گاندربل | اعجاز بابا
گاندربل کی مایہ ناز بیٹی، نوجوان سائیکلسٹ صولیحہ ظہور نے اپنی غیر معمولی صلاحیت اور عزم کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے انٹر ڈسٹرکٹ یو ٹی لیول سائیکلنگ چیمپئن شپ میں طلائی تمغہ جیت کر نہ صرف اپنے ضلع بلکہ پوری وادی کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ یہ مقابلے ضلع بڈگام میں محکمہ یوتھ سروسز اینڈ اسپورٹس کے زیر اہتمام منعقد ہوئے جن میں جموں و کشمیر کے نامور سائیکلسٹوں نے حصہ لیا۔
سخت مقابلے کے دوران کھلاڑیوں نے اپنی برداشت، مہارت اور حکمت عملی کا مظاہرہ کیا، مگر آخرکار صولیحہ کی تیز رفتاری، پھرتی اور ناقابلِ شکست لگن نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔ ان کی یہ کامیابی صرف ذاتی کارنامہ نہیں بلکہ گاندربل اور کشمیر کی خواتین کھلاڑیوں کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔
چار مرتبہ قومی سطح پر کھیلنے والی صولیحہ کے لیے یہ جیت نئی نہیں، لیکن اس بار کی کامیابی کی معنویت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ وہ مسلسل رکاوٹوں کو توڑ کر نوجوانوں، بالخصوص لڑکیوں کے لیے امید اور حوصلے کی علامت بنتی جا رہی ہیں۔ ایسے وقت میں جب کشمیر میں کھیلوں کا کلچر نئی توانائی پا رہا ہے، صولیحہ نے یہ ثابت کر دیا کہ نظم و ضبط اور محنت کے ذریعے ہر کٹھن راستہ فتح کیا جا سکتا ہے۔
ضلعی انتظامیہ بڈگام اور محکمہ یوتھ سروسز اینڈ اسپورٹس کے نمائندوں نے صولیحہ کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔
انتظامیہ نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ کھیلوں کی بنیادی ڈھانچہ جاتی سہولیات، جدید تربیتی مراکز اور پروفیشنل کوچنگ فراہم کر کے ایسے ہی باصلاحیت نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
صولیحہ کی فتح محض ایک تمغہ نہیں بلکہ کشمیر کے ابھرتے ہوئے اسپورٹس کلچر کی علامت ہے — ایک ایسا کلچر جو جنون، نظم و ضبط اور نہ ٹوٹنے والے حوصلے پر قائم ہے۔ گاندربل کے پرسکون راستوں سے بڈگام کے مسابقتی میدان تک ان کا سفر اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ وادی کا مستقبل اپنی صلاحیت اور عزم کے ذریعے روشن ہو رہا ہے۔
جب اہل خانہ، دوستوں، کھیلوں کے شائقین اور مقامی باشندوں نے جشن منایا تو گاندربل اپنی بیٹی پر نازاں کھڑا تھا۔ صولیحہ ظہور نے ہر پیڈل کے ساتھ ہمت اور کمال کی ایک نئی داستان لکھی ہے۔ ان کی یہ سنہری جیت ہمیشہ کشمیر کی کھیلوں کی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھے گی۔
ان کا پیغام نوجوانوں کے لیے واضح ہے“بڑے خواب دیکھو، انتھک محنت کرو اور کسی رکاوٹ کو اپنے راستے کی دیوار نہ بننے دو۔









