فرانسیسکو: ایلون مسک نے تصدیق شدہ اکاؤنٹ (بلیو ٹک) کے نئے عمل کے حوالے سے ٹوئٹر صارفین کے لیے ایک طویل تھریڈ لکھا۔ مسک نے حال ہی میں ٹوئٹر کو 44 بلین ڈالر میں خریدا تھا۔
ٹویٹس کے ایک تھریڈ میں، مسک نے موجودہ نظام پر تنقید کی، جو قابل ذکر صارفین جیسے کہ سیاستدانوں، صحافیوں، حکام اور دیگر افراد اور تنظیموں کے بلیو ٹک کی تصدیق کرتا ہے۔ اس بلیو ٹک کا مطلب ہے کہ صارف کا اکاؤنٹ درست ہے۔ یہ وہی تصدیقی نظام ہے جو میٹا فیس بک اور انسٹاگرام کے لیے فالو کرتا ہے۔
مسک نے لکھا کہ 8 ڈالر ہر مہینہ(660) کے حساب سے ٹوئٹر کھاتوں کا ویریفیکیشن کرکے صارفین کو بلو ٹک کی پیش کش کرنے والے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ ایسا کرکے وہ لوگوں پاور دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس ویریفیکیشن کے ساتھ صارفین کو مینشن اور سرچ میں ترجیح ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل کے ذریعے تصدیق شدہ صارفین کو آدھے اشتہارات ملیں گے۔ صارفین طویل ویڈیوز اور آڈیو ٹویٹ کر سکیں گے۔ مسک نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر پبلشرز ٹویٹر کے ساتھ معاہدہ کرتے ہیں تو ٹویٹر بلیو سبسکرائبرز پیڈ مضامین بھی مفت میں پڑھ سکتے ہیں۔
ایلون مسک کے مطابق ٹوئٹر بلیو سبسکرپشن کی وجہ سے ٹوئٹر کی آمدن بڑھے گی اور مواد تخلیق کرنے والوں کو بھی ریوارڈ ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی شخصیات کے ناموں کے نیچے ایک اور ٹیگ نظر آئے گا۔ ٹیسلا کے سی ای او نے یہ بھی کہا کہ ٹویٹر بلیو صارفین کو ‘پے وال بائی پاس’ دیا جائے گا جو سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ساتھ کام کرنے کے خواہشمند ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ سپیم سے منسلک کسی بھی تصدیق شدہ اکاؤنٹ کو معطل کر دیا جائے گا۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ تبدیلیاں حقیقت میں لاگو ہوں گی یا نہیں۔ مسک کا تھریڈ دی ورج سنڈے کی اس رپورٹ کی تصدیق کرتا ہے جس میں دی ورج سنڈے نے قیاس آرائی کیا تھا کہ ٹوئٹر صارفین کی تصدیق کے لیے ادائیگی کا نیا نظام شروع کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ٹیک ارب پتی ٹویٹر بلیو سبسکرپشن کے لیے ماہانہ 19.99 ڈالر وصول کرنے پر غور کر رہا تھا۔
دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے حال ہی میں ڈرامائی واقعات کی ایک سیریز کے بعد ٹویٹر کو سنبھالا جو اس پورے معاہدے میں چلا تھا۔ ایلون مسک ٹویٹر معاہدے کو حتمی شکل دینے تک کئی بار اسے لینے اور چھوڑنے کے درمیان کشمکش کا شکار ہوتے دکھائی دیئے۔ یہ الزام لگاتے ہوئے کہ کمپنی سروس پر اسپام اور جعلی اکاؤنٹس کی تعداد کو مناسب طور پر ظاہر کرنے میں ناکام رہی، مسک ایک موقع پر اس معاہدے سے تقریباً پیچھے ہٹ گئے تھے جس کے بعد معاملہ کورٹ تک چلا گیا تھا اور کورٹ نے ایلون مسک کو ہدایت دی تھی کہ 28 اکتوبر تک ٹویٹر ڈیل مکمل کریں جس کے بعد مسک نے ٹویٹر کا کاروبار اپنے ہاتھ میں لے لیا اور سی ای او پراگ اگروال سمیت اعلیٰ عہدیداروں کو کمپنی سے نکال دیا۔






