(سرینگر) پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے الزام لگایا ہے کہ ملک کے باقی حصوں کے مقابلے میں جموں وکشمیر میں لاگو کئے جارہے قوانین مختلف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں قوانین کو بھی ’فرقہ وارانہ‘ رنگ دیا گیا ہے۔ موصوفہ نے ان باتوں کا اظہار ہفتے کے روز اپنے ایک ٹویٹ میں صحافی سجاد گل کی گرفتاری کے رد عمل میں کیا۔ انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا: انڈیا کے باقی حصوں کے مقابلے میں جموں وکشمیر میں لاگو کئے جارہے قوانین مختلف ہیں۔ مسلمانوں کی نسل کشی کی کھلے عام باتیں کرنے والے بنیاد پرست لوگ آزاد گھوم رہے ہیں جبکہ حقوق بشر خلاف ورزیوں پر روشنی ڈالے والے کشمیری صحافیوں کو جیل بھیج دیا جاتا ہے‘۔ ان کا ٹویٹ میں مزید کہنا تھا: ’یہاں قوانین کو ’فرقہ وارانہ‘ رنگ دیا گیا ہے‘۔
There is a different set of laws applicable to J&K vis a vis rest of India. Radicalised groups openly calling for genocide of muslims are roaming free while Kashmiri journalists shining a light on state sponsored human rights violations are jailed. Laws too have been communalised https://t.co/tQRtnnQRCD
— Mehbooba Mufti (@MehboobaMufti) January 8, 2022
دریں اثنا پی ڈی پی صدر نے انتظامیہ کی جانب سے پی ڈی پی کے 10 پارٹی لیڈران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں بھی دہرا معیار اختیار کیا جارہا ہے۔ واضح رہے پی ڈی پی بانی مفتی محمد سعید کی برسی کے موقع پر منعقد ریلی کے دوران کوؤڈ ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے پر 10 پی ڈی پی لیڈران پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
Covid 19 restrictions apply only to PDP. Not to BJP’s protest in Kashmir yesterday, PMs rally in Punjab or the mass poojas attended by hundreds of people to pray for his safety. Talks volumes about J&K admin’s brazen bias against my party. https://t.co/AnvL0riCMD
— Mehbooba Mufti (@MehboobaMufti) January 8, 2022











