امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 7 جنوری : کابینہ وزیر جاوید رانا نے بدھ کے روز شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج ریاسی میں داخلوں سے متعلق پیدا ہونے والے تنازع کو غیر صحت مند اور جمہوری معاشرے کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم میں مذہب کو شناخت نہیں بنایا جانا چاہیے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جاوید رانا نے کہا کہ اس میڈیکل کالج سے جڑے حالیہ واقعات نے غلط پیغام دیا ہے اور سماج کو رجعت کی جانب دھکیلنے کا خطرہ پیدا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جمہوری ملک میں مذہب کو تعلیم کی شناخت بنانا کسی بھی صورت مناسب نہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ تعلیم کو فرقہ وارانہ رنگ دینا مستقبل کے لیے ایک خطرناک مثال قائم کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کا مقصد سماج کو جوڑنا ہے، نہ کہ تقسیم کرنا۔
جاوید رانا نے اس معاملے پر بی جے پی پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے اقدامات اور نیت مشکوک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا آگے بڑھ رہی ہے جبکہ ہم مندر مسجد کے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔
کابینہ وزیر نے کہا کہ مذہبی شناخت پر حد سے زیادہ زور دینے سے عوام کو درپیش اصل مسائل سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ماضی کو دہرا رہے ہیں اور حال کو بھول رہے ہیں، جبکہ اسی طرح ممالک ترقی نہیں کرتے۔
انہوں نے زور دیا کہ پالیسی فیصلوں کا محور ترقی، روزگار اور تعلیم ہونا چاہیے، نہ کہ شناخت پر مبنی سیاست، کیونکہ مسلسل پولرائزیشن سماجی ہم آہنگی اور اداروں کی ساکھ دونوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔









