امت نیوز ڈیسک //
اننت ناگ : پرنسپل سیشن کورٹ اننت ناگ کے جج طاہر خورشید رینا کی عدالت نے مشہور سیاحتی مقام پہلگام کے ایک ہوٹل میں میں مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والی 70 سالہ سیاح کے ساتھ مبینہ عصمت دری کے الزام میں گرفتار ملزم زبیر احمد بٹ کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔
ملزم پر بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 64 اور 331(4) کے تحت فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ عدالت نے مقدمے میں جمع کیے گئے شواہد، متاثرہ خاتون کا بیان، میڈیکل رپورٹ، فنگر پرنٹ ہینڈلنگ (FSL) رپورٹ اور ٹیسٹ امیڈنس پریزنٹیشن (TIP) کو بنیادی طور پر ضمانت کی حمایت نہ کرنے کی بنیاد قرار دیا۔
جج رینا نے اس واقعے کو صرف ایک جرم قرار دینے کے بجائے “اخلاقی اقدار کے زوال” کا مظہر بتایا اور کہا کہ یہ معاشرے کی مہمان نوازی اور تہذیبی وقار کے لیے شدید چیلنج ہے۔ ‘یہ صرف ایک الگ نوعیت کا جرم نہیں بلکہ وسیع تر سماجی بدحالی اور بیمار ذہنیت کی اعلیٰ ترین عکاسی ہے۔ ایک ایسی صورت حال جس سے ہمارے کشمیر کی رونق و رعونت متاثر ہوتی ہے، جسے ہمیں شرمندگی کے ساتھ جانچنا چاہیے۔”
متاثرہ خاتون اپنے بیٹے اور خاندان کے ہمراہ پہلگام کے اس ہوٹل میں قیام کر رہی تھی، جب ملزم مبینہ طور پر کمرے میں داخل ہوا، اس نے اسے کمبل سے گلا گھونٹ کر حملہ کیا اور بعد ازاں فرار ہوگیا۔
اس واقعے میں متاثرہ خاتون زخمی ہو گئی اور کئی دنوں تک شدید عذاب و درد میں رہی۔ جج رینا نے مقدمے کی نوعیت، شواہد اور متاثرہ کے بیان کی سنجیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ضمانت کا حق نہیں دیا۔ عدالت نے واقعے کو مقامی مہمان نوازی اور اقدار کے لیے ایک ناقابلِ قبول دھچکا قرار دیا۔ یہ فیصلہ عدالتی سچائی کو اجاگر کرتا ہے اور سماجی رویوں کو تبدیل کرنے کا ازحد تقاضا کرتا ہے۔










