”پہاڑیو ں میں کئی اونچی ذاتیں ہیں جنہیں اس ایس ٹی زمرے میں شامل کیا گیا ہے؛ایسی ذاتوں کو صرف زبان کی بنیاد پر ایس ٹی زمرے میں شامل کرنا سراسر ناانصافی ہے“
رواں سال کے ماہِ اکتوبرکے پہلے ہفتے میں جموں وکشمیر کے دورے پر آئے وزیر داخلہ امیت شاہ نے راجوری میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جی ڈی شرما کمیشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جموںو کشمیر کے پہاڑی طبقے کو ایس ٹی کا درجہ جلد دیا جائے گا ۔وہیں انہوںنے ساتھ میں یہ بھی کہا تھا کہ گوجر بکروال طبقے کے ایس ٹی کوٹے میں سے ایک فیصدبھی نہیں چھینا جائے ۔اسکے بعد4 نومبر کو قومی کمیشن برائے شیڈول ٹرائب نے رجسٹرارجنرل آف انڈیا کے دفتر کے سفارش کی بنیاد پر جموںو کشمیر میں پہاڑی آبادیکے ساتھ ساتھ گڈا برہمن، پدری اور کوہلی برادری کو شیڈول ٹرائب یعنی درجہ فہرست قبائل کے زمرے میں شامل کرنے کی منظور ی دے دی ۔اس منظوری کے بعد پہاڑیوں کی جانب جموں وکشمیر میں جشن منایا گیا ۔ادھر پہاڑی طبقے کی جانب سے اس فیصلے کے بعد” دھنے وادیاترا “ 10نومبر سے شروع کی گئی ۔جبکہ جموں میں ایس ٹی فورم نے ایک پریس کانفرنس منعقد کی جس میںفورم کے صدر احسان مرزا نے کہا کہ پہاڑیوں کو ایس ٹی فہرست میں شامل کرنا ان کے لئے کسی خواب سے کم نہیں ہے ۔انہوںنے کہا کہ اب جموں وکشمیر کے8 1لاکھ پہاڑی لوگ آزاد ہوگئے۔ مرزا نے مزید کہا کہ ہم شکر گزار ہیں بھاجپا حکومت کے جنہوںنے انکا دیرینہ مطالبہ پورا کیا ۔انہوںنے یہ اعلان بھی کیاکہ اس فیصلے کے بدلے ہم بھاجپا کی حمایت کریں گے اور آنے والے الیکشن میںبھاجپاکو ہی ووٹ دیں گے ۔اب ایس ٹی زمرے میں پہاڑیوں اور دیگر طبقوں کو شامل کرنے کے لئے تجویزکو کابینہ میں پیش کیا جائے گاجس کے بعد بل کو پارلیمنٹ میں منظوری کےلئے پیش کیا جائے گا،جس کی رواں سال سرماکے پارلیمنٹ سیشن میں منظوری مل جانے کا امکان ہے ۔دوسری طرف کچھ لوگ اسے بھاجپا کی جانب سے جموںو کشمیر اسمبلی چناو سے قبل لیا گیا بڑا فیصلہ دیکھ رہے ہیں کیو ں کہ بھاجپا اگلے سال ہونے والے چناو سے قبل پہاڑی طبقے کا ووٹ بھی حاصل کرنا چاہتی ہے ۔اور امیت شاہ کے پیر پنچال دورے کو اسی سلسلے کی کڑی کے طور دیکھا جا رہا ہے ۔
جموں وکشمیر12 لاکھ کے قریب پہاڑی اور15 لاکھ کے قریب گجر بکروال قبیلے کی آبادی ہے۔وہیں حد بندی کمیشن کے بعد اب9 اسمبلی نشستیں ایس ٹی کے لئے مختص رکھ گئی ہیں جن میں تین راجوری ، دو پونچھ اور ریاسی،اننت ناگ ،گاندربل ،اور بانڈی پورہ میں ایک ، ایک نشست ایس ٹی طبقے کے لئے مختص رکھی گئی ہے ۔یعنی ان نشستوں پر صرف ایس ٹی طبقے سے وابستہ امیدوار ہی الیکشن لڑسکتے ہیں ۔ پہاڑیوں کو ایس ٹی زمرے میں شامل کرنے کے بعدمرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندتر سنگھ نے بھی ایک ٹوئٹ میں وزیر داخلہ امیت شاہ کا شکریہ ادا کیا ….تاہم پہاڑیوں کو ایس ٹی درجہ دینے سے گجر بکروال کافی ناراض ہیں اور کئی ماہ سے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کرتے نظر آرہے ہیں۔4نومبر پہاڑیوں کو ایس ٹی زمرے میں شامل کئے جانے پر گجر بکروال طبقے نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور4 نومبر کو ہی آل جموں وکشمیر گجر بکروال جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بینر تلے کپواڑہ سے کھٹوا تک 500 کلومیٹر کا ” ٹرائبل بچاﺅ “پیدل مارچ شروع کیا جو تادم تحریر جاری ہے۔
آخر گجر بکروال احتجاج کیوں کر رہے ہیں اس حوالے سے ”اُمت نیوز“ نے معاملے کو سمجھنے کےلئے خود اس مارچ میں شامل گجر بکروال جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ایڈیشنل ترجمان شاہد ایوب سے بات کی ۔شاہد ایوب کشمیری یونیورسٹی میں انگلش میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں اور وہ پچھلے دو ہفتوں سے اس پیدل مارچ کا حصہ ہیں ۔شاہد ایواب نے دوران مارچ فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی کو ریزرویشن دینے کے خلاف نہیں ہیں لیکن پہاڑیو ں میں کئی اونچی ذاتیں ہیں جنہیں اس ایس ٹی زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوںنے راجپوت ، شرما ، سعید جیسی ذاتوں کے نام لیتے ہوئے کہا کہ یہ ذاتیں اونچی سمجھی جاتی ہیں ایسی ذاتوں کو صرف زبان کی بنیاد پر ایس ٹی زمرے میں شامل کرنا سراسر ناانصافی ہے ۔موصوف ترجمان نے کہا کہ اب تک انہو ں نے گیارہ اضلاع میں پیدل مارچ مکمل کیا ہے ۔ وہیں انہوںنے کہا کہ اگر حکومت کی جانب سے سرما کے پارلیمنٹ سیشن میں پہاڑیو ں کو ایس ٹی درجہ دیا جاتا ہے تو وہ کورٹ کا رخ کریں گے اور وہیں دلی کی جانب پیدل مارچ کریں گے ۔دوسری طرف جموںو کشمیر انتظامیہ کی جانب سے اکتوبر میں یوٹی ریزرویشن رولز میں ایک اہم تبدیلی کی گئی جس میں ’پہاڑی بولنے والے لوگ ‘کے بجائے اب ’پہاڑی نسلی لوگ ‘ کا نام رکھا گیا ہے ۔جموںو کشمیر حکومت کے ریزرویشن قوانین کے تحت سماجی ذاتوں کو سرکاری ملازمتوں میں چار فیصد ریزرویشن حاصل ہے جن میں پہاڑی بھی شامل ہیں ۔اس فیصلے پر شاہد ایوب کا کہنا ہے کہ” جو لوگ چار فیصد ریزرویشن زبان کی بنیاد پر حاصل کرتے تھے ہماری طرف سے سوال اٹھانا کہ زبان کے نام پرزیزرویشن نہیں دی جانی چاہیے‘ توحکومت نے ان کا نام ہی تبدیل کر دیا ،لیکن ہندو ، سکھ اور مسلمان کی اگر رہن سہن ، شادی بیاہ کا طریقہ الگ ہے تو انہیں ایک ہی ”پہاڑی نسلی لوگ “ کے زمرے میں کیسے رکھا جا سکتا ہے؟
ادھر کچھ روز قبل ایل جی منوج سنہا نے کہا کہ پہاڑی طبقے کو ایس ٹی درجہ دیا جائے گا لیکن جموں وکشمیر میںگجر اور بکروال برادری کو پہلے سے ہی دی گئی ریزرویشن میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ پہاڑی برادری کو دئے جانے والے ریزرویشن کے معاملے پر کچھ لوگ سیاست کر رہے ہیں، میں گجروں اور بکروالوں کو یقین دلاتا ہوں کہ جو ان کو ریزرویشن کا حق دیا گیا ہے اسکے ساتھ کوئی چھیڑخانی نہیں ہو گی ۔اس سے قبل اکتوبر میںپی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ بھاجپا حکومت گجر بکروال اور پہاڑی طبقے کو ریزرویشن کے نام ایک دوسرے کے خلاف لڑانا چاہتی ہے ۔
واضح رہے گجر بکروال ،شینہ ، گدی اور سپی قبائیل کوپہلے ہی ایس ٹی کا درجہ دیا گیا ہے ۔اور اب جہاں مزید کئی ذاتیں اس فہرست میں شامل کی جارہی ہیں، وہیں پہلی مرتبہ ایس ٹی زمرے میں شامل قبائیل کو 9 سیٹیوںکی اسمبلی میں سیاسی ریزرویشن بھی دی گئی ہے ۔ پہاڑیوں کو ایس ٹی کا درجہ دیا جانے کے خلاف گجر بکروال کون سا اقدم اٹھاتے ہیں یہ آنے والا وقت ہی بتادے گا البتہ ایک بات صاف ہے کہ اس فیصلے سے جموں و کشمیر کے مختلف طبقوں میں پہلے سے ہی پائے جانے والی خلیج مزید بڑھ گئی ہے۔
پہاڑیوں کو ایس ٹی کا درجہ دیا جانے کے خلاف گجر بکروال کون سا اقدم اٹھاتے ہیں یہ آنے والا وقت ہی بتادے گا البتہ ایک بات صاف ہے کہ اس فیصلے سے جموں و کشمیر کے مختلف طبقوں میں پہلے سے ہی پائے جانے والی خلیج مزید بڑھ گئی ہے۔










