نئی دہلی//بھارت نے منگل کو چین اور پاکستان کی جانب سے ملٹی بلین ڈالر کے کنیکٹیویٹی کوریڈور میں تیسرے ممالک کو شامل ہونے کی ترغیب دینے کی کوششوں کی مذمت کی ہے، بتا دیں کہ یہ کوریڈور پاک زیرِ انتظام کشمیر سے گزرتا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) کے تحت اس طرح کی سرگرمیاں “فطری طور پر غیر قانونی، ناجائز اور ناقابل قبول” ہیں، اور بھارت کی طرف سے ان ممالک کے ساتھ اسی اقدام کے مطابق ہی سلوک کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ پاک زیرِ انتظام کشمیر میں چل رہے اس نام نہاد منصوبے سی پی ای سی اور دیگر سرگرمیوں کے متعلق نئی دہلی مسلسل تنقید کرتا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جمعہ کو بین الاقوامی تعاون اور رابطہ کاری پر سی پی ای سی جوائنٹ ورکنگ گروپ (جے ڈبلیو جی) کے اجلاس میں، پاکستان اور چین نے سی پی ای سی اقدام میں دلچسپی رکھنے والے تیسرے ممالک کو خوش آمدید کہنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ نے کہا، “ہم نے نام نہاد سی پی ای سی منصوبوں میں تیسرے ممالک کی مجوزہ شرکت کی حوصلہ افزائی سے متعلق رپورٹس دیکھی ہیں”۔ باغچی نے کہا کہ کسی بھی فریق کی طرف سے ایسی کوئی بھی کارروائی ہندوستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی براہ راست خلاف ورزی کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ “بھارت سختی سے اور مستقل طور پر نام نہاد سی پی ای سی منصوبوں کی مخالفت کرتا ہے، جو کہ بھارتی علاقے میں ہیں جس پر پاکستان نے غیر قانونی طور پر قبضہ کر رکھا ہے”۔
انہوں نے مزید کہا، “اس طرح کی سرگرمیاں فطری طور پر غیر قانونی، ناجائز اور ناقابل قبول ہیں، اور بھارت کی طرف سے ان کے ساتھ اسی طرح سلوک کیا جائے گا”
انہوں نے مزید کہا کہ سی پی ای سی کا آغاز 2013میں پاکستان کے سڑک، ریل اور توانائی کی نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے علاوہ گوادر کی گہرے سمندر کی بندرگاہ کو چین کے صوبے سنکیانگ سے جوڑنے کے لیے کیا گیا تھا۔
سی پی ای سی چین کے پرجوش بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) کا حصہ ہے۔
بھارت نے بی آر آئی پر شدید تنقید کی ہے کیونکہ سی پی ای سی اس پہل کا حصہ ہے۔










