امت نیوز ڈیسک //
سرینگر // مرکزی سرکار جموں کشمیر کو ریاستی درجہ دینے کے اپنے وعدے پر کار بند ہے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ پہلے حد بندی کمیشن قائم کیا گیا تھا۔ اب ووٹر لسٹوں پر نظرثانی کا عمل جاری ہے جس کے بعد اسمبلی انتخابات ہوں گے اور پھر ریاست کا درجہ دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموںکشمیر میں صورتحال کافی بہتر ہے اور 90دہائی کے وہ دن گئے جب ایک دن میں 20لوگوں کو مارا جاتا تھا ۔ اسی دوران انہوں نے کہا کہ وادی میں کشمیری پنڈتوں کے تحفظ فراہم کرنے کیلئے کئی سارے اقدامات اٹھائیں گئے ہیں ۔ گجرات میں آج تک کے کنکلیو پروگرام میں وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ جموں کشمیر کو ریاستی درجہ دیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے موقف میں بالکل واضح ہے۔”سب سے پہلے حد بندی کمیشن قائم کیا گیا تھا۔ اب ووٹر لسٹوں پر نظرثانی کا عمل جاری ہے جس کے بعد اسمبلی انتخابات ہوں گے اور پھر ریاست کا درجہ دیا جائے گا۔“دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر میں حالات بہتر ہونے کے باوجود کشمیری پنڈتوں پر حملے ہو رہے ہیں کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کے خلاف مظالم 1990 سے جاری ہیں لیکن اگر آپ اعداد و شمار کو دیکھیں تو یہ آئین ہند کے دفعہ370 کو منسوخ کرنے کے بعد سب سے کم ہو گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کی حفاظت کیلئے بہت سے اقدامات کیے گئے ہیں لیکن انہوں نے مزید کہا کہ ملی ٹنسی مکمل طور پر قابو میں نہیں ہے اور اسے ختم کرنے میں وقت لگے گا۔تاہم انہوں نے زور دے کر کہا کہ وادی میں دہشت گردی کے واقعات میں 80 فیصد کمی آئی ہے۔انہوں نے کہا ”اگرچہ ہم ملی ٹنسی کے واقعات کی تعداد 100 سے کم ہو کر 20 تک لے کر اچھی سمت میں جا رہے ہیں، لیکن ہمارا ہدف یہ ہے کہ یہ 20 فیصد واقعات بھی رونما نہ ہوں“۔ وزیر داخلہ نے یاد دلایا کہ سال 1990سے 1998کے دوران جموں و کشمیر میں ایک دن میں 20 یا 25 لوگ مارے گئے تھے۔تاہم وہ دن گئے اور اب آپ خود دیکھیں کہ زمینی سطح پر کیا تبدیلی ہے ۔ جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کب ہوں گے اس سوال کے جواب میں شاہ نے جواب دیا: "جب الیکشن کمیشن چاہے۔ امیت شاہ نے کہا کہ یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) اپنے آغاز سے ہی بی جے پی کا ایجنڈا رہا ہے اور ایسا کوئی انتخابی منشور نہیں ہے جہاں انہوں نے یو سی سی کا ذکر نہ کیا ہو۔شاہ نے کہا ”یکساں سول کوڈ ہماری پارٹی کا ایجنڈا رہا ہے جب سے یہ 1950 میں بنی تھی۔ اس مسئلے پر ہمارے بانی شیاما پرساد مکھرجی نے وزیر تجارت اور صنعت کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور بھارتیہ جن سنگھ کا سنگ بنیاد رکھا۔“









