جموں و کشمیر کو یہ فخر حاصل ہے کہ یہاں عوام کو ضروریات زندگی وافر مقدار میں مہیا رکھنے کے لئے ایک مربوط سرکاری نظام موجود ہے جس کے چلتے لوگوں کو اشیائے ضروریہ مناسب اور رعایتی داموں پر ماہانہ بنیادوں پر بلا خلل مہیا رکھا جارہا ہے ،جس کے سبب جہاں عوام پریشانیوں سے بچ جاتے ہیں وہاں وہ بلیک مارکیٹنگ کرنے والوں کے ہتھے چڑھنے سے بھی محفوظ رہ جاتے ہیں۔ اور اہم بات یہ ہے کہ اس عوام دوست نظام کے چلتے مجموعی طور پر قیمتوں کا توازن بھی اعتدال پر رہ جاتا ہے۔ جموں و کشمیر میں رائج عوامی تقسیم کاری کا یہ منفرد نظام عوامی حکمرانوں کی دین نہیں بلکہ اس کا سہرہ شخصی راج حکمرانوں کے سر باندھا جاسکتا ہے جنہوں نے مخصوص موسمی اور جغرافیائی پس منظر رکھنے والے اس خطے میں عوامی تقسیم کاری کا سرکاری نظام رائج کیا۔ اگرچہ خطے میں عوامی تقسیم کاری کا یہ منظم سرکاری نظام آج بھی موجود ہے لیکن آثا رو قرائین سے ظاہر ہے کہ موجودہ حکمران اس منفردنظام کو جاری رکھنے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ اسی لئے عوام کو تواتر کے ساتھ راشن کی مناسب دستیابی سے محروم رکھا جارہا ہے جبکہ کئی اشیا کی کٹوتی پہلے ہی کی گئی ہے۔ سرکار کی اس منفی اور عوام کش خوراکی پالیسی کے نتیجے میں عام لوگ بلیک مارکیٹنگ کرنے والے ذخیرہ اندوزووں کے ہتھے چڑھ رہے ہیں جبکہ قوت خرید سے محروم غربت کی لکیر سے نیچے گذر بسر کرنے والے بے بس اور مجبور عوام فاقہ کشی کے شکار ہورہے ہیں۔المیہ یہ ہے کہ عوام کو درپیش مشکلات کا کوئی نوٹس نہیں لیا جارہا ہے، حد تویہ ہے کہ موجودہ حکمران تواتر کے ساتھ ایسے منفی اور عوام مخالف اقدامات اٹھارہے ہیں جن سے خطے میں دہائیوں سے رائج عوامی تقسیم کاری کا انقلابی نظام آج ہچکولے کھا رہا ہے۔ حکمرانوں کے اس طرح کے عزائم سے صاف ظاہر ہے کہ یہ لوگ خطے میں دہائیوں سے رائج عوام دوست اور غریب پرور نظام کو سرے سے ہی اکھاڑپھینکنے پر تلے ہوئے ہیں، اسی لئے آئے روز ایسے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جن سے دہائیوں سے رائج یہ عوام دوست نظام مفلوج ہوتا نظر آرہا ہے۔ سرکار کی اس عوام مخالف خوراکی پالیسی کے سبب جہاں راشن ڈیپووں پر الو اونگھ رہے ہیں وہاں ہر طرف ہو کا عالم ہے۔ جبکہ پریشانیوں سے بے حال ہورہے عوام کی تشویش اور اضطراب میں آئے روز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ انتظامیہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عوام پر اپنے فیصلے ٹھونسے کے بجائے ہر معاملے میں عوام کو ساتھ لے کر چلیں اور اپنے آپ کو عوام کے جذبات اور احساسات کا پاسبان ثابت کریں۔ جہاں تک خطے میں رائج عوامی تقسیم کاری کے نظام کا تعلق ہے یہ نظام آزمائش کی ہر گھڑی میں عوام اور سرکارکی امیدوں اور توقعات پر کھرا اتراہے، اس لئے انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اس منفرد نظام کو اکھاڑنے کے بجائے اسے وقت کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ بنانے کے لئے تمام ضروری اقدامات کرے اور خطے میں ایک ایسی عوام دوست اور غریب پرور خوراکی پالیسی متعارف کی جائے جو آنے والے ایام میں نقش راہ ثابت ہوجائے۔ (اداریہ ہفت روزہ اُمت)








