مجھے یقین کیوں نہیں آرہا ہے
کہ وہ شخص انجمن چھوڑ چلا ہے
کل بعد مغرب کی بات ہے کہ پروفیسر خالد حامدی صاحب نے سوشل میڈیا پر بات شروع کی اور اپنے مخصوص انداز سے مجھ سے مخاطب ہوکر پند و نصائح کرنے لگئے۔ فضل اللہ کہ میں نے تحمل و ادب کے ساتھ ان کو پڑھا اور استاد محترم کہہ کر مخاطب کیا، آج بعد عصر چائے پی رہا تھا کہ یہ خبر پڑھنے کو ملی کہ محترم دنیا سے رخصت ہوگئے!
ائے الہی یہ بندہ تیری بارگاہ میں حاضر ہوا ہے، ائے اللہ اس کی مغفرت فرما اور درجات بلند فرما۔
آج سے کئی سال پہلے اخبار والے کے پاس گیا تو اللہ کی پکار نامی رسالے پر نظر پڑی، عجیب سا نام لگا! خرید لیا اور واپس آیا تو جب اس رسالے کو پڑھا مجھے بہت اچھا لگا۔ طالب علمی کا زمانہ تھا، میں اس رسالے میں غلطیاں تلاش کرنے کے لئے مسلسل اس کو خریدتا رہا اور پڑھتا رہا۔ حال یہ کہ اس وقت بھی کئی کاپیاں اس رسالے کی میرے پاس موجود ہیں، اس میں اداریہ ، میں نے اسلام کیوں قبول کیا ، عظیم مسلم سائنس داں، خطوط پر تبصرے اور کچھ خبروں پر تبصرے میرے پسندیدہ موضوعات رہے۔ ان موضوعات کو اولین ترجیح رہی جب تک بھی اس رسالے کا مطالعہ کرتا رہا۔ اسی رسالے کے سبب میں استاد خالد حامدی سے قریب ہوتا گیا، مجھے ان کا بیباک ہوکر نقد کرنا اور اپنے مؤقف کے لئے دلیل بھی دینا اچھا لگتا گرچہ کئی ایک جگہوں پر اختلاف کی گنجائش بھی موجود رہی، پر ہر چیز کو علمی نکات پر پرکھتے تھے۔
توحید و سنت کے لئے بہت سخت مؤقف اپناتے تھے، کسی صورت کچھ نہیں سنتے تھے جب بات توحید و سنت کی ہوتی تحریک اسلامی کے اولین رہنما حامد علی رحمہ اللہ کے فرزند ہونے کے سبب، سب سے تحریک اسلامی کے بہت قریب رہے اور سید مودودی ؒ کے افکار و نظریات کے بے حد مداح جس کی بار بار تشہیر کرتے۔ میں نے انتہائی قریب سے بھی ایک مخلص انسان ہی پایا، ان کی نجی مجلس بھی علمی نکات پر ہی ہوتی تھی۔ مسلمانان عالم کے لئے دل میں نرم گوشہ رکھتے تھے۔ اکثر عالمی مسائل پر بلا ججھک تبصرہ کردیتے اور اظہار رائے کے لئے کسی لاگ لپیٹ کا شائبہ بھی نہیں رکھتے تھے۔ دعوت و اصلاح کے بے حد مداح تھے اور اسی سمت سے سوچتے بھی تھے۔ جماعت اسلامی کے افکار و نظریات سے قریب تھے، پر کسی سبب سے آخری ایام میں جماعت اسلامی ہند سے الگ ہوئے تھے جس کا تذکرہ انہوں نے اپنے رسالے میں بھی کیا اور ایک نجی ملاقات میں بھی۔
ملاقات
میرا ان سے اول اول رابطہ رسالے(اللہ کی پکار) کے سبب فون پر ہی رہا، پر ان کی محبت اور ہر سوال کا نپا تلہ جواب ان کا ۔گرویدہ بناتا گیا۔ پھر جب علاج و معالجہ کے سبب چند سال قبل دہلی کے آپالو اسپتال جانا ہوا تو ان سے ملنے کا بھی پروگرام بنالیا انہوں نے خوش آمدید کہا۔ اس صبح جب میں سویرے ہی بس سے اتر کر ان کے پاس پہنچ گیا، میرے ساتھ اہلیہ بھی تھی، میں انہیں فون پر پوچھتا رہا اور یہ بتاتے رہے، آخر پہنچ گیا ان کے پاس تو دیکھتا ہی رہ گیا۔ میں نے حیرت سے پوچھا کیا آپ ہی ہیں۔ مسکراتے ہوئے کہا آئے بھائی! مجھے اس لفظ سے بے انتہا محبت چھلکتی نظر آتی تھی، اکثر ہر کسی کو بھائی کہہ کر ہی مخاطب کرتے تھے۔ بیٹھ گئے تو اپنی لائبریری دکھائی، کتابیں دکھائی، کچھ مخصوص رسالے دیے، خاص نمبر اور چند کتابیں۔ملاقات مختصر تھی اور انہوں نے کچھ ناشتے کا بھی انتظام کیا تھا جسےان کے کہنے پرتناول کرنا پڑا۔ اب لائبریری سے نکل کر جو کھانے کی میز پر آئے تو ایسا لگ رہا تھا کہ برسوں کی جان پہچھان ہے، اپنائیت کا وہ احساس میں کیسے بھول سکتا ہوں جو میں نے تب محسوس کیا جب میں دہلی میں تھا تو ہر دن پوچھتے کہ کیا صحت کی خبر ہے بھائی! اہلیہ کیسی ہے، کوئی ضرورت تو نہیں۔ میں دہلی سے نکلا تو سرینگر پہنچا بھی نہیں تھا کہ ان کا فون آیا، کیا ٹھیک ہو! بس پھر یہ تعلق بنا رہا اور اس میں غلو تو نہیں پر محبت و عقیدت تھی۔ میں اداس ہوں، آج توحید و سنت کا ایک بہترین داعی ہم سے جدا ہوگیا جس کا اپنا ایک مضبوط مؤقف تھا اور وہ اس مؤقف پر تا عمر کھڑے رہے۔
سوانحی خاکہ
نام: سید محمد خالد علی
قلمی نام: پروفیسر خالد حامدی
والد: سید حامد علی
پیدائش: اپریل ۱۹۵۶
آبائی وطن: مولود میران پور، کٹرہ یوپی
موجودہ رہائش: چار مینار اپارٹمنٹ پہلی منزل چار مینار مسجد ابوالفضل انکلیو
عالمیت فضیلت: جامعہ الفلاح، اعظم گڑھ
ایم اے عربی و ڈاکٹریٹ عربی: جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی
موضوع پی ایچ ڈی: مساھمة بالغة غربية فى ادب الحديث النبويه چھ جلد( عربی زبان میں ہندوستانی مسلمانوں کی حدیث میں خدمات )
اس کے علاوہ بھی ان کی انیس کتابیں ہیں جو یا تو زیر ترتیب ہیں یا پھر منصہ شہود پر آچکی ہیں ان میں سے چند یہ بھی ہیں:
- سید مودودی حالات و دینی خدمات آخری سفر
- عربی زبان و ادب
- سیکولرازم یا اسلام
- نظام جاہلیت سے تعاون اسلامی نقطہ نظر سے
- دعوت حق غیر مسلموں میں تلاش اقبال
۱۹۸۱ سے شعبہ عربی میں لیکچرار کی حیثیت سے جامعہ ملیہ میں خدمات انجام دیتے تھے اور آخر پر شعبہ ھذا میں بحیثیت پروفیسر اپنی خدمات انجام خوش اسلوبی سے دیتے ہوئے رٹائیر ہوئے اور پھر علمی خدمات میں مصروف ہوئے۔ ان کا جو سب سے بڑا علمی تعارف علمی دنیا میں ہوا وہ اللہ کی پکار نامی رسالے کے منصہ شہود پر آنے کے سبب ہوا۔ ۱۹۹۷ سے یہ اس رسالے کے مدیر اعزازی تا ایں دم رہے۔ اس کے ماسوا بھی یہ مختلف اخبارات و رسائل میں لکھتے تھے جو انہیں علمی دنیا میں زندہ رکھے گا۔ اللہ تعالٰی مغفرت فرمائے اور درجات بلند فرمائے۔











