اُمت رپورٹ/صوفی رفیق
کشمیر کو ہمیشہ خوشگوار موسم کے لیے جانا جاتا رہا ہے، مگر حالیہ برسوں خصوصاً سال 2025 میں کشمیرغیر معمولی گرمی کا سامنا کررہا ہے۔ سرینگرمیں امسال گرمی کی شدت موسمیاتی تبدیلی کے واضح اثرات کی گونج ہے۔شدید گرمی کے باعث 23جون سے 7 جولائی تک تمام سرکاری و نجی اسکول بند رہے تاکہ طلباء کی حفاظت ہو سکے ۔اور اگر گرمی کی شدت برقرار رہی تو قوی امکان ہے کہ گرمائی تعطیلات میںتوسیع کردی جائے گی۔
زراعت پر گرمی کے اثرات
جموں و کشمیر میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات میوہ جات کی فصلوں پر نمایاں طور پر ظاہر ہونے لگے ہیں۔جاری خشک موسم نے کسانوں، خاص کر دھان کے کاشتکاروں کی امیدیں ختم کی ہیں۔ جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع کے کئی دور دراز علاقوںمیں آبپاشی کے پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے جس کی وجہ سے دھان کے کھیت مکمل طور خشک ہو کر ان میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ان علاقوں کو برنگی نالہ سے پانی سپلائی ہوتا ہے تاہم مسلسل خشک سالی کے سبب نالہ خشک ہوگیا ہے؛ پانی کی کمی سے فصلوں، خاص طور پر دھان اور سبزیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ بیشتر علاقے کے کسانوں نے دھان کے کھیتوں میں از سر نو ٹریکٹر چلا کر مکئی کے بیچ بوئے، وہیں پانی کی قلت کے خدشات کو دیکھتے ہوئے کئی دیہات کے کسانوں نے پہلے ہی مکئی اور راجما کے بیچ بوئے تھے۔
حکومتی اقدامات
گرمی کو شدت کو مد نظر رکھتے ہوئےجموں وکشمیر حکومت نے’’ ہیٹ ویو ایکشن پلان ‘‘شرو ع کر رکھا ہے، جس کے تحت صبح 11 سے شام 4 بجے کے دوران بیرونی سرگرمیوں سے گریز، ہائیڈریشن، ہلکے کپڑے پہننے، اور شہریوں کو ہوشیار رہنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے مختلف علاقوں میں ٹینکر فراہم کیے گئے، مگرماہرین کا ماننا ہے کہ دیرینہ حل کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ۔
کشمیر کے ’’زمین پر جنت‘‘ کو اب شدید موسم کے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ گرمی کی شدت، پانی کا بحران اور صحت کے خطرات اس خطے کے حیاتیاتی نظام پر واضح انتباہ ہیں۔ اس بحران سے نمٹنے کے لیے فوری حکمتِ عملی، مقامی اور عالمی سطح پر مل کر اقدامات ناگزیر ہیں۔









