• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
منگل, جنوری ۲۷, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
زلمے خلیل زاد پر الزامات

زلمے خلیل زاد پر الزامات

قاضی جاوید

by امت ڈیسک
22/10/2021
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

امریکا سے یہ خبر آتی رہی ہے کہ افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی سفیر زلمے خلیل زاد مستعفی ہو رہے ہیں لیکن 18 اکتوبر کی شام یہ پتا چلا کہ وہ اپنا دفتر بھی خالی کر چکے ہیں اور اب ان کے نائب تھامس ویسٹ ان کا عہدہ سنبھالیں گے۔ خلیل زاد اس عہدے پر گزشتہ تین برسوں سے بھی زیادہ عرصے سے فائز تھے، جنہوں نے ٹرمپ اور بائیڈن دونوں کی انتظامیہ میں کام کیا۔ قبل ازیں اسی ماہ ہونے والے امریکا طالبان مذاکرات اور امریکی وفد کی پاکستان آمد کے موقع پر بھی وفد میں زلمے خلیل زاد موجود نہیں تھے۔ ایک ایسے وقت میں افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی سفیر زلمے خلیل زاد مستعفی ہوئے جب روس میں افغان امن مذاکرات ہو رہے ہیں جس میں امریکا، چین، روس پاکستان اور بھارت نے شرکت کرنا تھی۔ اس اجلاس میں طالبان کو بھی خصوصی حیثیت حاصل ہو گی جس کی وجہ یہ ہے روس نے اب تک طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا لیکن روس نے طالبان کو شرکت کے لیے جو دعوت نامہ جاری کیا ہے اس میں طالبان کے بجائے ’’حکومت ِ افغانستان کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں‘‘ اس کانفرنس میں امریکا شرکت نہیں کر رہا ہے جس کی کوئی وجہ بتائی گئی امریکا مشرقی ایشیا میں مکمل طور پر غائب نظر آرہا ہے امریکا کو اب مشرقی ایشیا کے بجائے مغربی ایشیا میں زیادہ دلچسپی جس میں مشرقِ وسطیٰ سرِ فہرست ہے اسی مقصد کے لیے بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر اسرائیل پہنچے جہاں ’’ٹرمپ ابراہم ایکارڈ‘‘ کی پہلی سالگرہ منائی گئی۔ جس میں بھارت، متحدہ عرب امارات، اسرائیل اور امریکا نے شرکت کی جس سے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے بھی مواصلاتی خطاب کیا اور ایک میں نئی تنظیم کواڈ2 تشکیل دی گئی۔ نئی تنظیم کواڈ2 کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ یہ ایک تجارتی تنظیم ہے لیکن امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ: ’’خصوصی سفیر زلمے خلیل زاد کو امریکی حکومت نے ایک ایسے وقت میں رخصت کیاجب امریکی سینیٹ کی جانب سے بنائی گئی محکمہ خارجہ کےانسپکٹرجنرل نےافغانستان سے امریکاکے انخلاکی تحقیقات بھی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے‘‘۔

امریکا میں ان دنوں زلمے خلیل زاد پر شدید نکتہ چینی بھی ہوئی کہ انہیں ٹرمپ کی صدارت کے دوران شروع ہونے والے امن مذاکرات میں طالبان پر جس قدر دباؤ ڈالنا چاہیے تھا اتنا دباؤ نہیں ڈالا۔ لیکن امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ان کی خدمات پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا، امریکی عوام کے لیے ان کی کئی دہائیوں پر محیط خدمات کے لیے میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ زلمے خلیل زاد کئی برسوں افغانستان اور اقوام متحدہ کے لیے امریکا کے سفیر رہے۔ اس ماہ کے اوائل میں انخلا کے بعد پہلی بار امریکی حکام نے دوحا میں طالبان قیادت سے بات چیت کی تھی اور اس بات چیت میں بھی خلیل زاد کو نہیں شامل کیا گیا تھا۔ اب انہیں اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا۔

سابق امریکی حکام نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات چیت میں کہا کہ زلمے خلیل زاد حالیہ برسوں میں ہونے والی واشنگٹن کی ایک بڑی سفارتی ناکامی کا عوامی چہرہ بن چکے ہیں۔ اس دوران امریکی محکمہ خارجہ کے انسپکٹر جنرل نے کانگریس کے نام اپنے ایک مکتوب میں انکشاف کیا ہے کہ وہ افغانستان سے افراتفری پر مبنی امریکی انخلا کے بارے میں تفتیش کا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ محکمے کی قائم مقام انسپکٹر جنرل ڈیانا شا کی جانب سے بھیجے گئے اس خط میں اس بات کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ اس جائزے میں امیگرنٹ ویزا کے خصوصی پروگرام، افغانوں کو امریکا میں پناہ گزین کا درجہ دینے اور ان کی آبادکاری کے ساتھ ہی کابل کے امریکی سفارت خانے سے ہنگامی انخلا جیسے موضوعات شامل ہیں۔ گزشتہ اگست میں جب طالبان نے امریکا کی حمایت یافتہ افغان حکومت کے خلاف حملے شروع کیے تو کسی کو گمان بھی نہیں تھا کہ صدر اشرف غنی کی حکومت تاش کے پتوں سے بھی کم وقت میں بکھر کر رہ جائے گی۔ طالبان نے بڑی سرعت سے کابل پر قبضہ کر لیا تھا۔ امریکا میں حزب اختلاف کی جماعت ریپبلکن پارٹی نے جس انداز سے افغانستان سے انخلا ہوا اور بیس برس کی فوجی کارروائیوں کے بعد جس طرح پورا نظام آناً فاناً تباہ ہو گیا، اس حوالے سے بائیڈن انتظامیہ پر شدید نکتہ چینی کی ہے۔
امریکی وزات خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے 18اکتوبر کو کہا کہ افغانستان سے متعلق اس ہفتے ماسکو میں ہونے والی بین الاقوامی سطح کی بات چیت میں امریکا بعض لاجسٹک وجوہات کے سبب شامل نہیں ہوگا۔ ماسکو میں یہ بات چیت بیس اکتوبر ختم ہوگئی ہے۔ اس میں چین، پاکستان، بھارت اور طالبان سمیت روس کے حکام بھی حصہ لے رہے ہیں۔ روسی سفیر ضمیر قبولوف کا تاس نیوز کوکہنا تھا کہ اس بات چیت کا مقصد افغانستان کے بدلتے ہوئے حالات پر ایک مشترکہ موقف اختیار کرنا ہے۔ تاہم امریکی ترجمان کا اے ایف پی کو کہنا تھا کہ، ’’ہم ماسکو مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گے۔ دیگر فریقین پر مشتمل سہ فریقی بات چیت موثر ہے، اور یہ تعمیری فورم ہے۔ ہم اس فورم میں آگے بڑھنے کے منتظر ہیں، لیکن ہم اس ہفتے حصہ لینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں‘‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ماضی میں بھی اس طرح کی بات چیت موثر ثابت ہوئی ہے، لیکن ہمارے لیے اس میں حصہ لینا کافی مشکل ہے۔ ان سے جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا امریکا اس عمل کا حامی ہے تو انہوں نے کہا، جی امریکا اس طرح کے مذاکرات کی حمایت کرتاہے۔
افغانستان میں مقامی اور خاص طور پر مشرقی افغانستان میں گوریلا جنگجوؤں کے گروہوں نے امریکا کی حمایت سے سوویت یونین کے خلاف برسوں تک علم بغاوت بلند کیے رکھا۔ امریکا نے انہیں اسلحہ اور پیسہ فراہم کیا تاکہ اس کے دشمن سوویت یونین کے منصوبوں کو ناکام بنایا جا سکے۔ اگر ہم خفیہ دستاویزات، صحافیوں کی تحقیقات اور اس دور کے خصوصی لوگوں کے انٹرویوز کو دیکھیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ امریکا سوویت یونین کو اس دلدل میں پھنسانا چاہتا تھا جہاں اسے جان و مال کا اتنا ہی نقصان اٹھانا پڑے جتنا کئی سال پہلے امریکا کو خود ویتنام میں اٹھا پڑا تھا۔ سوویت فوجیوں کا انخلا شروع ہونے کے صرف آٹھ سال بعد 1996 میں طالبان نے کابل پر فتح حاصل کر لی اور افغانستان پر اسلامی حکومت بنائی جسے دنیا بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا گیا جیسا کہ آج ہو رہا ہے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس فتح میں امریکا کا کوئی کردار تھا؟ افغان مجاہدین کو سوویت یونین کے خلاف لڑنے کے لیے امریکا اور دوسرے کئی ممالک نے ہتھیار فراہم کیے لیکن 2001ء میں طالبان مکمل طور سے آزاد تھے اور یہ جنگ امریکا سمیت دنیا بھر کے لیے حیران کن تھی جس نے امریکا کو مشرقی ایشیا سے مکمل طور سے آؤٹ کر دیا۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

شوپیان میں 9قیدیوں پر پی ایس اے کا اطلاق

Next Post

سرینگر میں اقلیتوں کے علاقوں کی فضائی نگرانی رکھی جائے گی: ڈی جی سی آر پی ایف

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

جموں وکشمیر میں ایل جی سے 5 سال کے بعد محبوبہ مفتی نے کی ملاقات، کشمیری پنڈتوں کے لئے کیا یہ بڑا مطالبہ

’’تجربات کو جھٹلانے سے حقیقت نہیں بدلتی…‘‘، اے آر رحمان تنازع پر محبوبہ مفتی کا بیان

18/01/2026
جموں کی علیحدگی کا مطالبہ: جموں و کشمیر کی سیاست ایک نئے موڈ پر

جموں کی علیحدگی کا مطالبہ: جموں و کشمیر کی سیاست ایک نئے موڈ پر

16/01/2026
این ایم سی نے شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کی منظوری منسوخ کر دی، طلباء کو دوسرے اداروں میں شفٹ کیا جائے گا

شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل داخلہ معاملہ: "سانپ بھی مرا اور لاٹھی بھی ٹوٹی”

09/01/2026
گلفام بارجی!  اداکاری سے شاعری تک

گلفام بارجی! اداکاری سے شاعری تک

02/01/2026
قومی شاہراہ، جس نے میوہ صنعت کی کمر توڑ دی!

سال 2025: کشمیر کی میوہ صنعت کے لیے بدترین سال

02/01/2026
کتھ باتھ سے  گل بات تک: کیا نوجوانوں کے مسائل کے زریعے ساکھ بحال کرنے کی کوشش؟؟

کتھ باتھ سے گل بات تک: کیا نوجوانوں کے مسائل کے زریعے ساکھ بحال کرنے کی کوشش؟؟

26/12/2025
Next Post
سرینگر میں اقلیتوں کے علاقوں کی فضائی نگرانی رکھی جائے گی: ڈی جی سی آر پی ایف

سرینگر میں اقلیتوں کے علاقوں کی فضائی نگرانی رکھی جائے گی: ڈی جی سی آر پی ایف

پونچھ تصادم : چالیس گھنٹوں کے تعطل کے بعد فائرنگ دوبارہ شروع

پونچھ تصادم : چالیس گھنٹوں کے تعطل کے بعد فائرنگ دوبارہ شروع

سرینگر میں موٹر سائیکل ضبط کرنے کا سلسلہ کئی روز سے جاری

سرینگر میں موٹر سائیکل ضبط کرنے کا سلسلہ کئی روز سے جاری

بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی نے پوری وادی کو اپنی لپیٹ میں لیا

بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی نے پوری وادی کو اپنی لپیٹ میں لیا

عید میلاد کے اختتامی جمعہ کے موقعے پر وادی بھر کی مسجدوں، خانقاہوں اور زیارت گاہوں میں اجتماعات

عید میلاد کے اختتامی جمعہ کے موقعے پر وادی بھر کی مسجدوں، خانقاہوں اور زیارت گاہوں میں اجتماعات

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »