(بنگلورو) کرناٹک ہائی کورٹ نے آج فیصلہ سناتے ہوئے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کو چیلنج کرنے والی تمام درخواستوں کو یہ کہتے ہوئے خارج کر دیا کہ حجاب پہننا اسلام میں ضروری نہیں ہے۔ کرناٹک ہائیکورٹ کے مطابق حجاب کو اسلام میں ضروری نہیں مانا گیا ہے۔ عدالت نے حجاب پہننے سے متعلق دائر تمام عرضیوں کو خارج کردیا۔ اس سے قبل ہائی کورٹ نے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کو چیلنج کرنے والی مختلف درخواستوں پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ خیال رہے چیف جسٹس ریتو راج اوستھی، جسٹس کرشنا ایس ڈکشٹ اور جسٹس قاضی زیب النسا محی الدین پر مشتمل تین ججوں کی بنچ تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کو چیلنج کرنے والی مختلف درخواستوں کی سماعت کر رہی تھی۔ واضح رہے 25 فروری کو کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کو چیلنج کرنے والی مختلف عرضیوں پر اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ یاد رہے کلاس رومز میں حجاب پہننے پر اصرار کرنے والی اُڈپی پری یونیورسٹی کی طالبات کا مطالبہ اس وقت تنازعہ میں تبدیل ہوگیا تھا جب بعض ہندو طلبا نے زعفرانی شال اوڑھنا شروع کیا تھا جس کے بعد یہ مسئلہ ریاست کے دیگر علاقوں تک پھیل گیا، ریاستی حکومت نے یونیفارم کے اصول پر سختی سے عمل کرنے پر زور دیا تھا۔ طالبات نے عرضی داخل کی تھی کہ انہیں اسکول یونیفارم کے ساتھ کلاس روم میں حجاب پہننے کی اجازت دی جائے، کیونکہ حجاب ان کے مذہب کا حصہ ہے۔ آج کرناٹک ہائی کورٹ نے ان طالبات کی تمام عرضیاں خارج کردیں۔ قوی امکان ہے کہ معاملہ اب سپریم کورٹ میں چلینج کیا جائے گا۔











