امت نیوز ڈیسک //
سرینگر : حکومت کی جانب جاری ایک نوٹیفکیشن میں ایسے ریٹائرڈ ملازمین جو جموں و کشمیر میں کسی بھی نجی کمپنی یا دفتر میں ملازمت اختیار کرنا چاہتے ہیں، کے لیے پولیس سے کلیئرنس حاصل کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ جموں و کشمیر حکومت نے یہ ہدایت نجی دفاتر کو جاری کی ہے جو 60 سال کی عمر کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین کو نوکری فراہم کرتے ہیں۔
سیکورٹی کلیئرنس کا کام پولیس کے کرمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (CID) کو سونپ دیا گیا ہے۔ جموں و کشمیر انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں یہ ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے: ’’اگر کسی ریٹائرڈ سرکاری ملازم کو کسی نجی شعبے میں کام کرنے کے لیے منتخب کیا جاتا ہے، تو نجی ادارے کے سربراہ کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اس ملازم کے کیرکٹر (Character) اور پس منظر کی تصدیق کرائیں، جو کہ کرمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (CID) کے ذریعے کی جائے گی۔‘‘
نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ اس ہدایت پر عمل کی خلاف ورزی کرنے والے ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اب تک، سیکیورٹی کلیئرنس صرف سرکاری ملازمت کے لیے ہی ضروری تھی۔ جموں و کشمیر خاص کر وادی میں ایسے کئی افراد کی خاصی تعداد ہے جن کے خلاف دہشت گردی یا علیحدگی پسندانہ سرگرمیوں کے مقدمات یا ان کے اہل خانہ میں سے کسی شخص کے ملی ٹنسی یا علیحدگی پسند روابط تھے، انہیں سیکیورٹی ایجنسیز سے کلیئرنس نہ ملنے کی وجہ سے سرکاری ملازمت نہیں ملتی۔
وہیں دفعہ 370کی منسوخی کے بعد گزشتہ چار برسوں کے دوران لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی قیادت میں انتظامیہ نے 80 سے زائد سرکاری ملازمین کو ’’ریاست کی سیکیورٹی و سالمیت کے لیے خطرہ‘‘ قرار دیتے ہوئے انہیں نوکریوں سے برطرف کر دیا۔ ملازمین کے خلاف یہ کارروائی آئین کے آرٹیکل 311(2)(C) کے تحت کی گئی۔ یہ آرٹیکل حکام کو انکوائری کے بغیر ہی سرکارکی ملازمین کو برطرف کرنے کا حق دیتا ہے، اگر صدر یا گورنر اس بات سے مطمئن ہیں کہ ’’ایسا اقدام ریاست کی سیکیورٹی کے مفاد میں ضروری ہے۔‘‘ تاہم برطرف کیے گئے ملازمین کسی بھی ادارے حتیٰ کہ کورٹ سے بھی رجوع نہیں کر سکتے۔
ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ ’’اب، ریٹائرڈ ملازمین جو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کام کرنا چاہتے ہیں، ان کی جانچ پڑتال کی جائے گی تاکہ صرف درست اور ’صاف ستھرے ماضی‘ والے افراد کو ہی نجی کمپنیز میں ملازمت ملے۔ اور یہ اقدام نجی دفاتر کو ایسے ریٹائرڈ ملازمین سے بچانے کے لیے ہے جو الزامات یا مقدمات میں ملوث ہیں۔‘‘










