امت نیوز ڈیسک // انسداد رشوت بیورو کشمیر نے جموں وکشمیر اسٹیٹ انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے سٹیٹ منیجر فیاض احمد خان کو این او سی کی اجرائیگی کیلئے 1.05 لاکھ روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق انسداد بدعنوانی بیورو کو شکایت کنندہ ساکن سوترہ شاہی، سری نگر کی طرف سے ایک شکایت موصول ہوئی جس میں الزام لگایا گیا کہ وہ ایک صنعتی یونٹ ہولڈر ہے۔ اس کا یونٹ کھنموہ، سری نگر میں واقع ہے۔ مذکورہ صنعتی یونٹ کی توسیع کے لیے اس نے جے اینڈ کے بینک کھنموہ سے مالی مددکی درخواست کی تھی۔ بینک نے ایس آئی ڈی سی او (جموں و کشمیر اسٹیٹ انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن) صنعت گھر بمنہ، سری نگر سے این او سی طلب کیا۔
اس کے مطابق اس نے فائل تیار کی اور تمام کاغذی کام مکمل کیا اور سڈکو آفس بمنہ سے رجوع کیا۔ وہاں تعینات اسٹیٹ مینیجر فیاض احمد خان نے شکایت کنندہ کے حق میں مطلوبہ این او سی جاری کرنے کے لیے اپنے لئے 5ہزار اور جنرل منیجر خورشید احمد کیلئے 1 لاکھ کا مطالبہ کیا۔ چونکہ شکایت کنندہ کوئی رشوت نہیں دینا چاہتا، اس نے 1.05 لاکھ روپے کی رشوت طلب کرنے پر ان بدعنوان افسران کے خلاف ضروری قانونی کارروائی کی درخواست کے ساتھ اے سی بی سے رجوع کیا۔
شکایت کے مندرجات پہلی نظر میں پی سی ایکٹ 1988 کے سیکشن 7 اور تعزیرات ہند کی دفعہ 120-بی کے تحت جرم کے کمیشن کا انکشاف کرتے ہیں لہذا فوری طور پر ایف آئی آر نمبر 23/2022 پولیس تھانہ اے سی بی سری نگر میں درج کیا گیا اور تحقیقات شروع کی گئیں۔
کیس کے اندراج کے فوراً بعد ٹریپ ٹیم تشکیل دی گئی۔ ٹیم نے فیاض احمد خان، اسٹیٹ مینیجر سڈکو صنعت گھر، بمنہ، سری نگر کو شکایت کنندہ سے رشوت کا مطالبہ کرتے اور وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ اسے اے سی بی کی ٹیم نے موقع پر ہی گرفتار کرلیا۔ آزاد گواہوں کی موجودگی میں اس کے قبضے سے رشوت کی رقم بھی برآمد کی گئی ۔











