امت نیوز ڈیسک //
جموں، 24 جولائی: جموں کے ستواری علاقے میں جمعرات کو مبینہ منشیات اسمگلروں کے ساتھ پولیس تصادم کے دوران ایک نوجوان ہلاک اور دوسرا گرفتار کر لیا گیا۔ ہلاک ہونے والے نوجوان کی شناخت پرویز کے طور پر کی گئی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق منڈل علاقے میں مشتبہ اسمگلروں کا تعاقب کیا جا رہا تھا جب پولیس پر فائرنگ کی گئی۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں پرویز زخمی ہوا، جسے فوری طور پر گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں لے جایا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
پرویز کی ہلاکت کے بعد اہل خانہ اور مقامی لوگوں نے اسپتال کے باہر شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ یہ ایک فرضی انکاؤنٹر تھا اور پرویز بے گناہ تھا۔
گوجر لیڈر طالب حسین نے دی ہندو سے بات کرتے ہوئے کہا: "یہ ایک فرضی انکاؤنٹر ہے۔ پرویز کے خلاف کوئی ایف آئی آر نہیں تھی۔ اگر وہ کسی کیس میں مطلوب ہوتا تو اسے گرفتار کیا جانا چاہیے تھا۔ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ پرویز اور اس کے بہنوئی کو ایک چیک پوائنٹ پر روک کر گولیاں ماری گئیں۔”
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ گوجر برادری کو بار بار منشیات اور مویشی اسمگلنگ جیسے الزامات میں نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور پرویز کو بھی اس کی شناخت کی بنیاد پر قتل کیا گیا۔
مظاہرین نے عدالتی تحقیقات اور واقعے کی شفاف جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ علاقے میں کشیدگی کے پیش نظر اسپتال کے باہر اضافی پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے اور سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔










