امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی: پٹرولیم اور قدرتی گیس کے مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے پیر کو اس بات کا اعادہ کیا کہ بھارت روس سے تیل خریدنے کے متعلق کسی اخلاقی تنازعہ میں نہیں ہے۔ سی این این کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے بھارت کی 1.3 بلین آبادی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے صارفین کے تئیں اخلاقی فرض ادا کرتے ہیں۔ نریندر مودی حکومت دباؤ محسوس نہیں کر رہی ہے۔ ہم دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہیں، بھارت اپنے اعلیٰ ترین قومی مفاد کے مطابق کام کر رہا ہے۔
سی این این کے صحافی بیکی اینڈرسن نے انٹرویو کے اس اہم حصے کو ٹویٹ کیا ہے، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا روس سے تیل کی خریداری میں کوئی اخلاقی تنازعہ تھا؟ اس پر ہردیپ نے کہا ’’ہرگز نہیں، کوئی اخلاقی تنازعہ نہیں ہے۔ ہم X یا Y سے نہیں خریدتے ہیں۔ ہمیں جو بھی دستیاب ہے خریدتے ہیں، میں نہیں خریدتا، حکومت نہیں خریدتی۔ تیل کمپنیاں یہ کرتی ہیں۔
پوری نے بھارت کی خریداری کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے صرف 0.2 فیصد خریدا جو روسی تیل کا 2 فیصد نہیں اور وہ ایک سہ ماہی میں اتنا خریدتا ہے جبکہ یورپ اتنا ایک دوپہر میں خریدتا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ روس اب بھارت کے سب سے بڑے چار یا پانچ سپلائرز میں سے ایک ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پچھلے مہینے بھارت کو سب سے بڑا تیل فراہم کرنے والا ملک عراق تھا۔
روس سے بھارت کی تیل کی خریداری کے معاشی پہلو کو امریکہ سمجھتا ہےیہ پوچھے جانے پر کہ کیا یوروپی یونین یا امریکہ نے بھارت سے کہا تھا کہ وہ روس سے تیل کی درآمدات کو محدود کرے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ آپ کو یہ سوال یورپی یونین یا امریکہ سے پوچھنا چاہیے۔ پچھلے مہینے امریکہ میں بھی پوری نے اس دلیل پر زور دیا کہ یہ حکومت کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو توانائی فراہم کرے۔









