سرینگر: شہر سرینگر کے گوگجہ باغ علاقے میں واقع رمضان ہسپتال میں ڈاکٹروں کی مبینہ طبی لاپرواہی کی وجہ سے زچگی کے دوران فوت ہونے والی خاتون کے اہل خانہ کے الزامات کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے ڈائیریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر نے معاملے کے تئیں فوری کارروائی عمل میں لاکر ہسپتال کا آپریشن تھیٹر بند کرنے کا حکم جاری کیا اور معاملے کے تعلق سے مزید انکوائری کرنے کی ہدایت جاری کی۔
رمضان ہسپتال کا آپریشن تھیٹر سیل، مزید انکوائری کا حکمرمضان ہسپتال کا آپریشن تھیٹر سیل، مزید انکوائری کا حکمڈائریکٹر ہیلتھ سروسز، کشمیر، ڈاکٹر مشتاق احمد راتھر کے مطابق معاملے کی تحقیقات اور ہسپتال کے ڈاکٹروں کے عائد کیے گئے الزامات کے حقائق کا پتہ لگانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جو حقائق کا پتہ لگا کر ایک ہفتے کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی ایم او کی نگرانی میں ٹیم ہسپتال کو سیل کرنے گئی تھی لیکن وہاں داخل مریضوں کے پیش نظر آپریشن تھیٹر کو ہی فی الحال سیل کیا گیا۔
قابل ذکر ہے کہ مبینہ طبی لاپرواہی کا پہلا معاملہ 25 اگست کو ہسپتال میں اس وقت سامنے آیا تھا جب سرینگر کے تھید، ہارون علاقے کی ایک خاتون – جو کہ ایک بچے کو جنم دینے والی تھی – مبینہ طور ڈاکٹروں کی غفلت شعاری کے باعث انتقال کر گئی تھی۔
اس وقت اگرچہ حکام نے کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی تاہم رواں ماہ کی 9 تاریخ کو اسی ہسپتال سے طبی لاپرواہی کا ایک اور معاملہ سامنے آیا، جس میں نائیک باغ، نوگام، سرینگر سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون بھی رمضان ہسپتال میں مبینہ طور طبی لاپروائی کی وجہ سے سرجری کے دوران دم توڑ گئی۔ جس کے بعد احتجاج نے طول پکڑا اور حکام کو ہسپتال انتظامیہ کیخلاف کارروائی کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔







