امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی، 6 اکتوبر: سپریم کورٹ نے پیر کے روز ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی انگمو کی درخواست پر مرکز، لداخ کی انتظامیہ اور جودھپور سنٹرل جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو نوٹس جاری کیا ہے۔
یہ درخواست وانگچک کی نیشنل سیکیورٹی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت حراست کو چیلنج کرتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کرتی ہے۔
جسٹس ارویند کمار اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل بینچ نے مرکز اور لداخ انتظامیہ کو نوٹس جاری کیا اور معاملے کی اگلی سماعت 14 اکتوبر کو مقرر کی۔ گیتانجلی انگمو کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے سینئر وکیل کپل سبل نے عدالت کو بتایا کہ وہ وانگچک کی حراست کی مخالفت کر رہے ہیں۔
سماعت کے دوران سالیسیٹر جنرل تشار مہتہ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ حراست کا حکم وانگچک کو سونپ دیا گیا ہے، جو فی الوقت جودھپور سنٹرل جیل میں قید ہیں۔ تاہم کپل سبل نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’’نہ وانگچک اور نہ ہی ان کے اہلِ خانہ کو حراست کی وجوہات کی کوئی کاپی دی گئی ہے۔ ہم اس حراست کی مخالفت کرتے ہیں۔‘‘ جس پر جسٹس کمار نے کہا، ’’بیوی کو یقیناً رسائی حاصل ہوگی۔‘‘
سونم وانگچک کی گرفتاری:
سونم وانگچک کو 26 ستمبر کو لیہ کے ڈپٹی کمشنر نے نیشنل سیکیورٹی ایکٹ کی دفعہ 3(2) کے تحت حراست میں لیا۔ یہ گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب لداخ کو ریاست کا درجہ دینے اور چھٹی شیڈول میں شامل کرنے کے مطالبے پر ہونے والے احتجاجات پرتشدد ہوگئے تھے۔
اس تشدد میں چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ دو دن بعد وانگچک کو باقاعدہ حراست میں لے کر جودھپور، راجستھان کی سنٹرل جیل منتقل کر دیا گیا۔










