امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 26 ستمبر : کشمیر کے میر واعظ عمر فاروق نے جمعہ کو کہا کہ ایک بار پھر انہیں حکام نے گھر میں نظر بند کر دیا ہے اور تاریخی جامع مسجد سرینگر میں نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ یہ مسلسل تیسرا جمعہ ہے جب میر واعظ کو اپنی رہائش گاہ تک محدود رکھا گیا، جس پر انہوں نے اپنے مذہبی اور شخصی آزادیوں پر بار بار قدغن لگائے جانے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں میر واعظ نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا:”آج پھر، لگاتار تیسرے جمعہ کو مجھے گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے اور جامع مسجد جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اگر واقعی قوانین ہم پر لاگو ہیں تو کون سا قانون اس طرح بنیادی حقوق پر حملے کی اجازت دیتا ہے اور عبادت کو جرم میں بدل دیتا ہے؟”
انہوں نے الزام لگایا کہ حکام انہیں من مانے طریقے سے بغیر کسی جواب دہی کے گھر تک محدود کر دیتے ہیں۔ "ہفتہ در ہفتہ، جمعے کے دن یا جب بھی وہ چاہیں، حکام مجھے گھر میں بند کر دیتے ہیں، میری آزادی سلب کرتے ہیں اور مجھے اپنے مذہبی فرائض کی ادائیگی سے روکتے ہیں۔”
مزید برآں میر واعظ نے انتظامیہ پر آمرانہ رویے کا الزام لگایا اور کہا کہ جنہیں ان اقدامات پر سوال اٹھانا چاہیے وہ یا تو ہمت نہیں کرتے یا پرواہ نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ جامع مسجد تک رسائی سے محروم کیا جانا نہ صرف ان کے ذاتی حقوق کو متاثر کرتا ہے بلکہ عوام کے مذہبی جذبات کو بھی مجروح کرتا ہے۔
انہوں نے ان پابندیوں کی سخت مذمت دہراتے ہوئے کہا کہ ذمہ داران کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ بنیادی آزادیوں پر بار بار قدغن لگانے کے کیا نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ میر واعظ نے کہا:”میں ان بار بار کی جانے والی پابندیوں اور انسانی حقوق و عوامی جذبات کے ساتھ حکام کے تحقیر آمیز سلوک کی سخت مذمت کرتا ہوں۔”(کے این ٹی)








