امت نیوز ڈیسک //
جموں : جموں و کشمیر میں عام آدمی پارٹی (عآپ) کے واحد رکن اسمبلی معراج ملک پر پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) عائد کیے جانے کے بعد سیاسی ہلچل کافی بڑھ گئی ہے۔ سیاسی بیانات، رد عمل، احتجاج اور مظاہروں کے بیچ بدھ کو عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیمان سنجے سنگھ جموں پہنچے اور پارٹی کارکنان کے ساتھ ایک میٹنگ منعقد کی۔
سنجے سنگھ نے اس موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایم ایل اے معراج ملک عوام کے لیے اسپتال کی مانگ کر رہے تھے جس پر ان کے خلاف پی ایس اے عائد کیا گیا، جو کہ سراسر ’’غیر جمہوری‘‘ قدم ہے۔ انہوں نے کہا ’’ایک منتخب عوامی نمائندے کے ساتھ دہشت گرد جیسا سلوک نہیں کیا جا سکتا، یہ آئین کے منافی اور جمہوریت کا قتل ہے۔‘‘
سنگھ کے ہمراہ عام آدمی پارٹی کے جموں و کشمیر انچارج اور سابق وزیر عمران حسین بھی موجود تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پارٹی سپریمو اروند کیجریوال کی ہدایت پر وہ جموں آئے ہیں تاکہ کارکنان سے مشاورت کر کے آئندہ کی حکمت عملی طے کی جا سکے۔ سنجے سنگھ نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’’یہ کہاں کا قانون ہے کہ کبھی اروند کیجریوال کو، کبھی منیش سسودیا کو، کبھی ستیندر جین کو اور اب معراج ملک کو جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ حکومت عام آدمی پارٹی کو دبانے کے لیے تانا شاہی ہتھکنڈے اپنا رہی ہے۔‘‘
خیال رہے کہ ڈوڈہ میں ایک میڈیکل سینٹر کو لے کر پیدا ہوئے تنازع اور ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ کے خلاف مبینہ نازیبا کلمات کے بعد ضلع مجسٹریٹ ڈوڈہ نے ایم ایل اے معراج ملک کو ’عوامی امن کے لئے خطرہ‘ قرار دیتے ہوئے نہ صرف پی ایس اے نافذ کیا بلکہ انہیں کٹھوعہ جیل بھی روانہ کیا گیا۔
ادھر، معراج ملک پر پی ایس اے نافذ کیے جانے کے بعد ڈوڈہ سمیت خطہ چناب کے دیگر خطوں، وادی کشمیر اور جموں میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے، وہیں ڈوڈہ میں ضلع انتظامیہ نے چار یا اس سے زیادہ افراد کے جمع ہونے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ساتھ ہی کسی بھی شخص کو اشتعال انگیز تقریر، نعرے بازی یا ہتھیار لے کر چلنے کی اجازت نہیں ہے۔ معراج ملک فی الوقت جموں و کشمیر اسمبلی میں عام آدمی پارٹی کے واحد رکن ہیں اور ان کی گرفتاری کے خلاف جموں سمیت کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔









