امت نیوز ڈیسک //
سکون کے تلاش میں 63 سالہ سعودی شہری ابو عبداللہ اب تک 53 شادیاں کرنے کے دعویدار ہیں۔ ان کی پہلی شادی 20 سال کی عمر میں ہوئی ہے ایک عرب چینل کو انٹریو دیتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ اب وہ خاموشی سے زندگی گزار رہے ہیں ۔
ابو عبداللہ کو صدی کا سب سے زیادہ شادیاں کرنے والا انسان کہا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے نکاح میں اب صرف ایک خاتون ہیں۔ آئندہ ایک سے زیادہ شادیوں کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ابو عبداللہ نے کہا کہ ’شروع میں ایک سے زیادہ شادی کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ میں پہلی بیوی سے مطمئن تھا۔ میرے بچے بھی تھے۔ کچھ عرصہ بعد مسائل شروع ہوئے۔ اس وقت میری عمر 23 برس تھی۔ ذہنی آرام و سکون کے لیے دوسری شادی کی اور پہلی بیوی کو اس کی اطلاع دی۔ اور جب پہلی بیوی اور دوسری بیوی کے درمیان جب جھگڑا ہوا تو تیسری اور چوتھی شادی کر ڈالی۔ کچھ عرصہ بعد پہلی اور دوسری بیوی کو بھی طلاق دی۔ اس طرح جب تیسری اور چوتھی میں جھگڑا ہوا تو میں نے تیسری کو بھی طلاق دے دی۔اور اس طرح 52 بیوں کو طلاق دیتا گیا
اور اس طرح ذہنی آرام و سکون کے لیے شادیاں کرتا رہا لیکن وہ سکون کبھی میسر نہیں ہوا۔ جبکہ تمام بیویوں کے درمیان انصاف سے کام لینے کی کوشش کرتا رہا ۔
پہلی شادی کے وقت میری بیوی مجھ سے چھ سال بڑی تھی۔ ایک شادی ایسی بھی رہی جس کا دورانیہ صرف ایک رات تک محدود رہا۔ تمام شادیاں روایتی انداز میں کیں۔ ابو عبداللہ نے کہا کہ ’میری بیشتر بیگمات سعودی رہیں تاہم غیرملکی خواتین سے شادی مجبوری میں کی۔ کاروبار کی غرض سے بیرون مملکت سفر کے دوران غیرملکی خاتون تین، چار ماہ تک میرے نکاح میں رہتی تھی۔ آج میرے پاس صرف ایک بیوی ہے اور میں خوش ہوں اور سکون بھی ہے اب کسی اور شادی کی ضرورت نہیں ہے۔








