(سرینگر) جنوبی ضلع کولگام میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارورائیوں میں تیزی کے بیچ رواں ہفتے میں سیکورٹی فورسز اور جنگجوﺅں کے مابین تیسری مسلح تصادم آرائی میں مقامی حزب جنگجو جاں بحق ہو گیا ہے۔ پولیس نے جھڑپ میں جنگجو کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مارے گئے جنگجو سے اسلحہ و گولہ بارود ضبط کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق عشموجی کولگام علاقے میں دو جنگجوﺅں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد فوج، سی آ ر پی ایف اور ایس او جی کولگام نے علاقے کو سنیچروار کے دوپہر محاصرے میں لیا اور تلاشی کارورائی شروع کر دی۔ ذرائع سے معلو م ہوا ہے کہ منگل کی اعلیٰ الصبح جونہی علاقے میں تلاشی آپریشن شروع کر دیا گیا تو وہاں موجود جنگجوﺅں نے فرار ہونے کی کوشش کی اور فوج و فورسز پر شدید فائرنگ کی۔ ذرائع کے مطابق علاقے میں فائرنگ شروع ہوتے ہی فوج و فورسز نے مورچہ زن ہوکر جوابی کارروائی کی اور اس طرح سے علاقے میں دو بددو جھڑپ شروع ہوئی۔ ذرائع کے مطابق جھڑپ شروع ہونے کے ساتھ ہی گولیوں کی گن گرج سے پورا علاقہ لرز اٹھا جبکہ فوج و فورسز نے پورے علاقے کو سیل کرکے جنگجوﺅں کے فرار ہو نے کے تمام راستے سیل کر دئے اور فوج کی اضافی کمک طلب کرکے آپریشن کو وسیع کر دیا گیا۔ اسی دوران ذرائع سے معلو م ہوا ہے کہ رہائشی مکان میں محصور جنگجوﺅں کو خود سپردگی کرنے کی پیشکش کی گئی تاہم انہوں نے پیشکش ٹھکرادی اور فائرنگ کی جس کے ساتھ ہی علاقے میں جھڑپ دوبارہ شروع ہوئی۔ ذرائع کے مطابق علاقے میں طرفین کے مابین گولیوں کا تبادلہ قریب آدھے گھنٹے تک جاری رہا جس کے بعد جونہی علاقے میں گولیوں کا تبادلہ تھم گیا تو جھڑپ کے مقام سے ایک جنگجو کی نعش بر آمد کر لی او ر ان کے قبضے سے اسلحہ و گولہ بارود بھی ضبط کر لیا گیا۔ پولیس کے ایک سنیئر آفیسر نے جھڑپ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جھڑپ کے دوران ایک جنگجو جاں بحق ہو گیا ہے۔ ادھر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ علاقے میں جھڑپ کے دوران جاں بحق ہوا جنگجو کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ مقامی تھا اور عسکری تنظیم حزب المجاہدین سے وابستہ تھا۔ جنگجو کی شناخت مالون سے تعلق رکھنے والے مدثر احمد وگے کے طور پر ہوئی ہے۔تاہم پولیس ذرائع نے اس کی تصدیق نہیںکی ۔










