وادی کشمیر کے اندر ان دنوں پنپنے والی سب سے بڑی مصیبت بجلی کی عدم دستیابی ہے جس کی وجہ سے ہر شہر، قصبہ اور گاﺅں کے باسی حد درجہ پریشان ہیں۔ سردیاں آتے ہی بجلی کا بحران پیدا ہونا اگرچہ کوئی نئی یا انہونی بات نہیں ہے لیکن حالیہ برسوں میں یہ بحرا ن بہت زیادہ شدید اور تکلیف دہ ہوچکا ہے اور حکام کی تمام تر یقین دہانیوں کے باوجود اس کا کوئی ازالہ نہیں ہورہا
وادی کشمیر کے اندر ان دنوں پنپنے والی سب سے بڑی مصیبت بجلی کی عدم دستیابی ہے جس کی وجہ سے ہر شہر، قصبہ اور گاﺅں کے باسی حد درجہ پریشان ہیں۔ سردیاں آتے ہی بجلی کا بحران پیدا ہونا اگرچہ کوئی نئی یا انہونی بات نہیں ہے لیکن حالیہ برسوں میں یہ بحرا ن بہت زیادہ شدید اور تکلیف دہ ہوچکا ہے اور حکام کی تمام تر یقین دہانیوں کے باوجود اس کا کوئی ازالہ نہیں ہورہا۔ کشمیر کوقدرت نے پانی کے ذخائر سے مالا مال کیا تھا اور اگر یہ پانی کسی اندرونی یا بیرونی تنازعے کے بغیر استعمال میں لایا جاسکتا تو ماہرین کہتے ہیں کہ کشمیر کی اقتصادی پوزیشن خلیج کے چند امیر ممالک سے بڑھ کر نہ سہی تو بھی ان کے مماثل ہوجاتی لیکن شومئی تقدیر کہ کشمیریوں ہی کی مانند کشمیر کا یہ پانی ضائع تو ہوسکتا ہے لیکن اس خطے کے مفلسوں کے کام نہیں آسکتا! ایک غیر ملکی خبررساں ایجنسی کی جانب سے مشتہر ایک مضمون کی مانیں تو کشمیر20,000میگاواٹ پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو اس کی اقتصادی ترقی کے لیے ایک اہم محرک بن سکتا ہے، لیکن اس وقت یہ صرف3263میگاواٹ پیدا کررہا ہے۔سنہ2000کی دہائی کے اوائل میں توانائی کی ضروریات، کشمیر میں اقتدار کے لیے جدوجہد کرنے والی سیاسی جماعتوں کی پالیسیوں کا مرکز رہی ہیں۔علاقائی سیاسی جماعتیں اس وقت سے نیشنل ہائیڈرو پاور کارپوریشن (این ایچ پی سی) کے زیرانتظام سات پاور پراجیکٹس کی واپسی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔موجودہ3263میگاواٹ پن بجلی کی پیداواری صلاحیت میں سے،این ایچ پی سی ان منصوبوں سے 2900میگاواٹ پیدا کرتی ہے لیکن اس کا صرف13فیصد حصہ کشمیرکو ملتا ہے، جسے اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے ملک کے شمالی گرڈ سے زیادہ نرخوں پر بجلی خریدنا پڑتی ہے۔
کشمیر میں بجلی کے اس سخت ترین بحران کا کہیں سے کوئی ازالہ نظر نہیں آرہا ہے؛ایک ماہر اقتصاد سے بات کرتے ہوئے ہم نے جب وادی کی صنعت و حرفت پر بجلی کی عدم موجودگی کا ذکر چھیڑ دیا تو موصوف نے طنزیہ انداز میں کہا کہ میاں پچھلے دو ایک برسوں میں بجلی کٹوتی کے ساتھ ساتھ وولٹیج میں ہوشربا حد تک کمی نے جس طرح برق رفتاری کے ساتھ ترقی کی ہے،اسے2019 میں لئے گئے مرکزی سرکار کے فیصلوں کہ جن کے متعلق کہا گیا تھا کہ ان کے لیتے ہی یہاں دودھ اور شربت کی نہریں بہنے لگیں گی کے ساتھ جوڑ لو، تمیں پتہ چل جائے گا کہ نئی ٹکنالوجی کے جدید دور میں ترقی و تعمیر کس شکل و صورت میں ظاہر ہوجاتی ہے۔ یہ بات ایک حقیقت ہے کہ کم ازکم سرینگر اور جموں کے مرکزی مقامات میں اگرچہ بجلی کٹوتی ہوتی رہتی تھی لیکن وولٹیج میں کمی کبھی بھی نہیں کی جاتی تھی بلکہ یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ وادی میں1990 کے اوآخر میں جب سے شہری علاقوں میں میٹر نصب کئے گئے وولٹیج درست حد تک نہ سہی لیکن مناسب حد تک موجود رہتا تھا اور میٹر والے علاقوں میں جہاں کے لوگوں سے بجلی استعمال کرنے کے عوض موٹی رقوم حاصل کی جاتی ہیں کم سے کم کٹوتی کی جاتی تھی لیکن جب سے یہاںسویلین سرکار برخواست ہے تب سے اس معاملے میں بھی محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں اور کسی شعبے میں یکجہتی ہو نہ ہو اس شعبے میں سب امیر و غریب ،میٹررڈ و غیر میٹررڈ ،من توشدم تو من شدی، ہوچکے ہیں۔اس برس تو وادی کشمیرکے اندر اکتوبر سے ہی کٹوتی کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے اور ہر طرف سے ہاہاکار مچی ہوئی ہے۔
بجلی کٹوتی اور کم وولٹیج کا اثر اگرچہ ہر متنفس برداشت کررہا ہے لیکن اس کے سب سے بڑے شکار ہمارے طلبا و طالبات ہیں۔کہاں سردیوں میں گرمی کا انتظام کرکے اسکول اور کالج کھلے رکھنے کے دعوے تھے اور کہاں گھروں میں بھی پڑھنے اور مطالعے کے لئے مناسب سہولیات بہم نہ رکھنے کی حقیقت۔ یہ کھلاتضاد اور بے اعتنائی بہرحال ثابت کرتا ہے کہ فی الحقیقت سیاست کے سینے میں دل نام کی کوئی شئے موجود نہیں ہوتی
بجلی محکمہ کے اعلیٰ حکام نے سردیاں آتے ہی لوڈ شیڈنگ کا باقاعدہ نظام مرتب کرکے مشتہر کردیا لیکن یہ نظام بس کاغذوں پر ہی رہا کیونکہ وادی کے ہر علاقے کو شکایت ہے کہ کٹوتی کا سلسلہ اس مشتہر نظام سے حد گنا بڑھ کر ہے۔اس پر مستزاد یہ کہ وولٹیج اس قدر کم ہے کہ بلب کو موم کی شمع سے ڈھونڈنا پڑتا ہے اور یہ حالت سرینگر کے کئی میٹررڈ علاقوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ ایسے میں ضروری تھا کہ محکمہ بجلی لوگوں کی شکایات کے ازالے کے لئے کچھ کرنے کی ٹھان لیتا لیکن ہواہمیشہ کی طرح بس اُلٹ ہے۔ سردیاں آتے ہی ہمیں اس محکمے کے افسران غریب علاقوں کے اندر شبانہ چھاپے مارتے ، غیر قانونی کنڈیاں اُتارتے اور لوگوں پر جرمانے عائد کرتے ہوئے دکھے۔ یہ کام بھی ضروری ہیں لیکن یہ کہنا یا سوچنا کہ یہی کام ضروری ہے اور ایک اسی کام سے بجلی کا بحران حل ہوسکتا ہے بالکل لغو ہے۔ پھر یہ بات بھی ایک سچ ہے کہ یہ چھاپے اور بجلی چوریاں روکنے کےلئے محکمہ غریب علاقوں اور گھروں کا تو رخ کرتا ہے لیکن امیروں، وزیروں اور ایسے بے شمار مقامات اور تعمیرات کہ جہاں دن کے اُجالے میں بائیلر اور ہیٹر غیر قانونی کنڈے ڈال کر استعمال کئے جاتے ہیں،وہاں محکمے کے آفیسروں اور اہلکاروں کے پر جانے سے پہلے ہی جل جاتے ہیں۔ حیران کن بات ہے کہ ابھی ماہ نومبرکے آغاز میں کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ (کے پی ڈی سی ایل) نے کہا تھاکہ اچھی آمدنی پیدا کرنے والے میٹر رڈ علاقوں کو چوبیس گھنٹے بجلی فراہم کی جائے گی، جب کہ دیگر علاقوں میں تین سے چار گھنٹے بجلی کی کٹوتی کا شیڈول ہوگا۔نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کے پی ڈی سی ایل کے چیف انجینئرجناب جاوید یوسف نے کہا تھاکہ گزشتہ سردیوں کے مقابلے اس موسم سرما میں بجلی کی کم کمی ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ میٹر والے علاقوں میں جہاںکم آمدنی ہوتی ہے، وہاں3سے 4گھنٹے کی کٹوتی کا شیڈول ہو گا، جبکہ وہ علاقے جو اچھی آمدنی پیدا کرتے ہیں، وہاں چوبیس گھنٹے بجلی کی فراہمی ہو گی۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا تھا کہ گزشتہ سال کے مقابلے اس سال بجلی کی استعداد میں اضافہ کیا جائے گا اور یہ نظام بہتر طور پر چلے گا۔ لیکن اس بیان کی سیاہی ابھی خشک بھی نہ ہوئی ہوگی کہ بجلی کی آنکھ مچولی کانہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا جو ہنوز عوام الناس کی ناک میں دم کئے ہوئے ہے۔
ایک جانب سے کٹوتی کا پُر تعذیب سلسلہ اور دوسری جانب بجلی ٹیرف میں18فیصد کا بھرپور اضافہ کرکے انتظامیہ نے تو گویا عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کیا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ کڑاکے کی سردی میں آخر ایک عام غریب بندہ بجلی کے بغیر کس طرح گزارا کرسکتا ہے۔ گیس استعمال کرتا لیکن وہ بھی از حد مہنگا۔ بالن استعمال کرتا تو وہ بھی مفقود، کوئلہ اور مٹی کا تیل بھی عام انسان کی دست رس سے پرے ہوگیا ہے۔ پھر کیا ذریعہ ہے، کون سی ایسی شئے ہے کہ جس کو استعمال کرکے گاﺅں اور شہروں میں رہنے والے 75 فیصد سے بھی زائد غریب لوگ اپنے گھروںکو گرم اور اپنے چولہوں کو جلتا رکھ سکتے ہیں۔ 24گھنٹے میں سے جب بجلی12 گھنٹے غائب رہے گی اور آنے کے بعد جب اس کی وولٹیج100 سے بھی کم ہوگی تو بتائے کس کام کی ہے۔ خاص طور پر گاﺅں جات میں وولٹیج کمی کا مسئلہ اتنا ابتر ہے کہ کہنے کی بات نہیں۔ اعداد و شمار کے لحاظ سے بات کی جائے تو کشمیر کی قریب 73فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے۔چونکہ لوگوں کی اکثریت دیہی علاقوں میں رہ رہی ہے، اس لیے بنیادی سہولیات تک رسائی کم رکھنے والے لوگوں کا تناسب شہری علاقوں میں استعمال کرنے والے لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔یہ مسئلہ سردیوں اور ڈوبتے ہوئے درجہ حرارت میں اور بھی زیادہ پریشان کن ہوتا ہے۔
بجلی کٹوتی اور کم وولٹیج کا اثر اگرچہ ہر متنفس برداشت کررہا ہے لیکن اس کے سب سے بڑے شکار ہمارے طلبا و طالبات ہیں۔ جیسا کہ معلوم ہے حاکموں نے یہاں نومبر سیشن کو بدل کر طلاب کے لئے مارچ سیشن میں امتحانات منعقد کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ ایک انتظامی فیصلہ ہے جس کی اچھائیاں یا برائیاں گننا فی الوقت مطلوب نہیں ہے۔ لیکن اس فیصلے کے نتیجے میں اب کشمیر کے طلاب کو اپنے امتحانات کی تیاری کے لئے دسمبر سے فروری تک کا وقت ملا ہے۔ سردیاں عروج پر ہیں اور دن چھوٹے ہیں اس لئے اکثر طلاب شام اور رات کے اوقات میں مطالعہ کرتے ہیں۔ ایسے میں بجلی کی عدم موجودگی اور موجودگی کے وقت پر کم وولٹیج پر ترسیل کا معنی طلاب کے وقت اور پڑھائی کی بربادی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ کہاں سردیوں میں گرمی کا انتظام کرکے اسکول اور کالج کھلے رکھنے کے دعوے تھے اور کہاں گھروں میں بھی پڑھنے اور مطالعے کے لئے مناسب سہولیات بہم نہ رکھنے کی حقیقت۔ یہ کھلاتضاد اور بے اعتنائی بہرحال ثابت کرتا ہے کہ فی الحقیقت سیاست کے سینے میں دل نام کی کوئی شئے موجود نہیں ہوتی۔ بجلی کی نایابی کا ایک دوسرا پہلو سرکاری دفاتر میں کام کرنے والے ملازمین کے کام کرنے کی صلاحیت پر منفی اثربھی ہے۔ ملازم بھی آخر ایک انسان ہی ہے اور گوشت پوست کے انسان کو گرمی سردی پریشان کردیتی ہے۔ آفیسروں اور حکمرانوں کے گھر اور دفاتر تو اے سی اور ہیٹنگ سسٹم سے آراستہ و پیوستہ ہوا کرتے ہیں لیکن جن چھوٹے درجے کے ملازمین کو اصل امور انجام دینے ہوتے ہیں وہ چھوٹے سے بجلی ہیٹر جیسی سہولیت سے بھی محروم ہیں اور یوں سرکاری دفاتر نہ صرف یہ کہ ملازمین سے خالی نظر آتے ہیں بلکہ کام کرنے کی صلاحیت بھی حد درجہ گھٹ جاتی ہے جس سے عوام الناس کی پریشانیوں میں مذید اضافہ تو ہوتا ہی ہے حکومت کا کام کاج بھی از حد متاثر ہوجاتا ہے۔ بجلی کی کمی، کٹوتی اور کم وولٹیج کااثر سرکاری اور نجی ہسپتالوں پر بھی پڑتا ہے۔ آج کل کے دور میں اکثر دفاتر اور ہسپتال بالخصوص بجلی سے چلنے والے نظام اور گیجٹس کی بدولت ہی چلتے رہتے ہیں۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ہسپتالوں میں علاج معالجے کا سلسلہ بجلی کی عدم دستیابی میں ناممکن ہے۔ ایک مقامی ڈاکٹر جو ایک بڑے سرکاری ہسپتال میں اہم عہدے پر تعینات ہیں نام نہ لینے کی شرط پر بتایا کہ بجلی کی کٹوتی اور اس سے پیدا شدہ دوسرے مسائل نے ہسپتالوں کے نظام کو بھی تتر بتر کردیا ہے اور اس سے جہاں مریضوں ،تیماداروں اور دوسرے آنے جانے والوں کو مشکلات کاسامنا کرنا پڑرہا ہے وہیں پر ڈاکٹرز، پیرا مڈیکل اسٹاف اور دوسرے ملازمین نیز آپریشن تھیٹر،بکنگ سیکشن ،ہیٹنگ سسٹم بھی وقتاً فوقتاً متاثر ہوتا رہتا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شدیدسردی کے ایام میں جب کہ درجہ حرارت نقطہ انجماد سے کئی درجہ نیچے چلا جاتا ہے اور انسان کے لئے گرم پانی، گرم ملبوسات، گرم کمرے، گرم بسترے وغیرہ عیش و عشرت کا نہیں بلکہ ضرورت کا معاملہ بن جاتے ہیں ،بجلی کی عدم دستیابی کس طرح ختم کی جاسکتی ہے۔ قدرت نے کشمیریوں پر پانی، جنگلات ،وافر لکڑی اور دوسرے وسائل کی فراوانی رکھی تھی لیکن مختلف معاملات اور پریشانیوں کے باعث ہم ان قدرتی انعامات سے مستفیض ہونے سے محروم ہیں۔ کیا کبھی ایسا ہوسکتا ہے کہ انسانوں کو درپیش مسائل حل کئے جاسکیں اور انسان بحیثیت اشرف المخلوق قدرت کی فیاضیوں سے بہرہ مند ہوسکے۔ اُمید پر دنیا قائم ہے اور رحمتوں کی امیدواری رکھنا ہی عین ایمان ہے۔اسلئے ہم سب پراُمید ہیں کہ اچھے دن ضرور آئیں گے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شدیدسردی کے ایام میں جب کہ درجہ حرارت نقطہ انجماد سے کئی درجہ نیچے چلا جاتا ہے اور انسان کے لئے گرم پانی، گرم ملبوسات، گرم کمرے، گرم بسترے وغیرہ عیش و عشرت کا نہیں بلکہ ضرورت کا معاملہ بن جاتے ہیں ،بجلی کی عدم دستیابی کس طرح ختم کی جاسکتی ہے۔ قدرت نے کشمیریوں پر پانی، جنگلات ،وافر لکڑی اور دوسرے وسائل کی فراوانی رکھی تھی لیکن مختلف معاملات اور پریشانیوں کے باعث ہم ان قدرتی انعامات سے مستفیض ہونے سے محروم ہیں۔






