• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
ہفتہ, جنوری ۳۱, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
افغان طالبان کا ’ظالم‘ سمجھا جانے والا کمانڈر غزنی میں ہلاک

افغان طالبان کا ’ظالم‘ سمجھا جانے والا کمانڈر غزنی میں ہلاک

by امت ڈیسک
26/07/2022
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

(کابل) افغانستان میں طالبان نے کہا ہے کہ ان کے ایک معروف کمانڈر ملا پیر آغا حج سے واپسی پر کابل سے قندھار جاتے ہوئے غزنی میں ایک ٹریفک حادثے میں انتقال کرگئے ۔ طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ان کی ہلاکت اور ٹریفک حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پیر آغا ابھی حج سے واپس آئے تھے اور اپنے گھر جا رہے تھے۔

د پير آغا صاحب د شهادت په اړه د اسلامي امارت د تسلیت پیغامhttps://t.co/dkHTLoo6MI pic.twitter.com/iGsaKwdCms

— Zabihullah (..ذبـــــیح الله م ) (@Zabehulah_M33) July 25, 2022

اس ٹریفک حادثے میں دیگر افراد کی ہلاکت اور واقعے کی نوعیت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ افغان صحافی عبدالحق عمری نے اپنے ٹوئٹر پیج پر لکھا کہ پیر آغا قندھار کے سابق پولیس چیف جنرل عبدالرزاق کی گاڑی میں سفر کر رہے تھے کہ ٹریفک حادثے کا شکار ہوگئے۔ افغان طالبان کے مختصر بیان میں بتایا گیا کہ قندھار سے تعلق رکھنے والے ملا پیر آغا ’خدا داد جنگی صلاحیتوں کے مالک اور پیچیدہ گوریلا حملوں کے ماہر تھے۔ امارت اسلامیہ کے فتح کابل سے قبل ننگرہار اور کنڑ سمیت کئی صوبوں سے داعش کا صفایا ان کے اہم جنگی کارناموں میں سے ہیں۔‘ تاہم بعض لوگ اور صحافی پیر آغا کو اسلامی تحریک کے مبینہ طور پر ’ظالم ترین کمانڈروں‘ میں سے ایک بھی قرار دیتے ہیں۔ بعض صحافی انہیں طالبان تحریک میں ملا داد اللہ کے جانشین بھی مانتے ہیں۔ 1990 کی دہائی میں ملا داد اللہ پر پورے کے پورے دیہات جلانے اور نوزائیدہ بچوں کو قتل کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا جرم تھا جس کی وجہ سے طالبان کے سپریم لیڈر ملا محمد عمر نے 1997 میں داد اللہ کو برطرف کر دیا تھا۔ القاعدہ کی جانب سے 11/9 حملوں کے بعد امریکی حملے کے نتیجے میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد داد اللہ کی واپسی ہوئی۔ 2006 میں عراق میں ابو مصعب الزرقاوی کے وحشیانہ طریقوں کی طرز پر انہوں نے دشمنوں کے سر کاٹنا شروع کر دیے۔ ملا داد اللہ 2007 میں افغانستان اور پاکستان کی سرحد کے قریب صوبہ ہلمند میں سی آئی اے کی قیادت میں کی گئی کارروائی میں ہلاک کر دیے گئے تھے۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ڈیلی بیسٹ کے مطابق ملا داد اللہ کے جانشین افغان طالبان کے نسبتاً نچلے درجے کے کمانڈر پیر آغا بنے۔ وہ بعد میں تیزی سے دہشت اور ظلم کی علامت بن گئے۔ وہ اس تنظیم کو چیلنج کرنے یا تنقید کرنے کی جرات کرنے والے ہر کسی کو نشانہ بناتے۔ ویب سائٹ کے 2016 کے اس مضمون کے مطابق پیر آغا طالبان کی ایکشن فورس کے سربراہ تھے جو جنوبی افغانستان میں عراق اور شام میں خود ساختہ اسلامی ریاست کے خلیفہ ابو بکر البغدادی کے وفادار جنگجوؤں کی تنظیم داعش پر قابو پانے کے لیے تعینات کیا گئے تھے۔ ان کو یہ ذمہ داری طالبان کے سابق امیر ملا منصور اختر نے دی تھی۔ پیر آغا کو پہلی مرتبہ اس وقت شہرت ملی جب انہوں نے ملا داد اللہ کے پورے خاندان کو بشمول ان کے چھوٹے بھائی کو زابل میں ہلاک کر دیا۔ دی بیسٹ نے پیر آغا سے اپنے بھائی کی رہائی کے لیے ملنے والے محمد خان کاکڑ کے حوالے سے بتایا کہ ’ان کی لمبی داڑھی تھی، موٹا جسم اور خطرناک آنکھیں تھیں۔‘ محمد خان کاکڑ نے مزید حلیہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے اپنی پوری 60 سالہ زندگی میں ایسا خوف ناک کردار نہیں دیکھا۔ اس کے باہر ایک انسان کی جلد ہے، لیکن اندر سے وہ ایک خطرناک جانور ہے۔ وہ قیدیوں کو مارتا تھا اور شکاری پرندے کی طرح ان پر جھپٹتا تھا۔‘

افغان طالبان کے ایک سینیئر رہنما کا کہنا ہے کہ پیر آغا کے زیر کمان زابل، اروزگان، لوگر، میدان اور غزنی صوبوں میں تقریباً 1200 طالبان جنگجو تھے۔ ان پر برما کی مذہبی شخصیت مفتی ابوزر کو ان کے خاندان کے ہمراہ داعش سے علیحدگی کا اعلان کرنے کے باوجود قتل کا الزام بھی تھا۔ تاہم طالبان ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور انہیں تحریک کے ایک مفید اور موثر کمانڈر کے طور پر جانتے ہیں۔ تحریک نے ان کی ہلاکت پر ان کی مسجد الحرام میں ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

پاکستانی علماء کا وفد کالعدم ٹی ٹی پی سے مذاکرات کیلئے کابل پہنچ گیا

Next Post

سی پیک منصوبوں میں دوسرے ممالک کو شامل کرنے پر بھارت نے پاک- چین کی مذمت کی

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

انڈونیشیا میں شرعی قوانین کے تحت جنسی تعلق اور شراب نوشی پر کوڑوں کی سزا

انڈونیشیا میں شرعی قوانین کے تحت جنسی تعلق اور شراب نوشی پر کوڑوں کی سزا

30/01/2026
سعودی اور ایرانی وزرائے خارجہ کی ٹیلی فونک گفتگو، علاقائی صورتحال پر تبادلۂ خیال

سعودی اور ایرانی وزرائے خارجہ کی ٹیلی فونک گفتگو، علاقائی صورتحال پر تبادلۂ خیال

16/01/2026
نیویارک میں میئر کےتاریخ ساز انتخابات، مسلم امیدوار ظہران ممدانی کامیاب

ظہران ممدانی نے نیویارک کے میئر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا

01/01/2026
عالمی طوفان کی جعلی پیش گوئی، افریقی ملک گھانا میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والا گرفتار

عالمی طوفان کی جعلی پیش گوئی، افریقی ملک گھانا میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والا گرفتار

29/12/2025
صومالی لینڈ صوبہ ہمارا اٹوٹ انگ ہے: صومالیہ کا سخت ردعمل

صومالی لینڈ صوبہ ہمارا اٹوٹ انگ ہے: صومالیہ کا سخت ردعمل

27/12/2025
اسرائیل نئے مسلم ملک ’صومالی لینڈ‘ کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا

اسرائیل نئے مسلم ملک ’صومالی لینڈ‘ کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا

27/12/2025
Next Post
سی پیک منصوبوں میں دوسرے ممالک کو شامل کرنے پر بھارت نے پاک- چین کی مذمت کی

سی پیک منصوبوں میں دوسرے ممالک کو شامل کرنے پر بھارت نے پاک- چین کی مذمت کی

شمالی کشمیر کے کھائی پورہ ٹنگمرگ میں تلاشی کاروائی

شمالی کشمیر کے کھائی پورہ ٹنگمرگ میں تلاشی کاروائی

سرینگر میں "کرگل وجے دیوس” کی سالگرہ منائی گئی

سرینگر میں "کرگل وجے دیوس" کی سالگرہ منائی گئی

موجودہ دور میں عوام کی کہیں شنوائی نہیں: عمر عبداللہ

موجودہ دور میں عوام کی کہیں شنوائی نہیں: عمر عبداللہ

راہول بھٹ کے قتل کے بعد کسی کشمیری پنڈت ملازم نے استعفیٰ نہیں دیا:وزارت داخلہ

راہول بھٹ کے قتل کے بعد کسی کشمیری پنڈت ملازم نے استعفیٰ نہیں دیا:وزارت داخلہ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »