(سرینگر) جنوبی کشمیر میں ضلع شوپیان کے بابا پورہ زینہ پورہ علاقے میں اتوار (24 اکتوبر) کی صبح اس وقت سنسنی پھیل گئی جب سی آر پی ایف کیمپ کے نزدیک ایک نوجوان کی گولیاں لگنے سے موت ہوئی ۔ پولیس نے نوجوان کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مسلح جنگجوﺅں نے سی آر پی ایف کیمپ پر حملہ کیا جس دوران طرفین کے مابین گولی باری کی زد میں آکر نوجوان از جاں ہو گیا ۔ ادھر نوجوان کی ہلاکت کے ساتھ ہی شوپیان اور اننت ناگ کے کئی علاقوں میں انٹر نیٹ خدمات معطل کر دی گئی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق بابا پورہ زینہ پورہ شوپیان علاقے میں اتوار کی صبح اس وقت افرا تفری کا ماحول پھیل گیا جب سی آر پی ایف کی 178 بٹالین کے کیمپ کے نزدیک گولیاںچلانے کی آواز سنائی دی ۔ معلوم ہوا ہے کہ فائرنگ کے واقعہ کے ساتھ ہی وہاں ایک نوجوان کو خون میں لت پت دیکھا گیا اور بعد میں اگرچہ اس کو مقامی لوگوں نے اسپتال پہنچایا تاہم وہ راستے میں ہی موت کی آغوش میں چلا گیا ۔ مہلوک نوجوان کی شناخت شاہد اعجاز ولد اعجاز احمد ساکنہ آرونی بجبہاڑہ کے طور ہوئی ہےجو پیشہ سے دودھ بیچتے والا تھا ۔
نوجوان کی ہلاکت کے ساتھ ہی علاقے میں افر اتفری کاماحول پھیل گیا جبکہ لوگوں میں غم و غصہ کی لہر پائی جار ہی تھی ۔ اسی دوران جموں و کشمیر پولیس جائے واردات پر پہنچ گئی جنہوں نے نوجوان کی نعش کو اپنی تحویل میں لیا ۔ نوجوان کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے پولیس نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ مسلح جنگجوﺅں نے اتوار کی صبح با با پورہ زینہ پورہ میں قائم سی آر پی ایف کیمپ کو نشانہ بنا کر حملہ کیا جس دوران وہاں سے بھی سی آر پی ایف اہلکاروں نے فائرنگ کی اور طرفین کے مابین کچھ منٹوں تک چلنے والی گولیوں کی زد میں شاہد اعجاز نامی نوجوان بھی آیا اور کراس فائرنگ کے دوران اس کی موت ہوئی ہے ۔ پولیس کے مطابق واقعہ کی نسبت کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہے اور حقائق کو جاننے کیلئے کارروائی تیز کر دی گئی ہے ۔ادھر نوجوان کی ہلاکت کے ساتھ ہی شوپیان اور اننت ناگ کے کئی علاقوں میں موبائیل انٹر نیٹ خدمات معطل کر دی گئی ہے ۔ دریں اثنا نوجوان کے لواحقین نے احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے لخت جگر کو جرم بے گناہی میںمارا گیا اور جو بھی ملوث ہو گیا ان کے خلاف کارورائی عمل میںلائی جائے ۔










