امت نیوز ڈیسک //
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کا ریاست کا درجہ بحال کرنے کے بارے میں بات چیت کو جلد مکمل کیا جانا چاہئے تاکہ لوگوں کو وہ مل سکے جو وہ مانگ رہے ہیں۔ جموں و کشمیر، لداخ این سی سی ڈائریکٹوریٹ کے زیر اہتمام ایک خصوصی قومی یکجہتی کیمپ کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے عبداللہ نے مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لیے کئی پروجیکٹوں کی منظوری کی ستائش بھی کی۔
انھوں نے کہا کہ ’’بات چیت ہونے دیں، یہ اچھی بات ہے۔ لیکن ہم چاہتے ہیں کہ بات چیت جلد ختم ہو اور ہمیں وہ ملے جس کا ہم مطالبہ کر رہے ہیں۔‘‘ دریں اثنا جموں و کشمیر کے لیے 10,600 کروڑ روپے کی لاگت والی سرنگوں سمیت کئی پروجیکٹوں کی منظوری کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ پروجیکٹ خطے کو بہت زیادہ فروغ دیں گے۔
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’’مغل روڈ ٹنل کا مطالبہ کافی عرصے سے تھا، جب سے یہ سڑک 2008-09 میں مکمل ہوئی تھی۔ لوگ چاہتے تھے کہ سڑک سال بھر کھلی رہے۔ اسی طرح تنگدھر کو جوڑنے کے لیے سادھنا پاس پر ٹنل بنانے کا مطالبہ بھی دیرینہ تھا جسے منظور کر لیا گیا ہے۔ بہت سے دوسرے پراجیکٹس کو منظور کیا گیا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’اب ہمیں کچھ اور سرنگوں کے لیے کوشش کرنی پڑے گی، جیسے کہ گریز میں، جو چھوڑ دی گئی ہیں۔‘‘










