• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعہ, اپریل ۱۷, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
وادیِ کشمیر کے مرجھائے پھول: منشیات کی ‘خاموش تباہی

وادیِ کشمیر کے مرجھائے پھول: منشیات کی ‘خاموش تباہی

الطاف جمیل شاہ/ سوپور

by امت ڈیسک
17/04/2026
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

جب چنار کے سائے بوجھل ہو گئے

​کشمیر کی وہ صبحیں، جہاں کبھی زعفران کی خوشبو ہواؤں میں رقص کرتی تھی اور جلم کے پانیوں میں زندگی کی لہریں اٹھتی تھیں، آج ایک عجیب سے سکوت کی گرفت میں ہیں۔ یہ سکوت کسی برفانی طوفان کا نہیں، بلکہ اس ‘خاموش زہر’ کا ہے جو ہماری نسلِ نو کی رگوں میں چپکے سے اتارا جا رہا ہے۔ منشیات، جو کبھی دور پار کے ملکوں کا قصہ لگتی تھی، آج ہمارے آنگنوں میں ایک ایسے عفریت کی صورت کھڑی ہے جو فرد، خاندان اور پورے معاشرے کے شیرازے بکھیر رہی ہے ۔ جموں و کشمیر کا جغرافیہ، جو اپنی خوبصورتی کے لیے مشہور تھا، آج ایک سنگین سیکیورٹی چیلنج اور انسانی المیے کی آماجگاہ بن چکا ہے ۔ یہ محض ایک قانونی گتھی نہیں جسے پولیس کی لاٹھی سلجھا سکے، بلکہ یہ ایک ایسا ہمہ جہت بحران ہے جس کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر شہری کو اپنے حصے کا چراغ جلانا ہوگا ۔

​باب اول: اعداد و شمار کا نوحہ — جب بستیوں میں زہر گھل گیا

​اس داستان کا سب سے تکلیف دہ پہلو وہ اعداد و شمار ہیں جو پارلیمنٹ کے ایوانوں سے لے کر گلی کوچوں تک ایک بھیانک سچائی بن کر گونج رہے ہیں۔ جموں و کشمیر، جس کی آبادی تقریباً 1.25 کروڑ ہے، وہاں 13.5 لاکھ سے زائد نفوس منشیات کے کالے ناگ کی زد میں ہیں ۔ یعنی ہماری آبادی کا تقریباً 10 فیصد حصہ اس لت کا شکار ہو چکا ہے ۔ گزشتہ تین سالوں میں منشیات کے استعمال میں 1500 فیصد کا وہ ہوش ربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس نے ماہرینِ سماجیات کی نیندیں اڑا دی ہیں ۔

​اب وہ وقت گزر گیا جب نشہ محض کسی جڑی بوٹی یا دھوئیں تک محدود تھا؛ اب تو موت کا یہ سودا "ہارڈ کور” منشیات، بالخصوص ہیروئن کی صورت میں انجکشن کے ذریعے براہِ راست رگوں میں اتارا جا رہا ہے ۔ سری نگر کے انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز (IMHANS) کی دیواریں گواہ ہیں کہ ہیروئن کے عادی افراد میں ہیپاٹائٹس سی (HCV) کی شرح 72 فیصد تک پہنچ چکی ہے ۔ معاشی طور پر بھی یہ ایک ایسی خودکشی ہے جس کی مثال نہیں ملتی؛ ایک اوسط درجے کا ہیروئن کا عادی فرد ماہانہ 88,000 سے 90,000 روپے اس زہر کی نذر کر دیتا ہے ۔ یہ معاشی دباؤ خاندانوں کو دیوالیہ کر رہا ہے اور نوجوانوں کو جرائم کی اس دلدل میں دھکیل رہا ہے جہاں سے واپسی کا راستہ مسدود نظر آتا ہے۔

یہ اعداد و شمار محض نمبر نہیں، بلکہ ان بستیوں کی چیخیں ہیں جہاں منشیات اب شہروں کی حدود پھلانگ کر دور دراز کے دیہاتوں تک سرایت کر چکی ہے ۔

باب دؤم:​ ٹوٹتے ہوئے گھر اور خاموش سسکیاں

​منشیات کو "خاموش تباہی” اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ فرد کی شخصیت کے محل کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے، اس سے پہلے کہ بیرونی دنیا کو اس کی خبر ہو۔ نفسیاتی طور پر، یہ لت نوجوانوں کے خوابوں، ان کی اخلاقی اقدار اور مستقبل کے عزائم کا گلا گھونٹ دیتی ہے ۔ والدین کے لیے اس سے بڑا المیہ کیا ہوگا کہ وہ اپنے جگر گوشے کو اپنی آنکھوں کے سامنے ایک زندہ لاش میں تبدیل ہوتے دیکھیں؟ سماجی بدنامی کا ڈر اکثر انہیں اس درد کو چھپانے پر مجبور کر دیتا ہے، جس سے مرض بڑھتا چلا جاتا ہے ۔

​تحقیقات کے مطابق 52.8 فیصد نوجوان صرف اس لیے اس راہ پر چل پڑے کہ ان کے "ساتھیوں کا دباؤ” ان کی قوتِ ارادی سے زیادہ طاقتور تھا ۔ ذہنی تناؤ، بے روزگاری اور خاندانی جھگڑے وہ ایندھن ہیں جو اس آگ کو مزید بھڑکاتے ہیں ۔ جب ایک نوجوان اس گرداب میں پھنس جاتا ہے، تو وہ اپنی شناخت کھو دیتا ہے؛ جھوٹ، چوری اور جارحیت اس کا نیا لباس بن جاتے ہیں ۔

باب سؤم: ​حصارِ والدین — پہلی اور آخری دفاعی لکیر

​اس جنگ میں اگر کوئی سب سے مضبوط حصار ہے، تو وہ "گھر” ہے۔ والدین کی ذمہ داری صرف بچوں کے لیے پیٹ بھرنے کا سامان کرنا نہیں، بلکہ ان کے دلوں میں صحیح اور غلط کے درمیان ایک مضبوط دیوار قائم کرنا ہے ۔ آج کے دور میں، جہاں سوشل میڈیا کا جادو بچوں کو نامعلوم دنیاؤں کی طرف لے جا رہا ہے، والدین کا کردار ایک مشعلِ راہ کی طرح ہونا چاہیے ۔

​والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ ایسا دوستانہ تعلق قائم کریں کہ بچہ کسی بھی مشکل میں باہر جانے کے بجائے اپنے گھر میں پناہ تلاش کرے ۔ بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا جاسوسی نہیں، بلکہ ان کی حفاظت ہے ۔ اگر والدین بچپن ہی سے ان کی اخلاقی تربیت کریں، تو صحبتِ بد کے اثرات کمزور پڑ جاتے ہیں ۔

​ جب بادل منڈلانے لگیں

  • نفسیاتی اچانک موڈ بدلنا، چڑچڑاپن، تنہائی پسندی ہمدردی سے بات کریں، تنقید سے گریز کریں۔
  • جسمانی آنکھوں کی سرخی، وزن میں کمی، نیند کے معمولات کی تباہی فوری طبی معائنہ اور ڈاکٹر سے مشورہ۔
  • سماجی نئے مشکوک دوست، گھر سے قیمتی اشیاء کا غائب ہونا مالی معاملات پر نظر رکھیں، دوستوں سے ملیں۔
  • والدین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ شک اور غصہ بچے کو مزید دور کر سکتا ہے، جبکہ اعتماد اور محبت اسے واپس لانے کا واحد ذریعہ ہیں ۔

​باب چہارم: مدرسہ اور مکتب — کردار سازی کے مراکز

​تعلیمی ادارے وہ نرسریاں ہیں جہاں قوم کا مستقبل پروان چڑھتا ہے۔ اساتذہ کا کردار محض نصاب ختم کرانا نہیں، بلکہ ان کلیوں کو زہریلی ہواؤں سے بچانا ہے ۔ جموں و کشمیر کے محکمہ تعلیم نے 2025 میں جو سخت ہدایات جاری کی ہیں، وہ اسی ضرورت کا پیش خیمہ ہیں ۔

​ان ہدایات کے تحت اب ہر سکول میں "ڈرگ فری پالیسی” اور "ویجیلنس کمیٹیاں” بنانا لازمی ہے ۔ سکولوں میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب، کینٹینوں کی نگرانی اور مشکوک رویوں کی دستاویزی ریکارڈنگ اب تعلیمی عمل کا حصہ بن چکی ہے ۔

محکمہ تعلیم اور صحت نے مل کر نصاب میں منشیات کے خلاف خصوصی اسباق شامل کیے ہیں تاکہ طلبہ کو بچپن ہی سے اس زہر کی حقیقت معلوم ہو سکے ۔ ہر سکول میں ایک تربیت یافتہ کونسلر کی موجودگی اب ایک خواب نہیں بلکہ ایک قانونی ضرورت ہے ۔

باب پنجم:​ منبر و محراب کی آواز — ایک روحانی مسیحائی

​کشمیر کے روایتی معاشرے میں، جہاں اذان کی آواز دلوں کو گرماتی ہے، علماء اور مذہبی رہنماؤں کا کردار کلیدی ہے ۔ مسجد اور منبر سے اٹھنے والی آواز قانون کے ہتھوڑے سے زیادہ موثر ثابت ہو سکتی ہے ۔ وقف بورڈ جیسے ادارے اس سلسلے میں ائمہ کے لئے گر ورکشاپس کا انتظام کرین تاکہ مختلف جگہوں پر اس سلسلے میں منظم کام ہو۔

​باب ششم: ریاست کا عزم اور قانون کا آہنی ہاتھ

​حکومتِ جموں و کشمیر نے اس ‘خاموش جنگ’ میں اب اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے۔ جموں کشمیر نشہ مکت ابھیان” اب ایک عوامی تحریک بنتی جارہی ہے ۔ 100 روزہ مہم کا مقصد محض آگاہی نہیں، بلکہ اس زہریلی تجارت کی بنیادوں کو ہلانا ہے ۔

​ریاست نے اب اسمگلروں کے لیے زمین تنگ کر دی ہے۔ نئے ایس او پیز (SOPs) کے تحت منشیات فروشوں کے پاسپورٹ، آدھار کارڈ اور لائسنس منسوخ کیے جا رہے ہیں، جبکہ ان کی جائیدادوں کو ضبط کر کے ان کی معاشی کمر توڑنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔

​آئس لینڈک ماڈل — ایک دور دراز کی روشنی

​منشیات کے خلاف عالمی سطح پر اگر کوئی سب سے کامیاب تجربہ ہے، تو وہ آئس لینڈ کا ہے۔ انہوں نے 20 برسوں میں اپنے نوجوانوں میں نشے کی شرح کو 42 فیصد سے کم کر کے صرف 5 فیصد تک لا کھڑا کیا ۔ اس ماڈل کا فلسفہ یہ ہے کہ نوجوانوں کو صرف "نشہ برا ہے” کہنا کافی نہیں، بلکہ انہیں "نشے سے بہتر” متبادل دینا ہوگا ۔

​آئس لینڈ میں حکومت بچوں کو کھیلوں، موسیقی اور تخلیقی کاموں کے لیے خصوصی "واؤچرز” دیتی ہے، جس سے وہ فارغ اوقات میں بری صحبت کے بجائے تعمیری سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں ۔ جموں و کشمیر میں بھی "نشاء مکت کلبوں” اور بڑے پیمانے پر کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد اسی تزویراتی سوچ کا حصہ ہے تاکہ نوجوانوں کی توانائی کو مثبت رخ دیا جا سکے ۔

سماجی مسیحا اور غیر سرکاری تنظیمیں

اس جنگ میں سول سوسائٹی اور این جی اوز کا کردار کسی ہراول دستے سے کم نہیں ۔ مختلف فلاحی اور عوامی تنظیمیں انجمنیں یا دینی نظم وادی کے ان کونوں میں کام کر رہی ہیں جہاں سرکاری مشینری کی پہنچ محدود ہوتی ہے۔

​محلہ کمیٹیاں — عوامی بیداری کا استعارہ

​سری نگر کے علاقے "پانڈچھ” میں عوامی مزاحمت نے ثابت کر دیا ہے کہ جب بستی کے لوگ جاگ اٹھتے ہیں، تو زہر بیچنے والوں کے قدم اکھڑ جاتے ہیں ۔ محلہ کمیٹیاں، چوکیدار اور لمبردار وہ ‘آنکھیں اور کان’ ہیں جو کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوراً پولیس کو دے سکتے ہیں ۔

​اندھیرے سے اجالے تک — امید کی سچی کہانیاں

​اس بھیانک تصویر کے بیچ کچھ ایسی کہانیاں بھی ہیں جو تاریک رات میں جگنو کی طرح چمکتی ہیں۔ سری نگر کی 24 سالہ ” کی کہانی ایک ایسا ہی شاہکار ہے، جس نے ہیروئن کی ہلاکت خیز لت کو شکست دے کر اب بڑے تعلیمی سفر کا آغاز کیا ہے ۔

اسی طرح لدھیانہ کے منیش کا قصہ بتاتا ہے کہ ایک ماں کی دعائیں اور معمولی سا علاج کس طرح 9 سال پرانی لت کو ختم کر سکتے ہیں ۔ یہ کہانیاں ہمیں سکھاتی ہیں کہ منشیات کا شکار ہونا زندگی کا خاتمہ نہیں، بلکہ درست سمت میں اٹھایا گیا ایک قدم نئی زندگی کی شروعات ہو سکتا ہے ۔

ہر فرد ایک سپاہی، ہر گھر ایک قلعہ

​آج جموں و کشمیر ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل داؤ پر لگا ہے ۔ یہ جنگ صرف حکومت، پولیس یا ہسپتالوں کی نہیں، بلکہ ہر اس شخص کی ہے جو اس وادی سے محبت کرتا ہے ۔ ہمیں "زہر بیچنے والوں” کے لیے آہنی ہاتھ اور "زہر کا شکار ہونے والوں” کے لیے ہمدرد دل بننا ہوگا ۔

​جب ہر سکول ایک کونسلنگ سینٹر، ہر مسجد ایک آگاہی کا مرکز اور ہر محلہ ایک نگران بن جائے گا، تبھی یہ ‘خاموش تباہی’ دم توڑ دے گی۔ یاد رکھیے، ایک متحد اور بیدار معاشرہ ہی اس گرداب سے نکل سکتا ہے۔ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو ایک ایسا کشمیر دینا ہے جہاں چنار کے سائے بوجھل نہ ہوں، بلکہ وہ تازہ ہوا اور امیدوں کا استعارہ بن کر لہرائیں۔ اس جنگ میں ہر قلم، ہر لفظ اور ہر آواز ایک ہتھیار ہے، اور ہماری جیت کا انحصار اس مشترکہ عزم پر ہے کہ "منشیات کو نہیں، زندگی کو ہاں کہو۔”

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

حقوق العباد کا فقدان

Next Post

ایران سے جنگ نہیں چاہتا تھا مگر مجبور ہوا، ایٹمی ہتھیار کی اجازت نہیں دیں گے: ٹرمپ

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

مشرقی وسطیٰ کے کشیدہ حالات : کشمیرکی دستکاری صنعت کو لگا دھچکا

نشہ مُکت بھارت امید کی کرن

17/04/2026
مشرقی وسطیٰ کے کشیدہ حالات : کشمیرکی دستکاری صنعت کو لگا دھچکا

حضرتشیخ داؤد ریشی (المعروف بتہ مول) رحمتہ اللہ علیہ وادی میں یکساں مقبول ہیں

17/04/2026
انتخابی مہم کی  سیاسی نفسیات اور  بنکھو وزیر اعلیٰ گانا

100 روزہ سفر نشے کے خلاف عزم، اور نئی زندگی کی جانب ایک روشن قدم

17/04/2026
احساس و ہمدردی سے عاری لوگ

آدابِ عامہ اور حق الطریق: ایک مطالعہ

10/04/2026
ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال

بے چینی کی زہریلی لہریں چہار سو: وجوہات، تدارک اور مستقبل

10/04/2026
حضرت سخی زین الدین ولی ( المروف زینہ شاہ ) رحمتہ اللہ علیہ کا اپنے منفرد اور بلند مقام

حضرت سخی زین الدین ولی ( المروف زینہ شاہ ) رحمتہ اللہ علیہ کا اپنے منفرد اور بلند مقام

03/04/2026
Next Post
ٹرمپ نے پھر لیا بھارت پاکستان جنگ خاتمہ کا کریڈٹ، 5 طیارے تباہ ہونے کی بات دہرائی

ایران سے جنگ نہیں چاہتا تھا مگر مجبور ہوا، ایٹمی ہتھیار کی اجازت نہیں دیں گے: ٹرمپ

زیادہ عمر میں پہلی بار دادا بننے والا آسٹریلیوی شہری

زیادہ عمر میں پہلی بار دادا بننے والا آسٹریلیوی شہری

چین نے 22 ہزار سے زائد ڈرونز ایک ساتھ اُڑا کر عالمی ریکارڈ بنالیا

چین نے 22 ہزار سے زائد ڈرونز ایک ساتھ اُڑا کر عالمی ریکارڈ بنالیا

اسرائیل کو ’’قدرت کی سزا‘‘، لاکھوں شہد کی مکھیوں کا ’’حملہ‘‘، ویڈیوز وائرل

اسرائیل کو ’’قدرت کی سزا‘‘، لاکھوں شہد کی مکھیوں کا ’’حملہ‘‘، ویڈیوز وائرل

لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا آغاز

لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا آغاز

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »