(سرینگر) نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) اور نئی تشکیل شدہ ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (ایس آئی اے) کی ایک مشترکہ ٹیم نے اتوار کو کپواڑہ جیل میں پی ایس اے کے تحت بند صحافی فہد شاہ کے دفتر اور ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا۔ تفصیلات کے مطابق ریاستی تحقیقاتی ایجنسی صورہ سرینگر کے علاقے انچار میں داوؤد کالونی میں جیل میں بند صحافی فہد شاہ کی رہائش گاہ کی تلاشی لے رہی ہے، ان کے دفتر ”دی کشمیر والا“ میگزین کو بھی تلاش کیا جا رہا ہے۔ سرینگر کے ہی کرسو راجباغ میں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) اور ایس آئی اے کی مشترکہ ٹیم نے تلاشی لی۔ ایک اہلکار کے حوالے سے مقامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق "ایس آئی اے اور این آئی اے کے دفاتر میں پہلے سے درج مقدمات کے سلسلے میں تلاشیاں کی جا رہی ہیں۔ واضح رہے جموں و کشمیر پولیس نے صحافی فہد شاہ پر پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) نافذ کیا ہے جس پر پہلے دو ماہ سے تین مقدمات درج تھے اور وہ اس وقت کپواڑہ سنٹرل جیل میں بند ہیں۔ فہد شاہ کو پہلی بار 4 فروری کو پولیس نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے گرفتار کیا تھا کہ اس نے مبینہ طور پر عسکریت پسندی کی تعریف کی، جعلی خبریں پھیلائیں اور جموں و کشمیر کے لوگوں کو اکسایا۔ پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ فہد شاہ کے خلاف تین الگ الگ فرسٹ انفارمیشن رپورٹس (ایف آئی آر) درج کی گئی ہیں۔ فہد شاہ دہشت گردی کی تعریف کرنے، جعلی خبریں پھیلانے اور امن و امان کی صورتحال پیدا کرنے کے لیے عام لوگوں کو اکسانے کے تین پولیس تھانہ صفاکدل سرینگر کی ایف آئی آر نمبر 70/2020، پولیس تھانہ امام صاحب کی ایف آئی آر نمبر 06/2021 اور ایف آئی آر نمبر 19/2022 پولیس تھانہ پلوامہ میں مطلوب ہے۔ فہد، جو ایک مقامی نیوز میگزین اور پورٹل، "کشمیر والا” کے ایڈیٹر ہیں، کو پہلی بار پلوامہ پولیس کی طرف سے 13 غیر قانونی سرگرمیوں کے تحت درج ایف آئی آر نمبر 19/2022 میں گرفتار کیا گیا تھا جس میں سری نگر کی خصوصی عدالت نے عبوری ضمانت دی تھی۔ اس کے بعد اسے شوپیاں پولیس نے ایف آئی آر نمبر 06/2021 میں گرفتار کیا جس میں سے منصف عدالت نے اسے عبوری ضمانت دے دی اور پھر سرینگر پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔ جموں و کشمیر پولیس نے بعد میں اس پر پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا اور شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع کی سنٹرل جیل میں زیر حراست ہے.










