12 اگست منگلوارکی صبح جموں وکشمیر پولیس کی ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (SIA) نے سرینگر میں 8 مختلف مقامات پر چھاپے مارے۔ یہ کارروائی 1990 میں کشمیری پنڈت خاتون سرلا بٹ کے اغوا اور قتل سے متعلق ہے۔
تفصیلات کے مطابق جن مقامات پر چھاپے مارے گئے ان میںکالعدم جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے چیرمین یاسین ملک کی رہائش گاہ واقع مائسمہ بھی شامل ہے۔ یاسین ملک فی الحال کئی مقدمات میں جیل میں بند ہے۔
سرلا بٹ کون تھیں؟
27 سالہ سرلا بٹ ضلع اننت ناگ کی رہنے والی تھی اور سر نگر شہر کےصورہ علاقے میں واقع شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (سکمز) میں بطور نرس کام کرتی تھیں۔ انہیں 18 اپریل 1990 کواسپتال کے ہاسٹل سے اغوا کیا گیا تھا اور اگلے دن 19 اپریل کو سرینگر شہر کے ملہ باغ علاقے میں گولیوں سے چھلنی ان کی لاش سڑک پر ملی تھی۔ الزام لگایا گیا کہ یہ قتل ایک بڑی سازش کا حصہ تھا جس کا مقصد کشمیری پنڈت برادری کو وادی سے باہر نکالنا تھا۔ انہیں خفیہ ایجنسیوں کا ایجنٹ بتاکر نشانہ بنایا گیا تھا۔
لبریشن فرنٹ سے وابستہ لوگوں کے خلاف کاروائی
اس وقت کے کئی گواہوں اور پولیس کیس ڈائری میں بتایا گیا ہے کہ جے کے ایل ایف سے وابستہ لوگ سرلابٹ کے اغوا اور قتل میں ملوث تھے۔ یاسین ملک اس وقت جے کے ایل ایف کی اعلیٰ قیادت میں شامل تھے، اسلئے اس پر بھی شکوک و شبہات ظاہر کئے گئے ۔
یہ کیس کئی سالوں تک سرد بستہ میں پڑا رہا، لیکن حالیہ برسوں میں مرکزی حکومت کی ہدایت پر 90 کی دہائی کے پرانے مقدمات کو دوبارہ کھولا گیا۔ اسی سلسلے میں سرلا بٹ کیس بھی دوبارہ تحقیقات کے دائرے میں آگیا۔
خیال رہےیاسین ملک فی الحال دہلی کی تہاڑ جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ 2017 میں درج’’ دہشت گردی فنڈنگ کیس ‘‘میں این آئی اے کی عدالت نے انہیںمجرم قرار دیا تھا۔
سرلا قتل کیس میںایس آئی اےکے اہلکاروں نے یاسین ملک کے علاوہ ، جے کے ایل ایف کے سابق رہنما پیر نور الحق شاہ عرف ایئر مارشل کے گھر کی بھی تلاشی لی۔ ان کے علاوہ جاوید احمد میر عرف نلکا ولد غلام نبی میر ساکن زینہ کدل ، عبدالحمید شیخ ولد عبدالکبیر شیخ بٹہ مالو ، بشیر احمد گوجری ولد غلام رسول گوجری، فیروز احمد خان عرف جان محمد عرف جان کچرو ولد غلام احمد خان، غلام محمد ٹپلو ولد اسد اللہ ٹپلو اور غلام محمد ٹپلو ولد اسد اللہ ٹپلو کے گھروں پر بھی چھاپہ مارا گیا۔
حکام نے بتایا کہ یہ چھاپے ایف آئی آر نمبر 56/1990 کے سلسلے میں مارے گئے، جو دفعات 302، 120 آر پی سی، 3/27 آرمز ایکٹ اور 3/2 ٹاڈا کے تحت پولیس اسٹیشن نگین میں درج ہوئی تھی اور اب ایس آئی اے اس کی تحقیقات کر رہی ہے۔
ڈی ایس پی عابد حسین کی قیادت میں ایس ایچ او مائسمہ اور ایک ایگزیکٹیو مجسٹریٹ کے ہمراہ ٹیم نے مائسمہ میں یاسین ملک کی رہائش گاہ کی تلاشی لی۔
حکام کے مطابق یہ تلاشی کارروائیاں سابق جے کے ایل ایف رہنماؤں اور ساتھیوں کو نشانہ بنا کر کی گئیں تاکہ شواہد اکٹھے کیے جا سکیں اور 1990 میں قتل کے واقعے کے تسلسل کو دوبارہ جوڑا جا سکے، جو وادی میں عسکریت پسندی کے عروج کے دوران پیش آیا تھا۔ کسی بھی قسم کی برآمدگی یا ضبطگی کے بارے پولیس نے تاحال کوئی بیان نہیں دیا ہے۔
واضح رہے یہ چھاپےدہلی ہائی کورٹ کی جانب سے قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی اس درخواست کے ایک روز بعد عملائے گئے جس میں یاسین ملک، جو فی الوقت تہاڑ جیل میں بند ہے، سے جواب طلب کیا گیاہے، جس میںاین آئی اےنے کورٹ سے لبریشن فرنٹ چیرمین کو موت کی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ کورٹ نے یاسین ملک کو چار ہفتوں کے اندر اندر جواب داخل کرنے کا حکم دیا ہے اور کیس کی اگلی سماعت کی تاریخ 10 نومبر مقرر کی ہے۔
جسٹس وویک چودھری اور جسٹس شالندر کور پر مشتمل بینچ نے اس معاملے کی سماعت کی۔ عدالت نے واضح ہدایت دی ہے کہ یاسین ملک کو نوٹس بھیجا جائے تاکہ وہ اس معاملے پر اپنا موقف پیش کر سکیں۔ یاسین ملک کو 11اگست پیر کے روز جیل سے ورچوئل طور پر عدالت میں پیش ہونا تھا لیکن انہیں پیش نہیں کیا گیا۔ تاہم، عدالت نے جیل حکام کو 10 نومبر کو انہیں ورچوئل طریقے سے پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔
یاد رہےیاسین ملک نے ماضی میں اس درخواست کے خلاف ذاتی طور پر دلائل دینے کا مطالبہ کیا تھا اور عدالت کی جانب سے وکیل مقرر کرنے کی تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔بتاتے چلیںمئی 2022 میں، ایک خصوصی عدالت نے دہشت گردی کی فنڈنگ کے ایک مقدمے میں یاسین ملک کو مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ یاسین ملک نے ان الزامات کو قبول کر لیا تھا اور اس فیصلے کی مخالفت نہیں کی تھی۔
این آئی اے نے اب خصوصی عدالت کے اس فیصلے کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ این آئی اے نے اپنی درخواست میں ملک کے جرم کی نوعیت کو ’’ریئرسٹ آف دی ریئر’’ کے زمرے میں شامل کرتے ہوئے دلیل دی ہے کہ ’’صرف عمر قید کی سزا کافی نہیں ہے، اس کے لیے موت کی سزا دی جانی چاہیے۔‘‘










