سری نگر//سابق کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد نے ڈاکٹر فارو ق عبداللہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے لیڈر ہیں جنہوں کانگریس سے مستعفی ہونے پر میرے خلاف نہیں بولا۔
انہوں نے کہاکہ ایسا کرنے سے میرے دل میں ڈاکٹر صاحب کی عزت مزید بڑھ گئی ہے۔
غلام نبی آزاد نے واضح کیا کہ بھاجپا میں شامل ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، سٹیٹ ہڈ کی بحالی کی خاطر ہر محاز پر آواز بلند کریں گے۔
ان باتوں کا اظہار موصوف نے ایک انٹرویو کے دوران کیا۔
انہوں نے کہاکہ دفعہ 370 کی بل کو جب راجیہ سبھا میں لا یا گیا تو اکیلے بھاجپا کے ساتھ لڑا اور مسلسل چار گھنٹے تک اس بل کے خلاف دھرنا دیا۔
اُن کے مطابق میں نے ہی کشمیر کی صورتحال پر پارلیمنٹ میں بیان دیا ۔
انہوں نے بتایا جو سیاستدان یہ کہہ رہے ہیں کہ غلام نبی آزاد نے اس پر کچھ نہیں کہا وہ پاگلوں کی دنیا میں رہتے ہیں۔
غلام نبی آزاد نے مزید کہاکہ مودی جی راجیہ سبھا میں میرے لئے نہیں روئے بلکہ کشمیر میں گجرات کے سیاحوں پر جو حملہ ہوا تھا اُس واقع کو یاد کرتے ہوئے اُن کی آنکھوں سے آنسوں جاری ہوئے۔
پدم بھوشن پر تنقید کرنے کے بارے میں جب غلام نبی آزاد سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہاکہ کانگریس کے بہت سارے لیڈروں کو پد م بھوشن دیا گیا جس کا راہول گاندھی نے خیر مقدم کیا ہے۔
نیشنل کانفرنس کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو قدآور لیڈر قرار دیتے ہوئے غلام نبی آزاد نے کہاکہ میں فاروق صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ کانگریس سے علیحدگی کے بعد انہوں نے میرے خلاف ایک لفظ بھی نہیں کہا بلکہ میری تعریف کی ۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایسا کرنے سے میرے دل میں فاروق صاحب کی عزت مزید بڑھ گئی ہے۔
بھاجپا میں شامل ہونے کے بارے میں غلام نبی آزاد نے کہاکہ بھارتیہ جنتاپارٹی میں شامل ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا:” سٹیٹ ہڈ کی بحالی کی خاطر اگر مجھے اپنا خون بھی دینا پڑے تو گریز نہیں کرونگا۔ “
انہوں نے کہاکہ بی جے کے خلاف ہمیشہ بیان بازی کی لیکن کانگریس سے رخصتی کے بعد انہوں نے میرے خلاف ایک بھی بیان نہیں دیا لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ جس کانگریس کے لئے میں نے قربانی دی وہ آج میرے خلاف ہرزہ سرائی کرنے پر اتر آئے ہیں۔








