امت نیوز ڈیسک //
سرینگر:سٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی(ایس آئی اے) نے قیام کے پہلے برس میں 450 عسکریت پسندی سے جڑے مقدمے درج کیے ہیں جن میں 292 مقدموں کو قانونی طور پر حل کیا گیا۔ایس آئی اے نے ایک برس مکمل ہونے پر ایک تقریب کا انعقاد کیا۔ اس تقریب میں پولیس کے اعلی افسران نے شرکت کی۔ جموں کشمیر پولیس کے ڈائریکٹر دلباغ نے افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ای آئی اے ایک سال میں فعال ایجنسی بن گئی ہے جس کے ذریعے سے عسکریت پسندی پر بہت حد تک قابو پا لیا گیا۔
واضح رہے کہ ایس آئی اے نے قیام کے بعد جموں کشمیر بالخصوص کشمیر میں عسکریت پسندی سے منسلک افراد، عسکریت پسندی کے مبینہ معاونین کے خلاف سخت شکنجہ کس کر ان کے خلاف مقدمات درج کیے اور کئی افراد کو گرفتار کرلیا۔یاد رہے کہ ایس آئی اے کا قیام گزشتہ برس آج کے ہی روز کیا گیا تھا۔
محکمہ داخلہ کی ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق ایس ایی اے پولیس کی مختلف ایجنسیوں کی ایک نوڈل ایجنسی ہوگی جس کی سربراہی سی آئی ڈی ونگ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کریں گے اور ان کو اس ایجنسی کا ڈاریکٹر کہا جائے گا۔یہ نوڈل ایجنسی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کے ساتھ عسکریت پسندی کی متعلق مقدمات کی سرعت سے کارروائی کرنے کے لیے قیام کی گئی۔ایس آئی اے ازخود عسکری معاملات پر مقدمہ درج کرنے کی اہل ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ایس آئی اے میں جموں و کشمیر پولیس کے ہی افسران اور اہلکار تعینات ہوں گے اور ان کو انتظامیہ 25 فیصد اضافہ سے تنخواہ ادا کرے گی۔ایس آئی اے کے ڈائریکٹر آر آر سوین نے اس تقریب پر بتایا کہ اس وقت جموں کشمیر عسکریت پسندی بہت کم ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔
سوین نے کہا کہ جو لوگ عسکریت پسندی کے لیے نظریاتی، مالی یا اس کے متعلق ماحول بناتے ہیں اور اس کے نظام کی معاونت کرتے ہیں وہ عسکریت پسندوں سے بھی خطر ناک ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایس آئی اے اور دیگر سیکورٹی نظام کو اس نظریے سے نمٹنے کی ضرورت ہے جو دراصل عسکریت پسندی کے پورے نظام کے لئے آپریٹنگ سافٹ ویئر کی طرح کام کرتا ہے ہے اور اس سے نمٹنا مشکل کام ہے لیکن ناممکن نہیں ہے۔







