وادیٔ کشمیر میں گوشت اور چکن کے مبینہ اسکینڈل پر سرکاری حتمی رپورٹ ابھی منظرِ عام پر آنا باقی ہی تھی کہ اب انڈوں کے مبینہ ملاوٹی ہونے کا معاملہ سامنے آ گیا ہے۔ تاہم یہ مسئلہ صرف جموں و کشمیر تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک میں زیرِ بحث ہے۔
تنازعہ کیسے شروع ہوا؟
حالیہ دنوں میں ایگوذ نامی برانڈ کے انڈوں سے متعلق ایک تنازعہ نے عوامی تشویش میں اضافہ کر دیا۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ایگوذ انڈوں کے ایک مخصوص بیچ میں AOZ نامی کیمیائی مادہ پایا گیا ہے، جو ممنوعہ نائٹروفیوران اینٹی بایوٹکس سے جڑا ہوا ہے۔
یہ تنازعہ یوٹیوب چینل Trustified کی جانب سے کی گئی ایک مبینہ آزاد لیب جانچ کے بعد شروع ہوا۔ ادارے نے مختلف برانڈز کے انڈوں کا بلائنڈ ٹیسٹ کیا، جس کے لیے نمونے کھلے بازار سے خرید کر ایک مستند لیبارٹری بھیجے گئے۔ رپورٹ کے مطابق ایگوذ کے انڈوں میں AOZ پایا گیا، جو نائٹروفیوران اینٹی بایوٹکس کے گروپ کا ایک میٹابولائٹ ہے۔
یہ ویڈیو تیزی سے وائرل ہو گئی، جس کے بعد عوامی سطح پر شدید ردِعمل دیکھنے کو ملا۔ نائٹروفیوران اینٹی بایوٹکس کئی ممالک میں اس لیے ممنوع ہیں کہ طویل مدت تک ان کے استعمال کو بعض سائنسی مطالعات میں ممکنہ طور پر کینسر کے خطرے سے جوڑا گیا ہے۔لیب رپورٹ کے مطابق AOZ کی مقدار 0.74 مائیکروگرام فی کلوگرام پائی گئی، جو نہایت معمولی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ مقدار بھارت میں قانونی طور پر مقررہ حد کے اندر آتی ہے، اس لیے اسے کسی قانونی خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں رکھا جا سکتا۔
تاہم چونکہ ایگوذ اپنے انڈوں کو ہربل فیڈ پر تیار کردہ، حفظانِ صحت کے اعلیٰ اصولوں کے مطابق،”100 فیصد اینٹی بایوٹک فری“ اور عام انڈوں سے زیادہ محفوظ قرار دے کر نسبتاً مہنگے داموں فروخت کرتا ہے، اس لیے نائٹروفیوران کے کسی بھی اثر کی موجودگی نے صارفین میں تشویش پیدا کر دی۔
ایگوذ کا مؤقف
ایگوذ نے Trustified کے یوٹیوب چینل پر ایک تفصیلی وضاحت جاری کرتے ہوئے ویڈیو کو حقائق کے منافی قرار دیا۔ کمپنی کے مطابق رپورٹ میں سامنے آنے والی AOZ کی مقدار فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا کی مقررہ حد کے اندر ہے۔ایگوذ کا کہنا ہے کہ اتنی معمولی مقدار قدرتی ماحولیاتی آلودگی کا نتیجہ ہو سکتی ہے، نہ کہ اینٹی بایوٹکس کے غلط استعمال کا۔ کمپنی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس کے تمام انڈےنیشنل ایکریڈیٹیشن بورڈ برائے ٹیسٹنگ اینڈ کیلیبریشن لیبارٹریز سے منظور شدہ لیبارٹریوں میں جانچے جاتے ہیں اور ان کی رپورٹس باقاعدہ طور پر FSSAI پورٹل پر اپ لوڈ کی جاتی ہیں۔
وادی میں ایگوذ انڈوں کے نمونے نہیں ملے
ادھر فوڈ سیفٹی محکمہ نے کشمیر کے مختلف اضلاع میں معائنے کے دوران انڈوں کے 22 نمونےجمع کیے۔ کمشنر ڈرگ اینڈ فوڈ ایڈمنسٹریشن جموں و کشمیر، سمیتا سیٹھی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ مبینہ ملاوٹی انڈوں کی خبروں پر غیر ضروری خوف نہ پھیلائیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اس معاملے کی سنجیدگی سے جانچ کر رہا ہے اور لیبارٹری رپورٹس آنے کے بعد حقائق عوام کے سامنے رکھے جائیں گے۔
برانڈڈ اور کھلے انڈوں میں فرق
برانڈڈ انڈے پیک شدہ، لیبل شدہ اور مختلف دعوؤں کے ساتھ فروخت ہوتے ہیں، جبکہ کھلے انڈے بغیر پیکنگ کے دستیاب ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق انڈوں کی حفاظت کا انحصار پیکنگ پر نہیں بلکہ پیداواری طریقہ، فیڈ، صفائی اور جانچ کے عمل پر ہوتا ہے۔ وہیں یہاں یہ اہم بات سمجھنا ضروری ہے کہ موجودہ معاملہ ایک مخصوص سپلائر اور ایک بیچ تک محدود ہے، نہ کہ تمام انڈوں سے متعلق ہے۔









