امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 14 نومبر : وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ این سی کے رہنما آغا روح اللہ نے بڈگام ضمنی انتخاب کی مہم سے دستبرداری اختیار کرکے ’’خود کو سیاسی طور پر نقصان پہنچایا‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ رواللہ نے یہ فیصلہ پارٹی کو پیغام دینے کے لیے لیا تھا مگر اس کا نقصان انہیں خود کو زیادہ ہوا۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر نے انگریزی محاورہ “you cut your nose to spite your face” استعمال کیا، یعنی ’’اپنے ہی نقصان کے لیے کیا گیا فیصلہ‘‘۔
انہوں نے کہا، ’’روح اللہ نے مجھے پیغام دینے کے لیے خود کو نقصان پہنچایا۔ لیکن یاد رکھیں، جس نے وہاں سے جیت حاصل کی ہے، وہ اب کبھی بھی رہوللہ کو دوبارہ آگے بڑھنے نہیں دے گا۔‘‘
عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ بڈگام میں روح اللہ کا سیاسی مستقبل اب اس بات پر منحصر ہے کہ وہ دوبارہ اپنی سیاسی جگہ کیسے بناتے ہیں۔
’’صرف رہوللہ ہی فیصلہ کر سکتے ہیں کہ وہ بڈگام میں دوبارہ اُبھر سکیں گے یا نہیں۔ جو ہونا تھا ہو گیا۔‘‘
انہوں نے اعتراف کیا کہ این سی کو پہلے سے اندازہ تھا کہ مقابلہ مشکل ہوگا۔’’بڈگام میں لوگ صرف کام کی بنیاد پر ووٹ نہیں دیتے۔ ایک بڑا طبقہ ہے جو مسائل کی بنیاد پر ووٹ ہی نہیں ڈالتا۔ بہت سے ووٹر پردے کے پیچھے خاموشی سے اپنا فیصلہ کرتے ہیں۔ اسی لیے مجھے پہلے ہی معلوم تھا کہ یہ آسان نہیں ہوگا۔‘‘
عمر نے کہا کہ نتیجہ خاموش ووٹروں، اندرونی ناراضگی اور بدلتے سیاسی ماحول کے مجموعی اثرات کا نتیجہ ہے۔’’ہم عوام کے فیصلے کو قبول کرتے ہیں اور آگے بڑھتے ہیں۔‘‘










