امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 23 نومبر: پیپلز کانفرنس کے صدر اور ایم ایل اے ہندواڑہ سجاد غنی لون نے اتوار کو شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی کے میڈیکل اسکول میں داخلہ معاملے پر جاری تنازعے کو لے کر بی جے پی پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ’’میڈیکل سائنس کو فرقہ وارانہ رنگ دینے‘‘ کی خطرناک کوشش کر رہی ہے، جو ملک کے سب سے شفاف اور میرٹ بیسڈ نظام کو سیاست کی نذر کرنے کے مترادف ہے۔
جاری بیان میں پی سی چیئرمین نے کہا کہ موجودہ سیاسی گفتگو ’’انتہائی تشویشناک‘‘ ہے اور میڈیکل سائنس جیسے معزز شعبے کو بے جا سیاست کا شکار بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا، "یہ بہت بڑی زیادتی ہے۔ بی جے پی اب میڈیکل سائنس کو فرقہ وارانہ بنانے کا تجربہ کر رہی ہے۔”
سجاد لون کا کہنا تھا کہ میڈیکل کالجز میں داخلے پورے ملک میں ایک جیسے اصولوں کے تحت NEET کے ذریعے ہوتے ہیں، جو ایک آل انڈیا سطح کا امتحان ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ "اس امتحان میں ملک کے بہترین ذہن بیٹھتے ہیں اور میرٹ کی بنیاد پر ہی ڈاکٹر بنتے ہیں۔”
پی سی صدر نے کہا کہ یہی نوجوان آگے جاکر لوگوں کا علاج کرتے ہیں، سرجری کرتے ہیں اور برسوں کی محنت سے تحقیق کے میدان میں انقلاب لاتے ہیں۔
انہوں نے کہا، "دنیا بھر میں میڈیکل سائنس نے جس طرح ترقی کی ہے—ایم آر آئی، سی ٹی اسکین—یہ سب ان ہی سائنس دانوں کی دہائیوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ ایسے میں میڈیکل سائنس کو سیاسی اور فرقہ وارانہ رنگ دینا ان سائنس دانوں کی توہین ہے۔”
سجاد لون نے کہا کہ "سائنس دان قبر میں بھی تڑپ اٹھیں گے جب انہیں معلوم ہوگا کہ ان کی محنت سے تعمیر ہوئی سائنس کو کم علم سیاسی رہنما فرقہ وارانہ دلدل میں دھکیل رہے ہیں۔”
انہوں نے سیاست میں ذمہ داری اور سنجیدگی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا، "کاش عوامی زندگی میں آنے کے لیے کم از کم آئی کیو کی شرط رکھی جائے۔”
پی سی صدر نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ تحقیق اور میڈیکل سائنس کے شعبے میں عالمی ممالک کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلے، نہ کہ فرقہ وارانہ بیانات کی آڑ میں پیچھے ہٹ جائے۔
انہوں نے آخر میں کہا، "ملک کو بہترین دماغوں کی ضرورت ہے، تحقیق اور جدت کی ثقافت کو فروغ دینا ہوگا۔ میڈیکل سائنس کو محققین چاہئیں، مذہبی جنونی نہیں۔” (کے این ایس)









