• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعرات, جنوری ۲۲, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
متوازن معاشرے کی بنیاد

متوازن معاشرے کی بنیاد

فرحی نعیم

by امت ڈیسک
02/06/2022
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

معاشرے کی اخلاقیات آج جس تیزی سے بدل رہی ہیں اس میں تصور زندگی اور تصور عورت بڑی حد تک تبدیل ہو چکے ہیں۔

جو رسوم کبھی ہماری تہذیب میں بالکل اجنبی تھیں، عام لوگ اب ان کو اور ان کے کرداروں کو اپنانے، اس طرح بننے کی خواہش اور کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ اگر ہم صنف نازک کی بات کریں، تو ہماری تہذیب اور روایات عورت کو، اس کی صلاحیتوں کو، ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں، بلکہ مشرق اسے ایک متوازن طرز حیات اور اجتماعی نظام عدل کی تشکیل میں ضروری سمجھتا ہے اور اس کے لیے ایک اخلاقی ضابطہ بھی مقرر کرتا ہے۔

عورت ، معاشی جدوجہد کے عنوان سے جو کردار ادا کر رہی ہے، اس میں اخلاقی ضوابط کا لحاظ بہرحال ضروری ہے۔ ورنہ معاشی ترقی ممکن نہیں۔ بحیثیت عورت ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ مشرقی معاشرے، مغرب کی طرح نہیں چل سکتے۔ ہماری اپنی روایات و اقدار اور رسوم و رواج ہیں، جنھیں کسی صورت چھوڑا نہیں جا سکتا۔ عورت کو عزت و احترام کی نظر سے جس طرح ہمارے معاشرے میں دیکھا جا تا ہے، وہ نہ کسی مغربی معاشرے میں ہے اور نہ کسی مذہب میں، وہ ہر رشتے اور تعلق میں مہربان اور شفیق ہے، ہماری نسلوں کو سنوارنے کی ذمہ داری مرکزی طور پر اسی کے کندھوں پر ہے۔

اگرچہ معاشی ترقی میں عورت کا کردار انتہائی اہم ہے، لیکن ہمیں یہاں اس پہلو کو بھی اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ س کی شرکت سے مراد یہی نہیں کہ وہ ضرور ہی گھر سے باہر نکل کر ملازمت کرے، وہ پس پردہ رہ کر بھی اپنا کردار بخوبی نبھا سکتی ہیں۔

گھر معاشرے کی بنیادی اکائی ہے۔ جس کی مضبوطی، خاندان اور اس سے آگے بڑھ کر مستحکم معاشرے کی تشکیل میں خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔ اگر ایک عورت گھر بیٹھے سلائی، کڑھائی، بُنائی، یا پکانے میں مہارت رکھتی ہے اور اپنے گھر کو چلانے کی بہترین استعداد رکھتی ہے، تو اس طرح وہ گھر کی خوش حالی کا باعث بنتی ہے۔

ضروری نہیں کہ آپ سماجی رنگوں میں رنگ جائیں اور اس کا جزو بنیں۔ آج کی گلیمرائزڈ دنیا کی ضرورت کہیں یا مجبوری کہ اس میں عورت کو سجا سنوار کر پیش کیا جاتا ہے۔ جس کی ہماری تہذیب میں ضرورت نہیں۔ اگر وہ گھر سے نکل کر معاش کے لیے محنت کر رہی ہے، تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کے تشخص کو پامال کیا جائے اور اس کی حیثیت کو کم کیا جائے۔

آج کی عورت بہ یک وقت مختلف میدانوں میں سرگرم عمل ہے۔ اگر ایک طرف اسے گھریلو محاذ پر کام کرنا پڑ رہا ہے، تو دوسری طرف بیرونی امور پر بھی وہ ڈٹی ہوئی ہے۔ اپنی جسمانی کیفیت اور کمزوریوں کے سبب اسے خوف و ہراس اور عدم تحفظ کے مسائل بھی درپیش ہیں۔

عورت کو اپنے وقار اور اعتبار کو بھی قائم رکھنا ہے اس کی عزت وتکریم جب تک برقرار ہے، جب تک وہ اپنے گھر کے دائرہ کار کو بھی اتنی ہی اہمیت دے۔ گھر کو گھر ہی رہنے دینا ہے، اسے سرائے نہیں بنائے۔ اسلام عورت کو عدل پر مبنی نظام عطا کرتا ہے۔ اسے معتبر کرتا ہے۔ عورت حقوق کے لحاظ سے تو مرد کی مساوی ہے لیکن فرائض کے حوالے سے مختلف ہے۔ جب فرائض کی آگاہی حاصل ہوتی ہے، تو حقوق خودبخود ملنے لگتے ہیں۔

بس یہ یاد رہے کہ عورت کو اپنا مقام حاصل کرنے کے لیے مرد بننے کی ضرورت نہیں، کیوں کہ یہ اٹل حقیقت ہے کہ دونوں ہی اصناف مختلف ہیں، یعنی کوئی تو مصلحت ہے قدرت کی، کہ ہر جگہ جوڑے بنائے، ورنہ خالق کائنات کو کیا مشکل تھا کہ وہ ایک ہی صنف میں ڈھال دیتا، اس لیے ہمیں فطرت کے اس تقاضے کو سمجھنا چاہیے اور اسے ہی سامنے رکھتے ہوئے تسلیم کرانا چاہیے کہ عورت عورت ہے اور مرد مرد ہے۔

ان دونوں کے دائرہ کار مختلف ہیں۔ نہ ان میں مقابلہ ہے، نہ مسابقت۔ اس لیے کوئی ’صنفی جنگ‘ نہیں ہونی چاہیے! دونوں کی ترجیحات کا تعین بھی ان کے معاشی و معاشرتی حالات کے مطابق ہوتا ہے۔ حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ خصوصاً خواتین کی تعلیم، صحت، تحفظ، ترقی کی پاس داری کرے۔ اس کا استحصال نہ کیا جائے۔ وہ اپنے گھر اور بچوں کی امین ہے ان کی پرورش اور تربیت کی ذمہ داری اس کے کندھوں پر ہیں، جو ایک ساتھ ناتواں بھی ہیں اور حالات کے بدلاؤ میں مضبوط بھی۔ وہ شیشے کی سے نازک بھی ہے، لیکن وقت کی رفتار کے ساتھ چٹان بھی بن جاتی ہے۔

جسمانی طور پر وہ کمزور سہی، لیکن جتنی قوت برداشت وہ رکھتی ہے، اس سے صَرفِ نظر ممکن نہیں۔ وہ سراپا وفا اور امانت دار ہے اور مرد اس پر نگراں، ایک اعتدال پسند معاشرے میں دونوں اصناف میں توازن بے حد ضروری ہے۔ ایک اچھے سماج میں عورت کا مقام بلند ہوتا ہے اور ساتھ اسے مکمل تحفظ اور امان بھی دی جاتی ہے۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

اننت ناگ میں ٹرین کی زد میں آنے سے ایک شخص از جان

Next Post

افغانستان اورہندوستان کے بارے میں چوتھے سیکورٹی ڈائیلاگ کی اہمیت

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

امریکہ کی لوٹ مار جاری! وینزویلا کا تیل امریکا کے لیے اتنا قیمتی کیوں؟

فرشتوں سے بہتر انسان بننا ہی کیوں

16/01/2026
امریکہ کی لوٹ مار جاری! وینزویلا کا تیل امریکا کے لیے اتنا قیمتی کیوں؟

امریکہ کی لوٹ مار جاری! وینزویلا کا تیل امریکا کے لیے اتنا قیمتی کیوں؟

16/01/2026

کشمیر بغیر برف کے: ایک انتباہی موسمِ سرما

16/01/2026
جموں و کشمیر کے سرکاری تعلیمی ادارے  تشویشناک صورتحال میں ”تعلیم کا اجالا یا انتظامیہ کی تاریکی؟ یو ٹی کے تعلیمی نظام پر ایک نوحہ’’

علمائے حق کی توہین ناقابلِ برداشت: کشمیری قوم کا دوٹوک مؤقف

09/01/2026

یومِ جمہوریہ: قوم کے لیے ایک قابلِ فخر لمحہ

09/01/2026
نسائی شاعری کا ارتقا

نسائی شاعری کا ارتقا

09/01/2026
Next Post
افغانستان اورہندوستان کے بارے میں چوتھے سیکورٹی ڈائیلاگ کی اہمیت

افغانستان اورہندوستان کے بارے میں چوتھے سیکورٹی ڈائیلاگ کی اہمیت

کشمیر میں ہوئی شہری ہلاکتوں کے بیچ امیت شاہ نے وزیر اعظم مودی سے کی ملاقا ت

کشمیر میں ٹارگٹ کلنگ:دہلی میں ہوگی 3جون کو امیت شاہ کی اہم میٹنگ

وزارت خارجہ کی ٹیم افغانستان کے دورے پر: بین الاقوامی تنظیموں کے علاوہ طالبان سے بھی بات چیت متوقع

وزارت خارجہ کی ٹیم افغانستان کے دورے پر: بین الاقوامی تنظیموں کے علاوہ طالبان سے بھی بات چیت متوقع

وجے کمار کی ہلاکت پر سیاسی جماعتوں کا ردعمل

وجے کمار کی ہلاکت پر سیاسی جماعتوں کا ردعمل

غیر مسلم ملازمین کو محفوظ مقامات پر تعینات کریں: محکمہ تعلیم کی سی ای اوز کو ہدایات

غیر مسلم ملازمین کو محفوظ مقامات پر تعینات کریں: محکمہ تعلیم کی سی ای اوز کو ہدایات

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »