امت نیوز ڈیسک //
سرینگر:نیشنل کانفرس کے سابق صدر اور سرینگر سے رکن پارلیمان فاروق عبداللہ راہل گاندھی کی "بھارت جوڈو یاترا” میں جموں کشمیر میں شرکت کریں گے۔ اس بات کا انکشاف آج خود فاروق عبداللہ نے سیاسی جماعتوں کے لیڈران کے ساتھ ایک ملاقات میں کیا۔
فاروق عبداللہ نے کہا کہ جوں ہی بھارت جوڈو یاترا جموں کشمیر پہنچے گی وہ اس میں راہل گاندھی کے ساتھ شانہ بشانہ چلیں گے۔ فاروق عبداللہ نے آج جموں میں کئی سیکولر لیڈران سے ملاقات کی۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ ملک بھر اور جموں کشمیر میں چلائی جارہی نفرت و تقسیم کی سیاست کے خلاف سیکولر و جمہوری نظریہ رکھنے والے سیاسی جماعتوں و سماجی تنظیموں کو یکجا ہونا چاہیے اور ملک میں بھائی چارے اور یکسانیت کا پیغام دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کی یاترا کا پیغام بھی یکسانیت اور سیکولر سیاست ہے لہذا ایسے سوچ رکھنے والے افراد کے یاترا میں شرکت کرنی چاہیے۔
واضح رہے کہ فاروق عبداللہ گزشتہ چند مہینوں سے جموں کشمیر میں کافی سرگرم ہے اور بی جے پی حکومت اور ان کے سیاسی نظریے کے متعلق بیانات دے رہے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ کانگرس لیڑر راہل گاندھی نے تین ماہ قبل کنیا کماری سے ‘بھارت جوڈو یاترا’ شروع کی ہے جو ملک کی بیشتر ریاستوں سے گزر کر جموں کشمیر میں اختتام ہوگی۔
جھلکیاںبتادیں کہ بھارت جوڑو یاترا، انڈین نیشنل کانگریس کی طرف سے شروع کی گئی ایک عوامی تحریک ہے۔ کانگریس کے رہنما راہُل گاندھی، پارٹی کیڈر اور عام لوگوں کو پیدل چلنے کے لیے متحرک کر کے اس تحریک کو منظم کر رہے ہیں۔ یہ یاترا کنیا کماری، جزیرہ نما کے جنوبی سرے سے جموں و کشمیر تک چلے گی جو 150 دنوں میں 3570 کلومیٹر پر محیط ہے۔کانگریس کے میڈیا ڈپارٹمنٹ کے انچارج جے رام رمیش نے پیر کے روز ایک ٹویٹ میں یہ اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ ‘بھارت جوڑو یاترا’ منگل تک ملتوی رہے گی اور 23 نومبر کی صبح حسب سابق پھر سے شروع ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ ‘بھارت جوڑو یاترا’ مہاراشٹر کے نیمکھیڑی میں ہے اور اس میں پیدل مارچ کرنے والے کارکنان وہاں دو دن آرام کریں گے۔ یہ یاترا 23 نومبر کو پھر سے شروع ہوگی اور اسی دن مدھیہ پردیش میں داخل ہوگی۔









