امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں و کشمیر وقف بورڈ کی چیئرپرسن درخشاں اندرابی نے ہفتہ کے روز کہا کہ لوگوں کو قرضِ حسنہ کے تحت دی گئی رقم کے بارے میں اب تک کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں ہو پارہا ہے۔ اگرچہ اس بارے میں ریکارڈ حاصل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن ابھی تک کامیابی نہیں ملی ہے۔
اندرابی کا کہنا ہے کہ ’’وقف بورڈ کے ذریعے طے شدہ نئے معاہدے پر عمل آوری کی جا رہی ہے اور وقف املاک کے کرایہ دار اس طریقہ کار پر عمل کرنے کے لئے وقف بورڈ کے دفتر پہنچ رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ تمام دکاندار نئے معاہدے کے طریقہ کار پر عمل کرنے کے لیے بیک وقت دفتر پہنچ رہے ہیں۔واضح رہے کہ حال ہی میں جموں وکشمیر وقف بورڈ کی جائزہ میٹنگ کے دوران زیارت گاہوں، خانقاہوں، آستام عالیہ اور بقعہ جات وغیرہ میں خصوصی مقامات پر مستقل طور قابض افراد کے ذریعے عطیات وصول کرنے پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ وہیں وقف بورڈ کی ملکیتی کمرشل جائیداد اور دکانوں پر سالانہ کرایہ میں اضافہ کرنے کا فیصلہ بھی لیا گیا ہے۔









