امت نیوز ڈیسک //
میرواعظ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے نئے اسلامی سال کے آغاز پر امت مسلمہ کے ساتھ ساتھ جموںوکشمیر کے عوام کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ نیا سال مسلمانوں کے لیے امن، اتحاد اور قوت کا سال ثابت ہو اوراللہ تبارک و تعالیٰ مظلوموں کی حفاظت فرمائے، ہمارے رہنماو ں کو راست بازی کی ہدایت دے اور ہمیں درپیش چیلنجوں کا مل کر مقابلہ کرنے کی ہمت اور حوصلہ عطا فرمائے۔
مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ سے قبل ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے مشرق وسطیٰ میں ایران اسرائیل جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے عوام نے جس حوصلے اور دلیری سے مسلط کی گئی جارحیت اور جنگ کا سامنا کیا ہے وہ قابلِ تحسین ہے۔ ایرانی قیادت نے جس بردباری سے اس بحران کو سنبھالا، وہ ایک ذمے دار ریاست کی نشانی ہے جو اپنے اور خطے کے امن کو ترجیح دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ اور دنیا میں امن کو اس وقت تک خطرہ لاحق رہے گا جب تک فلسطینی عوام کے دیرینہ مسئلے کو حل نہیں کیا جاتا اور انہیں انصاف نہیں ملتا۔ غزہ میں جاری نسل کشی جہاں روزانہ 70 سے زیادہ بے گناہ شہری، جن میں بچے، خواتین، معذور افراد وغیرہ شامل ہیں، اسرائیلی بمباری کا نشانہ بن کر شہید ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس بربریت کی وجہ سے برداشت کی تمام حدیں پار ہو چکی ہیں۔ بھوک اور پیاس سے مجبور امداد کے متلاشیوں پر بمباری کی جاتی ہے! یہ اتنا تکلیف دہ اور شرمناک ہے کہ بیان نہیں کیا جا سکتااور دنیا خاموش تماشائی بن کر دیکھ رہی ہے جیسے انہیں اس کی کوئی پرواہ ہی نہیں۔ کیا ان حالات میںواقعی کوئی حقیقی امن ممکن ہے جب ایک قوم کو ایسی سفاکیت اور محرومی کا سامنا ہو؟
میرواعظ نے کہا کہ آج جب کہ نیا اسلامی سال شروع ہو رہا ہے میں مسلم ممالک سے اپیل کرتا ہوں کہ امت مسلمہ کو درپیش اس سب سے بڑے چیلنج کے خلاف متحد ہوں، فلسطین میں جاری نسل کشی کو روکنے کے لیے کھڑے ہوں اور فلسطینی عوام کے حقوق کی بحالی اور خطے میں پائیدار امن کے لیے عملی اقدامات کریں کیونکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق یہ ان کا اخلاقی فرض ہے۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگ اس شدید آزمائش میں اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے صبر و حوصلے کو سلام پیش کرتے ہیں۔ ہم پورے اخلاص سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ انہیں اس ظلم و بربریت سے نجات دے اور ان کو ان کا وطن واپس عطا فرمائے۔
انہوں نے کہا کہ درپیش چیلنجوں کا حل حقیقی اتحاد، اسلامی اقدار کی تجدید اور ایک امت بن کر کھڑے ہونے میں ہے۔ اللہ تعالی ہمیں اس کی طاقت اور توفیق عطا فرمائے۔








