اجتماعات براہِ راست نشر ہوتے ہیں یا بعد ازاں آن لائن اپلوڈ کیے جاتے ہیں۔
اس بات کی سختی سے تاکید کی گئی کہ ماہِ محرم کے دوران لگائے جانے والے بینرز، پوسٹرز اور منعقد کی جانے والی مجالس یا جلوسوں میں کسی بھی قسم کی اشتعال انگیز یا متنازعہ زبان کا استعمال ہرگز نہ کیا جائے۔
مقررین نے واضح کیا کہ رسول پاکﷺ کے صحابہ کرامؓاور اہلِ بیت اطہارؓ جیسی معزز ہستیوں کے خلاف کسی بھی قسم کے غیر ذمہ دارانہ تبصروں کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ایسے بیانات نہ صرف دل آزاری کا باعث بنتے ہیں بلکہ پرامن ماحول کو متاثر کرتے ہیں۔
اس نازک موقع پر علمائے کرام اور دینی تنظیموں پر زور دیا گیا کہ وہ نوجوانوں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں اور حکمت اور نرم دلی کے ساتھ ان کی رہنمائی کریں۔
اجلاس میں جن ممتاز شخصیات نے شرکت کی ان میں مولانا شوکت حسین کینگ قادری، آغا سید مجتبیٰ الموسوی الصفوی، مولانا مسرور عباس انصاری کے نمائندے آغا سید محمد یوسف، مولانا عمران رضا انصاری کے نمائندے سید محمد طیّب رضوی، مولانا خورشید احمد قانونگو، مولوی غلام علی گلزار، آغا سید مدثر حسین رضوی، مولانا سبط محمد شبیر قمی، غلام حسن مجروح، مشتاق احمد صوفی، پیر غلام نبی، محمد رفیق زرگر، اور شمس الرحمان شمس سمیت دیگر اہم حضرات شامل تھے۔










