لداخ میں اگر چہ احتجاجی مظاہرے ہونا کوئی نئی بات نہیں لیکن بدھ (23 ستمبر) کو لیہہ میں پرتشدد مظاہرے دہائیوں بعد دیکھنے کو اس وقت ملے جب ریاستی درجے کے مطالبے کو لے کر احتجاجی مظاہرے پرتشدد رخ اختیار کر گئے اور اس دوران اب تک کی اطلاعات کے مطابق 4 مظاہرین ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ اس دوران ایک درجن سے زائد پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ یہ اموات پولیس فائرنگ کے نتیجے میں ہوئیں۔ اطلاعات کے مطابق لیہہ ایپکس باڈی کی یوتھ ونگ نے احتجاج اور شٹر ڈاؤن کی کال اُس وقت دی جب بھوک ہڑتال پر بیٹھے 15 میں سے دو افراد کی حالت بگڑنے پر انہیں منگل کی شام اسپتال منتقل کیا گیا۔ یہ بھوک ہڑتال 10 ستمبر سے جاری تھی۔
احتجاج کے دوران مشتعل مظاہرین نے بھاجپا دفتر کو آگ لگا دی وہیں اس دوران کئی گاڑیاں بھی نذر آتش کی گئیں۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کےلیے آنسو گیس کا استعمال بھی کیا۔
دوسری طرف سے 35 روزہ بھوک ہڑتال کا اعلان کرنے والے ماحولیات کے معروف کارکن سونم وانگچک بھوک ہڑتال کے پندرہویں دن تشدد کے بعد بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔
لیہہ میں احتجاج کیوں؟؟
لداخ ایپکس باڈی کی یوتھ ونگ نے بدھ کو اُس وقت احتجاج کی کال دی جب 15 بھوک ہڑتالیوں میں سے دو افراد، تسرنگ انگچک (72 سال) اور تاشی ڈولما (60 سال) کی حالت خراب ہونے کے باعث انہیں منگل کی شام اسپتال منتقل کیا گیا۔ یہ بھوک ہڑتال 10 ستمبر سے جاری تھی اور بدھ کو اس کا 35واں دن تھا۔
بھوک ہڑتال کرنے والے افراد اپنے چار نکاتی مطالبات کے حق میں مرکز سے بات چیت دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے، جن میں ریاستی درجہ ،چھٹے شیڈول کا نفاذ،لیہہ اور کرگل کے لیے علیحدہ لوک سبھا نشستیں اور روزگار کے مواقع میں ریزرویشن شامل ہے۔ ادھر بھوک ہڑتال کی علامت سمجھے جانے والے وانگچک نے ہڑتال ختم کرنے کے بعد کہا کہ،’’میں لداخ کے نوجوانوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ فوری طور پر تشدد ترک کریں، کیونکہ یہ ہمارے مقصد کو نقصان پہنچاتا ہے اور حالات کو مزید بگاڑ دیتا ہے۔ ہم لداخ اور ملک میں عدم استحکام نہیں چاہتے۔ یہ میرے لیے اور لداخ کے لیے سب سے افسوسناک دن ہے کیونکہ پچھلے پانچ برسوں سے ہم نے پُرامن راستہ اپنایا تھا۔“
وانگچک نے اعلان کیا:’’ہم اپنی بھوک ہڑتال فوری طور پر ختم کر رہے ہیں۔ اگر ہمارے نوجوان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں تو بھوک ہڑتال کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔ اب وقت ہے کہ ٹھنڈے دماغ سے بات چیت کو آگے بڑھایا جائے۔ ہم اپنی تحریک کو پُرامن رکھیں گے اور حکومت سے بھی کہنا چاہتے ہیں کہ ہمارے امن کے پیغام کو سنے… جب امن کے پیغام کو نظرانداز کیا جاتا ہے تو ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں۔‘‘
ایل جی انتظامیہ کا ردعمل
ادھر ان پرتشدد مظاہروں اور ہلاکتوں کے بعد لیہہ میں دفعہ 163 کے تحت سخت بندشیں عائد کی گئیں۔ وہیں ایل جی کویندر گپتا نے سازش کا الزام عائد کرتے ہوئےملوثین کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ دیا۔گپتا نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا:’’کرفیو احتیاطی تدبیر کے طور پر نافذ کیا گیا ہے۔ یہاں کئی افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں اور میں ان کے اہل خانہ سے تعزیت کرتا ہوں۔ مزید جانی نقصان کو روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی قسم کے تشدد کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور پولیس و ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ امن و امان خراب کرنے اور املاک کو نقصان پہنچانے والے تمام عناصر کی شناخت کر کے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
وزارت داخلہ نے سونم وانگچک کو ٹھہرایا ذمہ دار
مرکزی وزارت داخلہ نے سماجی کارکن سونم وانگچک کو لیہہ میں بدامنی کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا ۔ایک بیان میں وزارت داخلہ نے کہا،’’وہ مطالبات جن پر وانگچوک بھوک ہڑتال پر تھے وہ اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی میں بحث کا لازمی حصہ ہیں۔ بہت سے لیڈروں کی جانب سے بھوک ہڑتال ختم کرنے پر زور دینے کے باوجود انہوں نے بھوک ہڑتال جاری رکھی، مزید یہ کہ عرب بہاریہ کی طرح کے احتجاج اور نیپال میں جنریشن زیڈ تحریک کا حوالہ دے کر اشتعال انگیز طریقے سے لوگوں کو گمراہ کیا۔‘‘
اس میں مزید کہا گیا، ’’24 ستمبر کو تقریباً 11.30 بجے، ان کی اشتعال انگیز تقریروں سے اکسایا گیا ایک ہجوم بھوک ہڑتال کے مقام سے نکل گیا اور سیاسی پارٹی (بی جے پی) کے دفتر کے ساتھ ساتھ سی ای سی لیہہ کے سرکاری دفتر پر حملہ کر دیا۔وزارت نے کہا، "یہ واضح ہے کہ سونم وانگچک نے اپنے اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے ہجوم کو بھڑکایا تھا۔ اتفاق سے ان پرتشدد واقعات کے بیچ انہوں نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی اور صورت حال پر قابو پانے کی سنجیدہ کوشش کیے بغیر ایمبولینس میں اپنے گاؤں کے لیے روانہ ہو گئے۔
جموں کشمیر کے سیاسی لیڈران کا ردعمل
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے لیہہ کی صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ :’’لداخ کو ریاستی درجہ دینے کا وعدہ تک نہیں کیا گیا۔ وزیر اعلی نے مزید کہا کہ سنہ 2019 میں یونین ٹیریٹری کا درجہ ملنے پر لداخ کے لوگوں نے جشن منایا اور وہ دھوکہ کھائے اور ناراض ہیں۔ انہوں نے مزید لکھا کہ سوچیں ہم جموں و کشمیر کے لوگ کتنے مایوس اور دھوکہ خوردہ محسوس کرتے ہیں جب ریاستی درجہ کا وعدہ آج تک پورا نہیں ہوا، حالانکہ ہم نے یہ مطالبہ جمہوری، پرامن اور ذمہ داری کے ساتھ کیا ہے۔
وہیں پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے لکھا کہ، اب وقت آ گیا ہے کہ مرکزی سرکار یہ سنجیدگی سے اور مکمل انداز میں جائزہ لے کہ 2019 کے بعد اصل میں کیا کچھ بدلا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ یہ ویڈیو کشمیر سے نہیں بلکہ لداخ کے دل سے ہے، جہاں غصے میں مبتلا مظاہرین نے پولیس گاڑیاں اور بی جے پی دفتر کو آگ لگا دی ہے۔ محبوبہ مفتی نے آخر پر لکھا کہ یہ ناگزیر ہے کہ حکومت روزمرہ کے بحرانوں کے انتظام سے آگے بڑھ کر اس ناخوشی کی بنیادی وجوہات کو فوری اور شفاف انداز میں حل کرے۔
لداخ کے معروف سیاسی کارکن سجاد کارگلی نے لکھا کہ ”جو کچھ لیہہ میں ہو رہا ہے وہ افسوسناک ہے۔ لداخ، جو کبھی پرامن تھا، اب حکومت کے ناکام یونین ٹیریٹری تجربے کی وجہ سے مایوسی اور غیر یقینی صورتحال میں مبتلا ہے۔“
انہوں مزید کہا کہ ، ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے—مذاکرات دوبارہ شروع کریں، سمجھداری سے اقدام کریں اور لےہ کے ریاستی درجہ اور چھٹے شیڈول کے مطالبات کو بلا تاخیر پورا کریں۔ میں عوام سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ پرامن اور ثابت قدم رہیں۔
لداخی کیاچاہتے ہیں؟؟
یہ احتجاج لدّاخ میں دیرینہ مسائل کی عکاسی کرتا ہے، جو اس وقت سے موجود ہیں جب لدّاخ 2019 میں جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد ایک یونین ٹریٹری بن گیا۔جبکہ جموں و کشمیر میں اب منتخب اسمبلی ہے، لدّاخ براہِ راست مرکزی حکومت کے تحت رکھا گیا۔ ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، مقامی رہائشی محسوس کرتے ہیں کہ یوٹی کا درجہ خودمختاری اور قبائلی شناخت کے تحفظ کے حوالے سے ان کی توقعات پر پورا نہیں اترا۔ اگست 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد غیر مقامی افراد کے لیے زمین کی ملکیت کے تحفظات ختم ہونے نے مقامی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
لداخ کی تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کا اتحاد لیہہ اپیکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس دسمبر 2024 سے وزارت داخلہ سے اپنے دیرینہ مطالبات کے حل کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔ مقامی نمائندوں اور مرکز کے درمیان آخری سرکاری ملاقات مئی 2025 میں ہوئی تھی اور اگلی ملاقات 6 اکتوبر 2025 کو مقرر ہے۔
چھٹا شیڈول کیا ہے؟
آئین کا چھٹا شیڈول آسام، میگھالیہ، تریپورہ اور میزورم کی قبائلی علاقوں کی انتظامیہ سے متعلق دفعات پر مشتمل ہے۔ یہ مقامی برادریوں کو ان خطوں کے انتظام میں اہم کردار ادا کرنے کا اختیار دیتا ہے۔لداخ کے احتجاج کرنے والے نوجوان مطالبہ کر رہے ہیں کہ لداخ کو بھی چھٹے شیڈول کے تحت تحفظ دیا جائے۔
شیڈول کے مطابق، قبائلی علاقے، جنہیں خود مختار ضلع قرار دیا گیا ہے، کو گورنر مختلف درج فہرست قبائل کی موجودگی کی صورت میں حصوں میں تقسیم کر سکتا ہے۔
ہر خود مختار ضلع کے لیے ایک ضلعی کونسل ہوگی جس کے ارکان کی تعداد 30 سے زیادہ نہیں ہوگی۔
گورنر زیادہ سے زیادہ چار ارکان نامزد کرے گا، جبکہ باقی تمام ارکان بالغ رائے دہی کی بنیاد پر منتخب ہوں گے۔اس کے علاوہ، ہر خود مختار خطے کے لیے ایک علیحدہ علاقائی کونسل بھی قائم کی جائے گی۔
چھٹے شیڈول کے مطابق، کسی خود مختار ضلع میں جہاں علاقائی کونسلیں ہوں گی، وہاں ضلعی کونسل کو صرف وہی اختیارات حاصل ہوں گے جو علاقائی کونسل اسے تفویض کرے گی، اس کے علاوہ وہ اختیارات جو اس شیڈول کے تحت پہلے ہی اسے حاصل ہیں۔
شیڈول میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ضلعی کونسل اور علاقائی کونسل کو قانون سازی اور خود مختار اضلاع و خطوں میں عدلیہ کے انتظام کے کیا اختیارات حاصل ہوں گے۔










